جہاد پر ایک مضمون

جہاد ایک عربی لفظ ہے جس کو اردو میں ہم جد و جہد کرنا کہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص جب معاشرے کو سدھارنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے اسے جہاد کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی اگر ظلم کے خلاف لڑ رہا ہے اسے جہاد کہتے ہیں۔

جہاد کا صحیح معنی صرف جدوجہد ہے جسے کئی طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم امتحان میں پاس ہونے کے لیے جد وجہد کرتا ہے تو اسے عربی میں کہیں گے کہ وہ جہاد کر رہا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں جدوجہد کر رہا ہے تو اسے کہیں گے جہاد فی سبیل اللہ۔ بہت سے غیر مسلم لوگ جہاد کا مطلب صرف لڑائی جھگڑا کرنا یا انسانوں کو قتل کرنا سمجھتے ہیں جبکہ یہ بالکل غلط ہے۔

جس طرح مالداروں کا امتحان زکوۃ سے اور دنیا داروں کا امتحان لباس سے لیا گیا ہے کہ وہ راہ مولیٰ عزوجل میں اپنا مال وقف و صرف کریں اسی طرح سے جاندار کا امتحان جہاد سے ہے کہ وقت آنے پر اللہ کی راہ میں اگر انہیں اپنی جان بھی دینی پڑے تو وہ اپنی جان کو قربان کر دیں۔

گویا میدان جنگ محبت کی کسوٹی ہے۔ محبت دنیا تمام گناہوں کی جڑ ہے۔ جہاد سے یہ دنیاوی محبت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ جب انسان جنگ کی وادی میں قدم رکھتا ہے تو وہ اپنے مال، اولاد اور جان ہر چیز سے منہ پھیر لیتا ہے اور اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

دنیا میں شجاع اور سخی آدمی ہی عزت و آبرو سے رہ سکتے ہیں۔ کمزور آدمی دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارتا ہے۔ جہاد سے شجاعت حاصل ہوتی ہے اور سخاوت بھی۔ کیوں کہ جو جان کی سخاوت کرسکتا ہے تو وہ مال کی بھی کرسکتا ہے۔

زندگی عبادت کے لیے ہے لیکن عبادت آزادی سے اور آزادی جہاد سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر مسلمان کے پاس جہاد کی طاقت نہ ہو تو طاقتور قومیں مسجدیں بھی شہید کر سکتی ہیں۔ اور مسلمان کو نماز سے بھی روک سکتی ہیں۔ جیسے کہ تندرستی کے لیے بیماری کے اسباب دور کرنا بہت ضروری ہے اسی طرح دینی قوت کے لیے غلبہ کفر کے اسباب مٹانا لازمی ہے اور یہ بات جہاد سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ انسان بعد موت دنیا میں آنے کے سوائے مجاہد شہید کے کوئی اور تمنا نہیں کرتا۔ ایک شہید انسان اللہ تبارک و تعالی سے عرض کرے گا یا میرے اللہ مجھے پھر سے اسی گرم ریت کی تمنا ہے۔ اور زخم کھا نے کی آرزو ہے۔ اور تلوار کی جھنکار سننے کا شوق ہے جو میدان جہاد میں سنی تھی۔ لیکن اللہ تبارک وتعالی کسی کو امتحان میں پاس کر کے دوبارہ امتحان میں نہیں ڈالتا۔ مجاہد شہید کو جان دینے کی تکلیف بہت ہی کم ہوتی ہے۔ بلکہ چیونٹی کاٹنے جتنی تکلیف ہوتی ہے۔

ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں تمنا کرتا ہوں کہ راہ الہی میں جہاد کروں اور شہید ہو جاں۔ پھر زندہ ہوجاوں اور پھر شہید ہو جاؤں۔ جنت کے سو درجے مجاہد شہید کے لئے خاص ہیں جن کے درمیانی حصے کا نام فردوس ہے اور اس حصے سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔ جہاد کے بغیر مومن کی ترقی نہیں ہوسکتی اور جہاد کرنے والا بنا حساب کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔

جہاد پر ایک تقریر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Advertisements