استاد کا احترام پر مضمون

دنیا میں بہت سارے رشتے ہوتے ہیں جو انسان سے جڑے ہوتے ہیں۔ جن میں سے کچھ رشتے خون کے ہوتے ہیں اور کچھ رشتے روحانی ہوتے ہیں۔ انہیں رشتوں میں سے ایک استاد کا رشتہ ہے۔ اسلام میں استاد کا مرتبہ ماں باپ کے برابر ہے کیونکہ ایک استاد ہی ہے جو ماں باپ کے بعد اصل زندگی کے معنی سکھاتے ہیں، ہمیں زندگی جینا سکھاتے ہیں۔ صحیح اور غلط کی پہچان کرنا سکھاتے ہیں۔

دنیا میں جتنے بھی رشتے ہیں ان سب سے مقدس رشتہ استاد اور شاگرد کا ہی مانہ جاتا ہے۔ دونوں رشتے اس وقت تک ترقی نہیں کرتے جب تک دونوں طرف سے احترام اور ادب نہ ہو۔ شاگرد کے لیے تو یہ بہت ہی زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے استاد کا احترام اور ادب آخری دم تک کرے۔ اپنے استاد کو اہمیت دے اور اپنے استاد کی عزت کرے۔

تعلیم اور تربیت میں استاد کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے اپنی شان اس طرح سے بیان کی کہ مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔ تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ استاد کا مرتبہ اس کا درجہ کتنا زیادہ بلند ہے کہ نبی کریمﷺ خود اپنی تعریف خود کو معلم بتاکر کر رہے ہیں۔نبی کریمﷺ ہم سب کو علم سکھانے کے لیے اس دنیا میں آئے۔ لہذا وہ ایک استاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور استاد کے نظریہ سے ان کی شان و عزت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ ایسا رتبہ ایسا مقام ہے استاد کا۔

حضور فرماتے ہیں کہ تم میں وہ شخص بہترین ہے جو پہلے خود قرآن سیکھے اور پھر دوسروں کو سکھائے۔ یہاں پر استاد کی اہمیت اور فضیلت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے نبی نے ایک اور مقام پر استاد کی محبوبیت اور اس کی فضیلت کو اس طرح سے بیان کیا ہے کہ لوگوں کو جو بھلائی سکھاتا ہے اس پر اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ سمندر کے اندر کی مچھلیاں اور بلوں میں رہنے والی چیونٹیاں بھی اس کے لیے رحمت کی دعا کرتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالی اس پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی اور تمام مخلوقات کی دعا اس کے لئے ہے۔ کیونکہ وہ لوگوں کو علم سکھا رہا ہے۔ علم کا مرتبہ بہت بڑا ہے اور علم و تعلیم دینے والے کا مرتبہ و مقام بھی بہت بڑا ہے۔

نبی کریم ﷺ نے ایک اور جگہ پر استاد کے حوالے سے فرمایا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اس انسان کو تروتازہ رکھے جس نے مجھ سے کوئی بات سنی اور اس بات کو یاد رکھا اور ویسے ہی دوسروں کو بھی سکھا دیا۔ تو اس طرح سے استاد کا مقام اور استاد کا احترام کتنے عظیم الشان طریقہ سے بیان فرمایا گیا ہے۔ اس طرح ہمیں خود اس بات کا اندازہ لگا لینا چاہیے کہ استاد کا مرتبہ اور اس کا احترام کتنا بلند ہے۔

استاد ایک چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ استاد وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن اور دوستی کا پیغام دیتا ہے۔ استاد ایک ایسا رہنما ہے جو لوگوں کو گمراہی سے نکال کر منزل کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ جس طرح ماں باپ کا کردار اہم ہے کیونکہ وہ اپنی اولاد کی جسمانی طور پر اس کی صحت اس کے نشونما کا خیال رکھتے ہیں اسی طرح استاد اپنے شاگرد کی روحانی تربیت کا انتظام اور احترام کرتا ہے۔

کسی نے بہت خوب بات کہی کہ میرے والدین بھی بڑی عظمت والے ہیں اور میرے استاد بھی۔ لیکن میں تو یہ دیکھتا ہوں کہ میرے ماں باپ مجھے آسمان سے لے کر زمین پر آئے اور استاد نے زمین سے آسمان تک پہنچا دیا۔

اگر ہم تعلیم کی بات کریں٬ اسکول کالج کی بات کریں٬ تو استاد کا ایک بہت بڑا مقام ہے۔ جہاں استاد کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے٬ وہیں طالبات کو بھی یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ وہ اپنے استاد کا ادب و احترام کریں۔ اگر استاد اچھی تربیت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور بچہ اچھی تربیت لینے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو آگے چل کر بچہ اپنے استاد کا نام روشن کرتا ہے۔اللہ پاک ہمیں اپنے اساتذہ کرام کی قدر اور احترام نصیب فرمائے۔ آمین۔

Advertisements