• اردو کی ادبی اصناف (ثانوی و اعلیٰ جماعت کے لیے)
  • سبق نمبر02:نثری اصناف

داستان کی تعریف

داستان ایک طویل اور مسلسل قصے کو کہتے ہیں جس میں واقعات کو پرکشش انداز میں اس طرح بیان کیا جا تا ہے کہ سامعین کی دلچسپی برقرار رہے۔ داستان کا فن بنیادی طور پر سننے اور سنانے کا فن رہا ہے۔ بہت بعد میں داستانوں کو تحریری شکل میں محفوظ کیا گیا۔ اب چوں کہ داستان گوئی کی روایت تقریباً ختم ہوگئی ہے اس لیے تحریری داستانوں کو ہی بنیاد بنا کر داستان کی اہم خصوصیات کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

داستان کا فن سامعین یا قاری کو باندھے رکھنے کا فن ہے۔ دلچسپی، اثر انگیزی، حیرت، استعجاب وغیرہ داستان کے لیے لازمی ہیں۔ اس لیے داستان میں معمولی باتوں کے بجائے غیر معمولی باتوں کے بیان پر زیادہ زور دیا جا تا ہے۔ ظاہر اور واضح کے بجائے پوشیدہ اور پراسرار چیزیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ حقیقت کی نقل کے بجائے خیال طرازی منطقی استدلال کے بجائے بعید از قیاس باتیں داستان کو دلچسپ اور پر اثر بناتی ہیں۔ داستان اپنے عہد کی ثقافتی دستاویز ہے۔ داستان اس عہد کے رہن سہن، رسم و رواج، انداز فکر اور لسانی رویوں کی مظہر ہوتی ہے۔ داستان میں ہمیشہ باطل پرحق کی فتح ہوتی ہے۔

داستان کے اجزائے ترکیبی

مرکزی کہانی

داستان میں ایک مرکزی کہانی ہوتی ہے۔ مرکزی کہانی کا موضوع عموماً عشق ، جنگ ،مہم یا مذہب ہوتا ہے۔ اردو میں عشقیہ اور مہماتی داستانوں کو زیادہ پسند کیا گیا۔ داستان گوئی کی ساری توجہ داستان کو دلچسپ بنانے پر ہوتی ہے۔ داستان کے کردار عام طور سے بادشاہ ، شہزادہ ، شہزادی ، کوئی مشہور دیو مالائی شخصیت یا معروف جنگجو ہوتے ہیں جو جرات ، مردانگی اور دلیری کے پیکر ہوتے ہیں۔

مرکزی کہانی کا ہیرو دشمنوں اور دشواریوں پر قابو پا کر منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔داستان میں طوالت اور دلچسپی کو قائم رکھنے کے لیے کئی ضمنی کہانیاں بھی ہوتی ہیں۔ضمنی قصوں کے کردار داستان کے ہیرو کے دوست ، رشتہ دار یا رقیب ہو سکتے ہیں۔ ضمنی قصے عام طور سے عشقیہ ہوتے ہیں۔ ان میں جنسی لذت آوری کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے تا کہ داستان میں قاری کی دلچسپی قائم رہے۔ اس کے علاوہ ضمنی قصے مزاحیہ رومانی ، مافوق الفطرت ، طلسماتی ،مہماتی اور تمثیلی قسم کے بھی ہوتے ہیں۔

قصہ در قصہ کی تکنیک داستان کے پلاٹ کو طول دینے میں کافی کار آمد ہوتی ہے۔ اس تکنیک میں ایک قصہ سے دوسرا قصہ ، دوسرے سے تیسرا شروع ہو جا تا ہے اور اصل قصہ بعض اوقات کہیں پس پشت جا پڑتا ہے۔ ایسا داستان کے پلاٹ میں پیچیدگی اور الجھاؤ لانے کے لیے کیا جا تا ہے جو کہ داستان کی تکنیک کے لحاظ سے پلاٹ کا عیب نہیں بلکہ اس کا حسن ہے۔

فضا:

داستان کی ایک اہم خصوصیت اس کی فضا ہے۔ داستان کی فضا میں زمان و مکاں کے لحاظ سے دوری کا وجود ضروری ہے۔ لہٰذا داستان میں پیش کردہ واقعات کا تعلق زمانہ قدیم سے دکھایا جاتا ہے مثلا کسی زمانے میں ایک بادشاہ تھا یا بہت زمانہ گزرا، ملک روم پر فلاں بادشاہ کی حکومت تھی۔ اسی طرح داستان میں دور دراز کے ملکوں کی کہانی بیان کی جاتی ہے۔ مثلاً بدخشاں ، روم ، بلخ ، یونان یا پھر کوئی خیالی ملک۔

مافوق الفطرت عناصر:

داستان کی ایک اہم خصوصیت اس میں مافوق الفطرت عناصر کی موجودگی ہے۔ ان عناصر سے مراد وہ عناصر ہیں جنھیں منطقی اور استدلالی ذہن قبول نہیں کرتا مثلاً دیو، جن، پری ، چڑیل وغیرہ داستان میں جا بہ جا نظر آتے ہیں جو غیر معمولی قوت اور صفات کے حامل ہوتے ہیں۔ جادو منتر کے زور پر وہ انسان کومکھی یا کسی جانور میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یا پھر انسان کی نظروں سے اوجھل رہنے کی ان میں صلاحیت ہوتی ہے یا پھر آن کی آن میں ہزاروں لاکھوں میل کا سفر کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ داستان میں ایسے چرند و پرند اور درندے ہوتے ہیں جو انسانی صفات و خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ مثلاً نفتگو کرنے والا طوطی ، تقریر کرنے والا بندر یا دوردراز کی خبر دینے والا کوئی اور جانور۔

کردار:

جدید فکشن کے اصولوں کے لحاظ سے داستانوں میں کرداروں کا ارتقا نہیں پایا جا تا اور نہ ہی وہ منفرد کہلاتےہیں۔ ان کرداروں کو یا تو تمثیلی کہا جاتا ہے یا ٹائپ (سپاٹ )۔ داستان میں حقیقی اور غیر حقیقی دونوں طرح کے کردار ہو سکتے ہیں۔ جیسے خلیفہ ہارون رشید، امیر حمزہ، حاتم طائی وغیرہ حقیقی کردار ہیں ۔لیکن یہ کردار داستان کے غیر ارضی یا تخیلی ماحول میں غیر یقینی اور مافوق الفطرت عمل کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے علاوہ دوسرے چند کردار غیر حقیقی ہوتے ہیں جیسے دیو، پری، جن ، آسیب اور عفریت وغیرہ۔ ان کے علاوہ پہاڑ ، پرندے، درخت وغیرہ بھی کردار کی صورت میں نظر آتے ہیں۔

اردو داستان کی روایت

اردو میں داستانیں نظم و نثر دونوں میں لکھی گئی ہے۔ سب رس اور قصہ مہر افروز و دلبر اردو کی پہلی داستانیں ہیں۔ داستان امیر حمزہ ، بوستان خیال ، آرائش محفل ، باغ و بہار ، فسانہ عجائب ، الف لیلہ، رانی کیتکی کی کہانی وغیرہ معروف نثری داستانیں ہیں۔ سحر البیان اور گلزارنسیم، مثنوی کی ہیئت میں منظوم داستانیں ہیں۔

اردو میں داستان امیر حمزہ طویل ترین داستان ہے جو کم و بیش چالیس ہزار صفحات میں چھیالیس جلدوں پرمشتمل ہے۔ اس میں طلسم ہوش ربا مشہور و معروف ہے جس کے بعض کردار مثلاً امیرحمزہ ،عمر وعیار، افراسیاب، ملکہ حیرت ، اندھوار بن سعدان وغیرہ خاصے جانے پہچانے کردار ہیں۔ اس کے علاوہ عمروعیار کی زنبیل سلیمانی جال طلسمی گولے اور انگوٹھیاں وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اس داستان میں قدم قدم پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوتے ہیں۔

اردو میں بعض معروف داستانیں مختصر ہیں یعنی صرف ڈھائی تین سو صفحات پر مشتمل مثلاً میر امن کی داستان باغ و بہار جو قصہ چہار درویش کا اردو ترجمہ ہے اور رجب علی بیگ سرور کی داستان ‘فسانۂ عجائب۔ ان داستانوں سےاردو زبان کے لسانی ارتقا کا پتا چلتا ہے۔

حکایت کی تعریف

حکایت نظم یا نثر میں ایسا مختصر قصہ ہے جس سے کوئی اخلاقی سبق ملتا ہو۔ اکثر حکایت کے کردار چوپائے اور پرندے وغیرہ ہوتے ہیں جن کے قول وعمل میں انسانی قول وعمل سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ یعنی حکایت دراصل تمثیلی کہانی ہے۔ بہت سی حکایات میں انسانی کردار بھی ملتے ہیں۔

ادب کی تاریخ میں حکایت کا سراغ چھٹی صدی قبل مسیح سے ملتا ہے۔ حکایات لقمان اس کی اولین مثال ہے۔ قدیم ہندوستانی عوامی قصے کہانیوں کو بھی حکایت کا نام دے سکتے ہیں۔ مثلاً پیچ تنتر ، جاتیک کہانیاں وغیرہ۔ ادب کے علاوہ بہت سی مذہبی روایات اور کتابوں میں بھی حکایات کا اچھا خاصا ذخیرہ موجود ہے۔ توریت ، انجیل اور قرآن میں بہت سے اخلاقی قصے شامل ہیں۔ سعدی کی گلستان و بوستان کی حکایتوں کے اردو میں متعدد ترجمے ہو چکے ہیں۔ ملا وجہی کی سب رس اور نشاطی کی طوطی نامہ میں بھی کئی حکایات ملتی ہیں۔

تمثیل کی تعریف اور روایت

تمثیل کے لغوی معنی ہیں مثال دینا ، مطابقت قائم کرنا۔ ڈرامے کی صنف کو بھی تمثیل کہا جا تا ہے۔ غیر مادی یا غیر مرئی چیزوں کو مرئی شکل میں پیش کرنا تمثیل کہلاتا ہے۔ تمثیل میں عموماً اخلاقی اصلاح کے نقطۂ نظر سے ذہنی تصورات کو مجسم کر کے کرداروں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی نیکی ، بدی، لالچ ، حسد عشق، غلامی ، عیاری، ہمت ، بزدلی وغیرہ تمثیل کے کردار ہوتے ہیں جنھیں عام انسانی کرداروں کے طور پر پیش کیا جا تا ہے۔

تمثیل بیانیہ کہانی کا قدیم ترین اسلوب ہے۔ مذہبی واقعات اور دیوی دیوتاؤں کے قصوں میں اس کی بہت سی مثالیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پچ تنتر اور انوار سہیلی کی کہانیاں تمثیلی کہانیاں ہیں۔ گوتم بدھ سے متعلق جاتک کہانیوں میں بھی تمثیل کا رنگ غالب ہے۔ انجیل اور قرآن کے بعض بیانات تمثیلی خصوصیت رکھتے ہیں۔

اردو میں ملا وجہی کی ‘سب رس تمثیل کی نمایاں مثال ہے جس میں قصۂ حسن و دل کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کے تمام کردارتمثیلی ہیں۔ سرسید کے بعض مضامین اور محمد حسین آزاد کے نیرنگ خیال کے مضامین بھی تمثیل کا اعلی نمونہ ہیں۔ مولوی نذیر احمد کے ناولوں میں بہت سے کردار اپنے ناموں کی وجہ سے تمثیلی کردار کہلاتے ہیں مثلاً توبتہ النصوح میں ظاہر دار بیگ کا کردار۔

سجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتحپوری کے افسانوں میں بھی تمثیل کی کارفرمائی دیکھی جاسکتی ہے۔ نئے لکھنے والوں نے خالص تمثیل کو نمونہ بنا کر بہت سے ایسے افسانے لکھے ہیں جن میں تمثیل کا رنگ پایا جا تا ہے مثلاً انتظار حسین ، جوگندر پال ، غیاث احمد گدی، اقبال مجید، سلام بن رزاق اور انور خاں وغیرہ کے کئی افسانے تمثیلی نوعیت کے ہیں۔ شاعری میں بھی کہیں کہیں تمثیل کا رنگ نظر آتا ہے۔