سانیٹ چودہ مصرعوں پر مشتمل انگریزی شاعری کی ایک اہم صنف ہے جو ایک مخصوص بحر میں لکھی جاتی ہے۔ اس کے مصرعوں میں قوافی کی ترتیب مقررہ اصولوں کے تحت ایک خاص انداز میں ہوتی ہے۔

سانیٹ میں صرف ایک خیال، جذبے یا احساس کی ترجمانی کی جاتی ہے۔ یہ خیال یا جذ بہ اکثر نقطۂ عروج تک پہنچ جاتا ہے ۔ وحدت خیال اور شدت احساس سانیٹ کے لازمی عناصر ہیں۔

سانیٹ اطالوی لفظ سانیٹ سے بنا ہے جس کے معنی مختصر آواز یا راگ کے ہوتے ہیں۔ اس کا آغاز اطالوی زبان میں ہوا۔ انگریزی میں بھی اسے مقبولیت ملی۔ بعض اطالوی اور انگریزی شاعروں نے سانیٹ کے چودہ مصرعوں کو آٹھ اور چھے مصرعوں کے دوبندوں میں تقسیم کر کے لکھا ہے۔ آٹھویں مصرعے کے اختتام پر ایک وقفہ ہوتا ہے اور نویں کا موڑ شروع ہوتا ہے جسے گریز کہا جا سکتا ہے۔

انگریزی میں شیکسپیئر ،ملٹن اور ورڈز ورتھ نے اس صنف کو خوب فروغ دیا۔ اردو میں اختر شیرانی نے اس صنف کی جانب خاص طور پر توجہ دی۔ ان کے سانیٹ کا مجموعہ شعرستان ہے۔ اردو کے سانیٹ نگاروں میں عظیم الدین احمد، حسرت موہانی ، اختر جونا گڑھی، ن۔م۔ راشد وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔ سانیٹ کی ایک مثال :

نکل کر جوئے نغمہ خلد زار ماہ و انجم سے
فضا کی وسعتوں میں ہے رواں آہستہ آہستہ
یہ سوۓ نوحہ آباد جہاں آہستہ آہستہ
نکل کر آ رہی ہے اک گلستان ترنم سے
ستارے اپنے میٹھے مدھ بھرے ہلکے ترنم سے
کیے جاتے ہیں فطرت کو جواں آہستہ آہستہ
سناتے ہیں اسے اک داستاں آہستہ آہستہ
دیار زندگی مدہوش ہے ان کے تکلم
یہی عادت ہے روز اولیں سے ان ستاروں کی
چمکتے ہیں کہ دنیا میں مسرت کی حکومت ہو
چمکتے ہیں کہ انساں فکر ہستی کو مٹا ڈالے
لیے ہے یہ تمنا ہر کرن ان نور پاروں کی
کبھی یہ خاکداں گہوارۂ حسن و لطافت ہو
کبھی انسان اپنی گم شدہ جنت کو پھر پالے
ن،م،راشد(ستارے)