Aab e Zam Zam Essay In Urdu 1
OR

Essay On Aab e Zam Zam in Urdu

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آج کا ہمارا موضوع *آب زمزم* کی فضیلت اور اہمیت ہے

آب زمزم اللہ پاک کی جانب سے ہم تمام مسلمانوں کیلئے عظیم اور لازوال نعمت ہے۔ آب زمزم تمام پانیوں کا سردار ہے اس کی اہمیت اسماعیل علیہ السلام کے اس واقعہ سے عیاں ہوتی ھیکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہوا تھا اس کے باوجود آپ صالح فرزند کے خواہشمند تھے کیونکہ آپ کے یہاں کوئی فرزند نہ تھا اور بارگاہ الہی میں دعائیں مانگتے رہتے تھے میرے رب مجھے صالح بیٹا عطا فرما۔ اللہ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا *چنانچہ باری تعالی کا ارشاد ہےکہ ہم نے انہیں بردبار لڑکے کی خوشخبری سنائی*

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا رنگ لے آئی تو آپ کی دوسری زوجہ سیدہ ہاجرہ کے بطن سے اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بحکم خداوندی حضرت ہاجرہ اور اسماعیل علیہ السلام کو لیکر اس غیر آباد مقام پر چھوڑ دیا جہاں آج *خانۂ کعبہ* اور *آب زمزم* ہیں۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کجھور کی تھیلی اور پانی کا مشکیزہ حضرت ہاجرہ کے سامنے رکھکر واپس جانے لگے تو پھرحضرت ہاجرہ نے سوال کیا کہ اے ابراہیم آپ ہمیں اس غیرآباد مقام میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں، جہاں نہ انسان اور نہ ہی غمگسار ہے۔ پھر آپ نے سوال کیا، کیا *یہ حکم خداوندی ہے؟* تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ہاں یہ خدا کا حکم ہے۔ جب انہوں نے یہ سنا تو فرمایا اگر یہ حکم ربانی ہے تو وہ ہرگز ضائع نہ فرمائے گا اور اپنی جگہ واپس آکر پھر اطمینان و سکون سے بیٹھ گئیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جانے کے بعد چند روز تو آپ کھجوریں کھاتیں اور مشکیزہ سے پانی پیتی رہیں اور اسماعیل علیہ السلام کو دودھ پلاتی رہیں۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ نہ پانی رہا اور نہ کھجوریں رہیں تو آپ سخت پریشان ہوئیں یہاں تک کہ بھوک اور پیاس کی شدت سے دودھ بھی خشک ہوگیا تو ننھے بچے کی جان خطرے میں پڑگئی۔ اس پریشانی کے عالم میں اسماعیل بھی بے چین اور بے قرار ہو اٹھے۔ والدہ سے یہ منظر نہ دیکھا گیا تو دوڑ کر قریب کی *صفا* پہاڑی پر گئیں
تاکہ کہیں پانی کا نام و نشان نظر آجائے۔ مگر وہاں پر پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہ ہوا پھر ماں کی ممتا اپنے بچے کی الفت و محبت میں دوسری پہاڑی *مروہ* پر پہنچ گئی۔ لیکن وہاں بھی انہیں ایک بوند نظر نہ آئی۔

اسی بے چینی اور اضطراری کے عالم میں دونوں پہاڑوں کے درمیان سات چکر لگائےجب ساتویں مرتبہ *مروہ* کی چوٹی پر پہنچی تو جسم پسینہ پسینہ ہوگیا۔ اسی پریشانی کے عالم میں حضرت ہاجرہ علیہ السلام *اسماعیل علیہ السلام* کے پاس پہنچی تو اسی وقت *حضرت جبرئیل علیہ السلام* آئے اور اسماعیل علیہ سلام کی ایڈیاں رگڑنے سے پانی کا چشمہ ابلنے لگا۔ یہ ماجرا دیکھ کر حضرت ہاجرہ نہایت خوش ہوئیں اور اس چشمے سے پانی لے کر انہوں نے اپنی اور بیٹے کی پیاس کو بجھایا۔

دوستو چٹیل زمین پر ابلنے والا یہی چشمہ *آب زمزم* کہلاتا ہے۔ اس واقعے کو ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود اس وقت سے لیکر آج تک تمام اطراف کے لوگ دنیا کے چپے چپے کونے کونے سے آب زمزم لے کر جاتے ہیں۔ اسکے باوجود *آب زمزم* کی روانی اورطغیانی تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ سبحان اللہ کیا شان ہے اس ذات کی جس نے اسے معجزہ کی شکل دی اور یہ ہمہارے لیے عظیم تحفہ نہیں تو اور کیا ہے جس کی مثال کفران اسلام تو کیا دنیا کا کوئی بھی فرد پیش نہیں کر سکتا۔ لیکن افسوس ہے ہم تمام پر کہ اللہ کے دیے ہوئے معجزات ہمارے درمیان موجود ہونے کے باوجود ہم اسلامی تعلیمات کو ترک کرکے غیر اسلامی طریقوں کو اپنانے میں لگے ہوے حالانکہ جتنی آسانیاں ہمارے دین میں موجود ہیں اتنی کسی اور مذہب میں موجود ہی نہیں ہیں۔

دوستو آب زمزم کے سلسلے میں *رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد* ہے کہ آب زمزم میں ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔
غور کیجئے کہ ہمیں پیغمبر اسماعیل علیہ السلام کی بدولت کتنا عظیم تحفہ ملا ہے جسکی شاعر نے کچھ اس طرح عکاسی کی ہے؀

کتنی مقدس ہوگی اکبر اس بچے کی پیاس
جس کی اک ٹھوکر سے جاری زمزم ہوا

دوستو دنیا میں استعمال ہونے والی تمام چیزوں میں یہ خرابی ہےکہ وہ کبھی نہ کبھی خراب ہو ہی جاتی ہے لیکن *آب زمزم* میں یہ خوبی ہےکہ وہ کبھی خراب نہیں ہوتا ہے۔ دنیاوی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ آب زمزم کا ایک قطرہ عام پانیوں کے ہزار قطروں میں شامل کیا جائے تو عام پانی میں بھی وہی اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جو آب زمزم میں ہیں۔ آب زمزم مریضوں کے لیے شفا ہونے کے ساتھ ساتھ دعا بھی ہے؀

ہے مسلمان کو ہمیشہ آب زمزم کی تلاش
اور ہر اک برہمن گنگ و جمن میں مست ہے

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ *آب زمزم* کی طرح آخرت میں بھی *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* کے دست مبارک سے*حوض کوثر پینا نصیب فرمائے۔ *آمین*