• کتاب "سب رنگ” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر09:نظم
  • شاعر کا نام: ساحر لدھیانوی
  • نظم کا نام: اے وطن کی سر زمین

تعارف شاعر:

ساحر کا اصل نام عبدالئی تھا۔ وہ لدھیانہ ( پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ طالب علمی کے وقت ہی سے مر کہنے لگے اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ تلاش معاش میں پہلے دہلی آئے پھرمبئی چلے گئے۔ یہاں انھوں نے فلموں کے لیے گیت لکھے۔

ساحر نے اپنی شاعری سے ہندوستانی فلمی گانوں کا معیار بہت بلند کیا۔ وہ اپنے زمانے کے بہت مشہور گیت کار تھے۔ فلمی گیتوں میں بھی ان کی شاعری کی خوبیاں موجود ہیں۔ عوام کے دکھ درد کا احساس ان کے گیتوں میں نمایاں ہے۔ تلخیاں ‘ پر چھائیاں اور آؤ کہ کوئی خواب بنیں ان کے اہم شعری مجموعے ہیں۔ گا تا جائے بنجارہ ساحر کے فلمی گیتوں کا مجموعہ ہے۔

نظم اے وطن کی سر زمین کی تشریح:

یوں تو حسن ہر جگہ ہے لیکن اس قدر نہیں
اے وطن کی سر زمیں
یہ کھلی کھلی فضا یہ دھلا دھلا گگن
ندیوں کے پیچ و خم پر بتوں کا بانکپن
تیری وادیاں جواں تیرے راستے حسیں
اے وطن کی سر زمیں

یہ اشعار ساحر لدھیانوی کی نظم سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر اپنے وطن سے محبت اور اس کی خوبصورتی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ویسے تو دنیا میں ہر جگہ حسن پایا جاتا ہے مگر میرے وطن کی سر زمین بے حد حسین ہے۔اس کی فضا بہت کھلی کھلی اور اس کا آسمان نکھرا نکھرا دکھائی دیتا ہے۔ اس وطن کی ندیاں پربتوں کے پیچ میں اپنا بانکپن دکھاتی ہیں اور میرے وطن کی وادیاں اور یہاں کے راستے حسین ہیں۔

تیری خاک میں بسی ماں کے دودھ کی مہک
تیرے روپ میں رچی سورگ لوک کی جھلک
ہم میں ہی کمی رہی تجھ میں کچھ کمی نہیں
اے وطن کی سر زمیں

شاعر ان اشعار میں کہتا ہے کہ اے میرے وطن کی سر زمین تمھاری مٹی میں ماں کے دودھ کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ تمھارا روپ اور حسن جنت کی جھلک پیش کرتا ہے۔اگر کوئی کمی موجود ہے تو وہ ہم میں موجود ہے تمھارے حسن میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہے۔میرے وطن کی سر زمین بہت حسین و زرخیز ہے۔

نعمتوں کے درمیاں بھوک پیاس کیوں رہے
تیرے پاس کیا نہیں تو اداس کیوں رہے
عام ہوگی وہ خوشی جو ہے اب کہیں کہیں
اے وطن کی سر زمیں

ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ ہمیں کئی نعمتیں عطا کی گئی ہیں۔کئی ساری نعمتیں اس وطن کی عطا ہیں۔ یہی وجہ کہ نہ ہم بھوکے پیا سے رہتے اور نہ ہی اداسی کی کوئی وجہ ہے۔عنقریب وہ خوشیاں جو کم ہیں وہ ہر جگہ عام ہو جائیں گی۔کیوں کہ میرے وطن کی سر زمین بہت حسین ہے۔

تیری خاک کی قسم ہم تجھے سجائیں گے
ہر چھپا ہوا ہنر روشنی میں لائیں گے
آنے والے دور کی برکتوں یہ رکھ یقیں
اے وطن کی سر زمیں

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ اے میرے پیارے وطن تمھاری مٹی کی قسم ہے کہ ہم اپنا حق ادا کریں گے اور ہمیشہ تمھیں سجائیں گے۔تمھاری جو خوبیاں پوشیدہ ہیں ان کو ہم ظاہر کریں گے اور دنیا کے سامنے لائیں گے۔بس ہمیں آنے والے دور کی برکتوں پر یقین رکھنا ہے کیونکہ ہمارے وطن کی سر زمین بہت حسین ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

پہلے بند میں شاعر نے وطن کی کن خوبیوں کا ذکر کیا ہے؟

پہلے بند میں شاعر نے وطن سے محبت اور اس کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے کہ ویسے تو دنیا میں ہر جگہ حسن پایا جاتا ہے مگر میرے وطن کی سر زمین بے حد حسین ہے۔اس کی فضا بہت کھلی کھلی اور اس کا آسمان نکھرا نکھرا دکھائی دیتا ہے۔ اس وطن کی ندیاں پربتوں کے پیچ میں اپنا بانکپن دکھاتی ہیں اور میرے وطن کی وادیاں اور یہاں کے راستے حسین ہیں۔

وطن کی خاک میں کس چیز کی مہک بسی ہوئی ہے؟

وطن کی خاک میں ماں کے دودھ کی مہک بسی ہوئی ہے۔

شاعر کو اپنے وطن کے روپ میں کیا نظر آتا ہے؟

شاعر کو اپنے وطن کے روپ میں سورگ یعنی جنت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

شاعر نے اداس نہ ر ہنے کی بات کیوں کہی ہے؟

شاعر نے وطن میں موجود ڈھیروں نعمتوں کی وجہ سے اداس نہ رہنے کو کہا ہے۔

شاعر وطن کو کس طرح سجانا چاہتا ہے؟

شاعر وطن کے اندر چھپے ہنر اور چیزوں کو باہر لا کر وطن کو سجانا چاہتا ہے۔