Advertisement

ڈائری کو اردو میں یادنگاری، بیان، روز نامچہ، دستکی اور یادداشت سے بھی موسوم کیا گیا ہے۔ ڈائری انتہائی ذاتی نوعیت کی تحریر ہوتی ہے۔ ڈائری نگار کی دلچسپی ، اس کے خیالات، تصورات اور شخصیت کانکس اس کے ہر صفحے پرمحسوس کیا جاسکتا ہے۔

سوانح لکھنے والے کے لیے ڈائری نگار کی بیاض اور اس کے مکتوبات اہم ماخذ ہوتے ہیں۔ڈائری ہر آدمی لکھ سکتا ہے ۔ ڈائری نگار کو کسی موضوع و مسئلے پر گھنٹوں غور وفکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن ڈائری اس وقت ڈائری کہلاۓ گی جب کہ ڈائری لکھنے والے کے تجربوں میں کچھ ایسی باتیں بھی ہوں جو دوسروں کے لیے دلچسپ ہوسکیں۔

Advertisement

کسی نہ کسی شعبہ زندگی میں ڈائری نگار اگر کوئی اہم مقام رکھتا ہے اور سماجی سطح پر مقبول خاص و عام بھی ہے تو اس کی ڈائری بھی دلچسپ ہوسکتی ہے۔

Advertisement

ڈائری کی دوقسمیں ہیں۔ ایک ذاتی اور دوسری محاضراتی۔ ذاتی سے مراد وہ ڈائری ہے جس کا موضوع ابتدا سے انتہا تک لکھنے والے کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ اپنی ذات سے وابستہ دیگر مظاہر اور اشخاص کا ذکر بھی کرتا ہے لیکن دوسری چیزوں کے مقابلے میں اس کی توجہ اپنی ذات پر زیادہ ہوتی ہے۔

Advertisement

محاضراتی سے مراد وہ ڈائری ہے جس میں مصنف اپنی ذات پر توجہ کم دیتا ہے۔ حالات حاضرہ اور دیگر قسم کی سرگرمیوں پر اس کی نگاہ زیادہ ہوتی ہے۔ خواجہ حسن نظامی کی یادداشتیں یا روز نامچے اس کی عمدہ مثالیں ہیں جن میں وہ اپنی ذات سے زیادہ سیاسی ، سماجی اور تہذیبی سرگرمیوں کو اپنی ڈائری کا موضوع بناتے ہیں۔

اختر انصاری کی ادبی ڈائری، سجاد ظہیر کی کتاب روشنائی کو ادبی ڈائری کہا جا سکتا ہے۔ فیض کی ماہ و سال آشنائی بھی ادبی ڈائری کی مثال ہے۔ اردو میں مولوی مظہر علی سند یلوی اور محمد علی ردولوی کے روز نامچوں کا شمار بھی یادگار ڈائریوں میں کیا جاتا ہے۔

Advertisement
Advertisement