Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر17: شاعری
  • شاعر کا نام: کبیر داس
  • سبق کا نام:دوہے

تعارف شاعر:

کبیر کی پیدائش اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں مگہر میں ہوئی۔ وہ ایک مسلمان بنکر کے گھر میں پلے پڑھے۔ پڑھنا لکھنا نہیں سیکھ سکے لیکن بے حد سمجھ دار آدمی تھے۔ وہ سوامی رامانند اور صوفی شیخ تقی سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔کبیر انسانیت اور بھلائی کے شاعر تھے۔ وہ سارے انسانوں کو خدا کا کنبہ مانتے تھے۔ مذہبوں کی ایکتا میں یقین رکھتے تھے اور ساری دنیا کے لیے خیر کی دعائیں مانگتے تھے۔ ذات پات کی تفریق ، غلط رسم و رواج اور تو ہم پرستی کے مخالف تھے۔ بیجک ان کی شاعری کا مجموعہ ہے جس کے تین حصے ’ر مینی ، سبد ‘ اور ساکھی ناموں سے مشہور ہوئے۔ان کی شاعری اودھی، بھوج پوری، برج اور کھڑی بولی سے ملی جلی عام فہم زبان میں ہے۔ ان کی بات دل سے نکلتی اور دلوں پر اثر کرتی ہے۔ ان کا کلام اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں مقبول ہے۔ ان کے کئی دو ہے ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں ۔ کبیر نے کافی لمبی عمر پائی۔

Advertisement

کبیر داس کے دوہوں کی تشریح:

دوہا نمبر01:

بڑا ہوا تو کیا ہوا جیسے پیڑ کھجور
پتی کو چھایا نہیں پھل لاگے اتی دور

یہ شعر کبیر داس کا دوہا ہے۔ شاعر کبیر داس اس شعر میں انسان کے اندر بڑے بن سے آنے والے رویے کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان میں بڑا پن اگر غرور و تکبر کو جا پہنچے تو اس کا وہ بڑا پن ایسے ہی ہے جیسے کہ کھجور کا پیڑ ہوتا ہے۔جس کے نہ تو پتے کسی کو سایہ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا پھل باآسانی رسائی میں ہوتا ہے بلکہ وہ بہت اوپر اونچائی پہ جا لگتا ہے۔اسی طرح اس انسان کی بڑائی بھی کسی کام کی نہیں جو دوسروں کو فائدہ نہ پہنچا سکے۔

Advertisement

دوہا نمبر02:

ماکھی گڑ میں گڑی رہے پنکھ رہے لپٹائے
ہاتھ ملے اور سردھنے لالچ بری بلائے

اس دوہے میں شاعر کہتا ہے کہ مکھی جو کہ میٹھے کی دیوانی ہوتی ہے اور اس کا یہ دیوانہ پن اس کو ہر وقت میٹھے کے اردگرد رکھتا ہے یہاں تک کہ اس کا مٹھاس کے لیے لالچ کبھی جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ مکھی خود کو گڑ میں گاڑھ لیتی ہے یہاں تک کہ اس کے پر بھی پوری طرح اس میں لپٹ جاتے ہیں۔ جب وہ خود کو اس سے نہیں نکال پاتی پھر وہ خوب ہاتھ پاؤں مارتی ہے اور کہتی ہے کہ لالچ بری بلا ہے۔ شاعر نے مکھی کے ذریعے انسانی لالچ کے انجام کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

دوہا نمبر03:

ماٹی کہے کمھارسے تو کیا روندےموہے
اک دن ایسا آۓ گا میں روندوں گی تو ہے

اس شعر میں شاعر نے مٹی اور کمہار کے تعلق کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ کمہار کا کام مٹی کو روندنا اور اس سے طرح طرح کی خوبصورت چیزیں بنانا ہوتا ہے۔لیکن یہی مٹی اس کمہار کو مخاطب کرکے کہتی ہے کہ ابھی میں تمھارے ہاتھ میں جتنا روندنا چاہتے ہو روند لو لیکن جب موت کے بعد تم میرے سپرد کیے جاؤ گے تو پھر میں اسی طرح تمھیں روندوں گی۔ اس شعر میں شاعر نے موت کی حقیقت اور موت کے بعد کی انسان کی بے بسی کو پیش کیا ہے۔

Advertisement

دوہا نمبر04:

کبیرا کھڑا بجار میں لیے لگاٹی ہاتھ
جو گھر جارے اپنا چلے ہمارے ساتھ

اس دوہے میں کبیر داس کہتا ہے کہ میں بازار میں ہاتھ میں لاٹھی لیے کھڑا ہوں۔جو کوئی اپنا گھر جلانے کی یا خراب کرنے کی چاہ رکھتا ہے وہ میرے ساتھ چلے۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:-

پہلے دوہے میں کبیر نے کیا بات کہی ہے؟

کبیر داس نے پہلے دوہے میں انسان کے اندر بڑے بن سے آنے والے رویے کو دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان میں بڑا پن اگر غرور و تکبر کو جا پہنچے تو اس کا وہ بڑا پن ایسے ہی ہے جیسے کہ کھجور کا پیڑ ہوتا ہے۔جس کے نہ تو پتے کسی کو سایہ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا پھل باآسانی رسائی میں ہوتا ہے بلکہ وہ بہت اوپر اونچائی پہ جا لگتا ہے۔اسی طرح اس انسان کی بڑائی بھی کسی کام کی نہیں جو دوسروں کو فائدہ نہ پہنچا سکے۔

لالچ کرنے سے مکھی کو کیا سزا ملی؟

لالچ کرنے سے مکھی کے پر گڑ کے اندر جکڑے گئے اور وہ خود کو اس کی جکڑن سے آزاد کرانے کی سر توڑ کوششیں کرنے لگی۔

Advertisement

ماٹی نے کمھار سے کیا کہا؟

ماٹی نے کمہار سے کہا کہ آج میں تمھارے ہاتھ میں ہوں مجھے جتنا روندنا چاہتے ہو روند لو لیکن کل جب تم موت کے بعد میرے سپرد کیے جاؤ گے تو اسی طرح میں تمھیں روندوں گی۔

آخری دو ہے میں کبیر نے کیا مشورہ دیا ہے؟

اس دوہے میں کبیر داس کہتا ہے کہ میں بازار میں ہاتھ میں لاٹھی لیے کھڑا ہوں۔جو کوئی اپنا گھر جلانے کی یا خراب کرنے کی چاہ رکھتا ہے وہ میرے ساتھ چلے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement