ماں پر مضمون

انسانیت کی زبان میں سب سے پیارا لفظ "ماں” ہے- یہ ایک لفظ ہے جس سے امید و محبت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے- ماں ایک ایسی نعمت ہے جس کے لیے ہم اپنے پروردگار کا جتنا شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ الله نے بیشک باپ کو جنت کا دروازہ بنایا ہے لیکن اسی جنت کو ماں کے قدموں تلے ڈال دیا۔ ماں کی محبت اس سمندر کی مانند ہے جس کی گہرائیوں کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔

اولادیں جتنی بھی غلطیاں کریں، ماں کا دل اتنا وسیع اور شفیق ہے کہ وہ اولاد کی غلطیوں کو معاف کر دیتی ہیں، مگر افسوس صد افسوس کہ جب یہی ماں بوڑھی ہو جاتی ہے، چلنے، پھرنے اورکام کرنے سے قاصر ہوجاتی ہے، تو وہی اولاد اس ماں کو اپنے پاس رکھنے سے ہچکچاتی ہے۔ وہ ماں جس نے اپنے کسی بچے کو خالی پیٹ سونے نہیں دیا، آج وہی بچے ماں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرکے اس پر احسان جتاتے ہیں۔ ماں جب دعا کرے تو آسمانوں کے پردے ہل جاتے ہیں اور جب بد دعا کرے تو عرش کانپ اٹھتا ہے۔ اس عظیم ہستی کی اہمیت ہم جتنی جلدی سمجھ لیں، بہتر ہے کیونکہ ماں چلی جائے تو لوٹ کر نہیں آتی۔

ماں پر شاعری
ذرا سی چوٹ لگے، تو آنسو بہا دیتی ہے
اپنی سکون بھری گود میں ہم کو سلا دیتی ہے
کرتے ہیں خفا ہم جب، تو چٹکی میں بھلا دیتی ہے
ہوتے ہیں خفا ہم جب، تو دنیا کو بھلا دیتی ہے
مت گستاخی کرنا لوگو! اس ماں سے کیونکہ
جب وہ چھوڑ کے جاتی ہے، تو کبھی لوٹ کر نہیں آتی۔