Advertisement
  • کتاب”جان پہچان” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر:21
  • مصنف کا نام:احمد جمال پاشا
  • سبق کا نام: ملا نصرالدین

تعارف مصنف:

احمد جمال پاشا کا اصلی نام محمد نزہت پاشا تھا۔ وہ الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ لکھنو یونیورسٹی سے بی ۔اے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ۔ اے کیا۔ لکھنو سے اودھ پنج نکالنا شروع کیا جسے اس کا تیسرا دور کہا جاتا ہے۔ بعد میں قومی آواز اخبار کے شعبہ ادارت سے منسلک ہوگئے۔ 1976ء میں سیوا ن (بہار) منتقل ہو گئے۔جہاں ذکیہ آفاق اسلامیہ کالج میں اردو کے استاد کے طورپر خدمات انجام دیں۔ پٹنہ میں انتقال ہوا۔

احمد جمال پاشا نے 1950 سے لکھنا شروع کیا۔ زمانہ طالب علمی میں علی گڑھ کے رسالے’’ اسکالر کے مدیر ہوئے اور اس کے ’’پیروڈی نمبر‘‘ کی وجہ سے شہرت پائی۔ اندیشہ شہ‘‘’’ ستم ایجاد ، لذت آزار‘‘ ’’ مضامین پاشا‘‘ ’’ چشم حیراں‘‘ اور بچوں پر چھڑ کاؤ‘‘ وغیرہ ان کی مشہور مزاحیہ کتابیں ہیں ۔’’ ظرافت اور تنقید‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ احمد جمال پاشا کو ادبی خدمات کے لیے غالب ایوارڈ اور بہار اردو اکادمی کا اختر اور نیوی ایوارڈ دیا گیا۔

خلاصہ سبق

ملا نصرالدین "احمد جمال پاشا” کا مضمون ہے جس میں مصنف نے کہانیوں کے اہم اور دلچسپ کردار ملا نصرالدین کے بارے میں مشہور عجیب و غریب روایات اور حقائق کو لطائف کو بیان کیا ہے۔

Advertisement

مصنف کے مطابق ملا نصرالدین ایک ایسا کردار ہے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سیر و سیاح کے رسیا تھے۔انھوں نے اپنے سست رفتار گدھے پر دنیا کا سفر کیا۔یہ اپنی حاضر جوابی،خوش باشی اور زندہ دلی کی وجہ سے مشہور رہے۔آج بھی ان کی حاضر جوابی، خوش باشی اور زندہ دلی کی وجہ سے یہ کردار مشہور ہے۔ملا نصر الدین کو ہر فن مولا کہا جاتا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا پیشہ ہو جو انھوں نے اختیار نہ کیا ہو۔کبھی وہ معلم کی حیثیت سے سامنے آتے تو کبھی واعظ،کبھی تاجر کی صورت میں مصروف دکھائی دیتے تو کبھی معمار کی شکل میں مکان بناتے ملتے، کبھی درزی کی حیثیت سے کپڑے سیتے،کبھی قاضی کی حیثیت سے دو فریقوں کے درمیان حق کا فیصلہ کرواتے غرض ہر طرح سے وہ کہیں نہ کہیں مصروف دکھائی دیتے تھے۔

ملا نے کئی ملکوں کا سفر بھی کیا ترکی،عرب، ہندوستان،عرب، چین وغیرہ کے بارے میں ان کی کئی روایتیں موجود ہیں۔ان کا تعلق کب کس زمانے اور کس بادشاہ سے تھا اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ان کا کردار خیالی یا ان کی ذات سے منسوب قصے ہر گز من گھڑت نہیں ہیں۔ملا نصرالدین نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان کی سمجھ کے مطابق بات کی اور محض نصحتیں کرنے کی بجائے ہنسی مذاق کو بھی اپنا شعار بنایا یہی وجہ ہے کہ ان کی باتیں دل پر اثر کرتی ہیں۔آپ ہنسی میں بڑی سے بڑی اور ٹیڑھی بات کو بھی سیدھے نکتے کے ساتھ نہایت آسان انداز میں اور با آسانی سمجھا دیا کرتے تھے۔

سوچیے اور بتایئے:

ملا نصر الدین کے بارے میں کیا کیا روایتیں مشہور ہیں؟

ملا نصرالدین کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سیر و سیاح کے رسیا تھے۔انھوں نے اپنے سست رفتار گدھے پر دنیا کا سفر کیا۔یہ اپنی حاضر جوابی،خوش باشی اور زندہ دلی کی وجہ سے مشہور رہے۔

ملا نصرالدین کا نام آج بھی کیوں زندہ ہے؟

ملا نصرالدین کا نام آج بھی ان کی حاضر جوابی، خوش باشی اور زندہ دلی کی وجہ سے مشہور ہے۔

ملا نصر الدین کو ہرفن مولا کیوں کہا جاتا ہے؟

ملا نصر الدین کو اس لیے ہر فن مولا کہا جاتا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا پیشہ ہو جو انھوں نے اختیار نہ کیا ہو۔کبھی وہ معلم کی حیثیت سے سامنے آتے تو کبھی واعظ،کبھی تاجر کی صورت میں مصروف دکھائی دیتے تو کبھی معمار کی شکل میں مکان بناتے ملتے، کبھی درزی کی حیثیت سے کپڑے سیتے،کبھی قاضی کی حیثیت سے دو فریقوں کے درمیان حق کا فیصلہ کرواتے غرض ہر طرح سے وہ کہیں نہ کہیں مصروف دکھائی دیتے تھے۔

ملا نصرالدین کی باتیں دل پر کیوں اثر کرتی تھیں؟

ملا نصرالدین نے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ان کی سمجھ کے مطابق بات کی اور محض نصحتیں کرنے کی بجائے ہنسی مذاق کو بھی اپنا شعار بنایا یہی وجہ ہے کہ ان کی باتیں دل پر اثر کرتی تھیں۔

ملا نصر الدین نے ہنسی مذاق کو اپنا شعار کیوں بنایا؟

ملا نصرالدین نے لوگوں تک اپنی بات پہنچانے اور ان کو ان کی سمجھ کے مطابق بات سمجھانے کے لیے ہنسی مذاق کو اپنا شعار بنایا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

بیدارعلی صبح و سویرے بیدار ہوتا ہے۔
عجیب وغریب کل میرے ساتھ ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔
جہاں گردی احمد ایک جہاں گرد شخص ہے۔
ہر دل عزیزیہر دل عزیزی ایک کامیاب انسان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔
لا زوالعلم ایک لا زوال دولت ہے۔
حاضر جوابیطالب علم کی حاضر جوابی نے استاد کا دل خوش کر دیا۔
سرشار من چاہی مراد پا لینے کے بعد علی خوشی سے سرشار نظر آیا۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کی جمع بنائیے:

نصیحتنصیحتوں
حیثیتحیثیتوں
مصروفیتمصروفیات
روایتروایات
حکایتحکایات

عملی کام:

ملا نصرالدین کی شخصیت آپ کو کیسی لگی ۔ اپنے لفظوں میں لکھیے۔

ملا نصرالدین کی شخصیت ایک متنوع مزاج کی حامل شخصیت ہے جس کے پاس زندگی کے کئی تجربات کا نچوڑ موجود ہے۔مگر ان مے کردار کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ان تجربات کے نچوڑ کو بہت دلچسپ اور ہلکے پھلکے انداز میں لوگون تک پہنچایا اور اپنی عقل مندی کے ذریعے لوگوں کو کئی اچھی باتیں ذہن نشین کروائی۔یوں ان کا کردار دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔