صدرذی وقار محترم سامعین! السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا عنوان بہت اہم ہے جو کہ شریعت نے ہر ذی روح پر فرض کر رکھا ہے۔
یہ عنوان کچھ اور نہیں بلکہ جہاد ہے۔

جہاد سے مراد کسی نیک کام میں انتہائی طاقت و کوشش صرف کرنا اور ہر قسم کی تکلیف اور مشقت برداشت کرنا ہے۔ لفظ ‘جہاد’ کے معنی حق کی حمایت میں انتہائی کوشش کے ہیں۔ یہ لفظ جنگ کے مترادف نہیں ، جسے عربی میں قتال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رضائے الہی کے حصول کے لیے کی جانے والی ہر قسم کی جدوجہد لفظ ‘جہاد’ کے معنوی حدود میں داخل ہے۔ مجاہد وہ شخص ہے ، جو خلوص دل سے خود کو اس مقصد کے لیے وقف کردیتا ہے اور اپنی تمام تر جسمانی ، ذہنی و روحانی صلاحیتوں کو اس راستے میں صرف کرتا ہے۔ اور اپنی تمام توانائیوں کو کام میں لاتے ہوئے مخالف قوتوں کو زیر کرتا ہے ، حتی کہ ضرورت پڑنے پر اپنی جان تک کی پروا نہیں کرتا۔

عالی وقار!
قرآن کی روشنی میں جہاد کی وضاحت کرتا ہوں۔
"جو مسلمان (گھروں میں ) بیٹھے رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔”
(القرآن)

مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہیں اور رحمت میں اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔
(النساء۔۹۵۔۹۶)

جہاد کی گویا بہت اہمیت ہے۔ جس کی تاکید اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے کی ہے۔ اس کو سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ایک حدیث مبارکہ پیشِ خدمت ہے :

"جب سے اللہ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے، جہاد جاری رہے گا یہاں تک کہ میرا آخری امتی دجال سے جنگ کرے گا ، اسے کسی ظالم (حکمران) کا ظلم اور عادل کا عدل باطل نہیں کرے گا۔”
(سنن ابی داؤد: ۲۵۳۲، سنن سعید بن منصور: ۲۳۶۷)

اللہ کی راہ میں کفار اور دنیا پر فتنہ پھیلانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا حق گوہ بن کر ابھرنا جہاد ہی کی قسم ہے۔ قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ عرض کرنے کی عادت حاصل کروں گا :
"تمہارے اوپر قتال فرض کیا گیا ہے اور یہ تمہیں ناپسند تھا۔” (سورۃ البقرہ: ۲۱۶)

جہاں دوسری جنگوں میں دنیا دار قوموں کے دل گوناگوں دنیاوی اور نجی اغراض و مقاصد سے لبریز ہوتے ہیں۔ کہیں ملک گیری کی ہوس کار پرداز ہوتی ہے، کہیں مال و دولت اکٹھا کرنے کی حرص کا غلبہ ہوتا ہے تو کہیں نام و نمود اور شہرت و نام وری کی آرزو زمزمہ پرداز ہوتی ہے۔ وہاں مومن کا جہاد فی سبیل اللہ خالصتاً ایک الہیٰ عمل ہے۔ مجاہد کا دل ذاتی اغراض سے پاک اور صرف رضائے الہیٰ کی تمنا لیے ہوتا ہے۔

آقاﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا:
بے شک جنت میں سو درجے ہیں، ایک درجے سے دوسرے درجے کے درمیان زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے، انہیں اللہ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں (مجاہدین) کے لئے تیار کر رکھا ہے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ۵؍۳۰۴ح۱۹۳۵۳او سندہ صحیح)

جہاد کی فضیلت پر ایک اور حدیث:
"جو شخص مشرکوں سے اپنے مال اور اپنی جان (نفس) کے ساتھ جہاد کرے۔” پوچھا گیا : "کون سا مقتول سب سے بہتر ہے؟”
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس کا خون (کافروں کے ہاتھوں) بہا دیا جائے اور اس کا گھوڑا کاٹ ( کر مار) دیا جائے۔”
(سنن ابی داؤد:۱۴۴۹او سندہ حسن)

آخر میں یہی دعا ہے اللہ تعالٰی ہم سب کو جذبہ جہاد اور اخلاص نصیب فرمائے اور شرعی اصولوں کے تحت جہاد کرنے اور شہادت فی سبیل اللہ کی دولت سے مشرف فرمائے۔ آمین۔
شکریہ۔

Advertisements