دوہا اصلا ایک ہندی صنف ہے۔ اس کے دونوں مصرعوں میں 24 ماترائیں ہوتی ہیں، پہلے مصرعے میں سترہ اور دوسرے میں گیارہ ماترائیں۔ گویا اس کا وزن : فعلن فعلن فاعلن فعلن فعلن فع / فاع پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ دونوں مصرعے معنوی اعتبار سے اپنے آپ میں مکمل ہوتے ہیں۔

دوہا غزل کے مطلع کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں ردیف کی قید نہیں ہوتی لیکن قافیہ ضرور ہوتا ہے۔ دوہا ہندی اور اردو دونوں زبانوں کا مشترک ورثہ ہے۔ اس میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی بھر پور عکاسی ملتی ہے۔

دکنی شعرا کے کلام میں دوہے کی مثالیں موجود ہیں۔ ان کے بعد ایک لمبے عرصے تک اردو ادب کی تاریخ دوہے کی روایت سے خالی رہی لیکن اب اس کا چلن پھر سے بڑھ رہا ہے۔اپنی ساخت اور غنائیت کے باعث یہ صنف ہر دور میں مقبول رہی۔ امیر خسرو، کبیر، تلسی داس ، سورداس ، بہاری اور عبدالرحیم خان خاناں وغیرہ کے دوہے آج بھی اپنا اثر رکھتے ہیں۔

اردو ادب کے ابتدائی دور میں دوہے کی صنف کو صوفی شعرا نے بہت ترقی دی۔ یہ ایک عوامی صنف ہے اس لیے بہت سے گم نام اردو دوہوں کا ذخیرہ بھی ملتا ہے۔ میراں جی شمس العشاق کو اردو کا پہلا دوہا نگار تسلیم کیا جا تا ہے۔ ان کی کتاب خوش نامہ میں دوہے کثرت سے ملتے ہیں۔ امیر خسرو، شیخ شرف الدین یخی منیری ، بوعلی شاہ قلندر،وغیرہ نے اس فن کو پروان چڑھایا۔

جدید دور میں جمیل الدین عالی ، ناصر شہزاد جمیل ہوشیار پوری، پرتو روہیلہ ، عابد پیشاوری ، بھگوان داس اعجاز اور ندا فاضلی، شاہد میر اور ظفر گورکھپوری وغیرہ کے نام دوہا نگاری کے ذیل میں اہم ہیں۔ اردو دوہے کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے :

کبیرا کھڑا بجار میں مانگے سب کی کھیر
تا کوہو سے دوستی نا کوہو سے بیر
(کبیرداس)
رحمین دھاگا پریم کا مت توڑو چٹکائے
ٹوٹے سے پھر نا جڑے، جڑے گانٹھ پڑی جاۓ
عبدالرحیم خان خاناں
عمر گنواکر پیت میں اتنی ہوئی پہچان
چڑھی ندی اور اتر گئی، گھر ہو گئے ویران
جمیل الدین عالی
چڑیا نے اڑ کر کہا میرا ہے آکاش
بولا شکرا ڈال سے یوں ہی ہوتا کاش
ندا فاضلی