Advertisement
  • کتاب "نوائے اردو”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر11:غزل
  • شاعر کا نام: میر تقی میر

تعارف شاعر:

میرتقی میر 1722ءمیں آ گرے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد درویش صفت انسان تھے۔ میر کی نوعمری میں ان کے والد کا انتقال ہو گیا پھر میر دہلی آ گئے اور یہاں طویل عرصے تک رہے۔ یہاں خان آرزو کی صحبتوں نے ان کے ذوق شعر اور علم کوترقی دی اور بہت جلد وہ دہلی کے نمایاں شعرا میں گنے جانے لگے۔

دلی میں انھوں نے اچھے اور برے دونوں طرح کے دن گزارے، اپنے مربیوں کے ساتھ کچھ وقت راجپوتانے میں گزارا اور بالآخر 1782ء کے قریب وہ لکھنؤ آگئے۔ نواب آصف الدولہ نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا اورلکھنو میں ہی 1810ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے زمانے سے لے کر آج تک تمام شعرا اور ناقدین نے ان کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کیا ہے۔ انھیں خدائے سخن کہا جا تا ہے اور عام طور پرلوگ انھیں اردو کاسب سے بڑا شاعرقراردیتے ہیں۔

Advertisement

میر کی بڑائی اس میں ہے کہ انھوں نے زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بھی اپنی شاعری میں اتنی ہی خوبی سے جگہ دی ہے جس خوبی سے وہ رنج وغم کی بات کرتے ہیں۔ ان کی شاعری بظاہر سادہ ہے لیکن اس میں فکر کی گہرائی ہے۔

ان کے شعر دل کو چھوتے ہیں۔ میر اپنی شاعری میں لفظوں کو نئے نئے رنگ سے استعمال کرتے ہیں اور اپنے کلام میں نئے نئے معنی پیدا کرتے ہیں۔ میر نے ہر صنف سخن میں طبع آزمائی کی ہے لیکن ان کا اصل میدان غزل اور مثنوی ہے۔ اردو میں ان کا کلیات شائع ہو چکا ہے۔انھوں نے”ذکر میر” کے نام سے فارسی زبان میں آپ بیتی لکھی اور” نکات الشعرا”کے نام سے اردو شاعروں کا تذکرہ لکھا جسے اردو شعرا کا پہلا تذکرہ تسلیم کیا جا تا ہے۔

Advertisement

غزل کی تشریح:

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا
لوہو آتا ہے جب نہیں آتا

یہ شعر میر تقی میر کی غزل سے لیا گیا ہے اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ آنکھوں میں کب آنسو نہیں آتے ہیں۔ دل کا درد اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ ہر وقت آنکھوں سے اشک جاری رہتے ہیں۔یہ اشک ویسے نہیں رکتے لیکن جب یہ اشک نہ بہہ رہے ہوں اس وقت دل خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے۔

ہوش جاتا نہیں رہا لیکن
جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے ہوش و حواس سب اپنی جگہ پر صحیح سلامت موجود ہیں مگر جب کبھی میرا سامنا میرے محبوب سے ہوتا ہے یا وہ میرے سامنا آتا ہے تب میرے ہوش اپنی جگہ پر قائم نہیں رہتے ہیں۔

صبر تھا ایک مونس ہجراں
سو وہ مدت سے اب نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب سے جدائی کی صورت میں میرے پاس بس ایک ہی ہمدرد اور ساتھی موجود تھا اور وہ چارہ صبر تھا۔مگر اب ایک مدت گزر چکی ہے کہ اس نے بھی میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور اب مجھے کسی صورت صبر بھی نہیں آتا ہے۔

Advertisement
دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش
گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرا دل گریہ و آہ زاری کر رہا ہے اور اس دل کی یہ آہ و زاری بے سبب نہیں ہے بلکہ ابھی ابھی اس دل میں بسنے والی کسی اور خواہش کی موت واقع ہوئی ہے اور یہ آہ و زاری بھی اسی کا نتیجہ ہے۔

جی میں کیا کیا ہے اپنے اے ہمدم
پر سخن تا بہ لب نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے محبوب تمھارے سمانے بیان کرنے کے لیے میرے دل میں لاکھوں نہیں ہزاروں باتیں موجود ہیں۔مگر یہ زبان وہ سب کچھ تمھارے سامنے بیان کرنے سے قاصر ہے۔جو بات دل میں موجود ہے وہ لبوں پر نہیں آپاتی ہے۔

Advertisement
دور بیٹھا غبار میرؔ اس سے
عشق بن یہ ادب نہیں آتا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عشق کی منازل میں ادب ایک اہم منزل ہے اور میں اسی ادب کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اب تمھیں بنا پائے خاک بن چکا ہوں۔اگر اب بھی تم تک رسائی پانا چاہوں تو پا سکتا ہوں مگر میرا ادب اس کے آڑے آ جاتا ہے۔

سوالوں کے جواب لکھیے:-

سوال نمبر01:پہلے شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

پہلے شعر میں شاعرکہنا چاہتا ہے کہ میرے درد کی شدت ہر وقت میری آنکھوں سے اشکوں کو جاری رکھتی ہے اور یہ اشک جب تھمتے ہیں تو تب دل خون کے آنسو رو رہا ہوتا ہے۔

Advertisement

سوال نمبر02:شاعر نے گریہ آنے کا کیا سبب بتایا ہے؟

شاعر نے گریہ آنے کا سبب دل سے کسی خواہش کے رخصت ہونے کو بتایا ہے۔

سوال نمبر03:اس غزل کے مقطعے کا مطلب اپنے الفاظ میں لکھیے۔

اس غزل کے مقطعے میں شاعر کہنا چاہتا ہے کہ عشق کی منازل میں ادب ایک اہم منزل ہے اور میں اسی ادب کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اب تمھیں بنا پائے خاک بن چکا ہوں۔اگر اب بھی تم تک رسائی پانا چاہوں تا پا سکتا ہوں مگر میرا ادب اس کے آڑے آ جاتا ہے۔

Advertisement

عملی کام:-

اس غزل میں کون کون سے قافیے استعمال ہوئے ہیں لکھیے۔

جب ،تب،اب ،سبب،لب،کب وغیرہ۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement