پیروڈی ایک مقبول صنف ہے۔ اس میں کسی شعری یا نثری تحریر کی تحریف کی جاتی ہے ۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ جس فن پارے کو پیروڈی کے لیے بنیاد بنایا جاۓ وہ مقبول ہو تبھی اس سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ بعض دفعہ محض لفظی تبدیلیوں سے مزاح پیدا ہو جاتا ہے۔ تحریف کا اصل مقصد زندگی کی ناہمواریوں کو طنز کا نشانہ بنانا ہوتا ہے۔

پیروڈی میں ادبی یا نظریاتی خامیوں یا اختلافات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اور ان کا مضحکہ اڑایا گیا ہے۔ اردو میں پیروڈی کی روایت کو فروغ دینے والے اکبر الہ آبادی ہیں۔ ان کے ہم عصروں میں رتن ناتھ سرشار اور تربھون ناتھ ہجر نے بھی اودھ بیچ میں کئی پیروڈیاں لکھیں۔ کنھیا لال کپور، سیدمحمد جعفری ، پطرس بخاری ، راجہ مہدی علی خاں ، فرقت کا کوروی اور دلاور فگار نے بھی پیروڈیاں لکھی ہیں ۔ کنھیا لال کپور نے اپنے فیچر غالب جدید شعرا کی محفل میں میں کئی شعرا کی پیروڈی کی ہے۔ اس فیچر سے ماخوذ فیض کی نظم ‘تنہائی کی پیروڈی ملاحظہ کیجیے :

تنہائی

فون پر آیا دل زار نہیں فون نہیں
سائیکل ہوگا کہیں اور چلا جاۓ گا
ڈھل چکی رات اترنے لگا کھمبوں کا بخار
کمپنی باغ میں لنگڑانے لگے سرد چراغ
تھک گیا رات کو چلا کے ہر اک چوکیدار
گل کرو دامن افسردہ کے بوسیدہ چراغ
یاد آتا ہے مجھے سرمۂ دنباله دار
اپنے بے خواب گھروندے ہی کو واپس لوٹو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آۓ گا