میرے ہم مکتب ساتھیوں قابلِ احترام جناب صدر!
آج مجھے اس تقریب سے خطاب کرنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے جس میں میرا موضوع ڈینگی کی پھیلتی ہوئی وبا ہے۔

عالی مقام لوگو!
ڈینگی مچھر رکے ہوئے پانی سے پھیلتا ہے۔ مکان کی چھتوں پر پڑی بے کار اشیاء ٹوٹے ہوئے گملے، پودوں کی نرسریاں، پانی کی موٹروں سے بہنے والا پانی، فریج کی ٹرے، کھلی جگہوں پر پڑے پرانے ٹائر اور ائیر کولر ڈینگی مچھر کے پیدا ہونے کے اور پلنے کے لیے بہترین رہائش گاہیں ہیں۔ لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ ہم اپنے گھروں کی چھتوں سے بے کار اشیاء فوری طور پر تلف کر دیں۔ گملوں، فریج کی ٹرے سے پانی نکال دیں تاکہ مادہ مچھر انڈے نہ دے سکے۔

ڈینگی کوئی نیا مرض نہیں ہے۔ یہ ایک مخصوص قسم کے مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ تر شکار ایشیائی ممالک کے باشندے ہیں۔ لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں، یہ مکمل طور پر ایک قابلِ علاج مرض ہے۔

سامعین!
پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے بتایا ہے کہ سفید مچھر (ڈینگو مچھر) کے کاٹنے سے ہونے والے ہیمرجک فیور سے گزشتہ تین ماہ کے دوران تئیس افراد ہلاک جبکہ گیارہ سو سے زائد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے مریضوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے اس بیماری کا اثر خشک موسم تک جاری رہتا ہے۔
اس بیماری کے ہونے سے مریض کو یکدم تیز بخار ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی سر میں درد اور جوڑوں میں درد شروع ہو جاتا ہے جبکہ بعض مریضوں کو پیٹ میں درد ،خونی الٹیاں اور خونی پیچس کی بھی شکایت ہوتی ہے۔

یہ مریض سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہتا ہے اور آخر کار مر جاتا ہے۔ ڈینگی بخار مریض کے خون میں سفید خلیوں کو ختم کرتا ہے۔ شدید بخار، متلی اور قے، کمر اور پٹھوں میں درد اور سر میں شدید درد ڈینگی بخار کی اہم علامات ہیں۔

سماعتوں کا طالب ہوں!
ڈینگی بخار دنیا بھر میں ایک وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے جس سے بچاؤ کا طریقہ بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ڈینگی ایک وائرس ہے جو مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ مچھر جسامت میں عام مچھر سے بڑا ہوتا ہے اور اس کے جسم میں زیبرا کی طرح سیاہ سفید لکیریں پائی جاتی ہیں۔ یہ مچھر صبح اور شام کے حصے میں مریض پر حملہ آور ہوتا ہے۔ ڈینگی مچھر کے کاٹنے کا اثر ۳ سے ۱۴ دن میں ظاہر ہوتا ہے۔

طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق ڈینگی بخار کے علاج کے لیے پپیتے کے پتے اور شہد کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شہد کو پانی میں حل کر کے پینا پسند فرماتے تھے۔ بالکل اسی طرح ایک پیالی نیم گرم پانی میں ایک چمچہ شہد ملا کر دن میں تین بار کھانے سے کچھ دیر پہلے مریض کو پلانا چاہیے۔

پپیتے کے پتوں کا رس نکال کر صبح اور شام پلانا بھی ڈینگی بخار کا شافی علاج ہے۔ بکری کا دودھ بھی اس مرض میں نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ مریض کو دن میں بار بار بکری کا دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔

اتنی ساری احتیاطی تدابیر ہونے کے باوجود میرے ہزاروں لوگ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ صرف پاکستان میں انسانیت کا اتنا ضیاع ہوا ، ہزاروں اموات ہوئیں مگر اب ڈینگی پر بھرپور طور پر قابو پالیا گیا ہے۔
خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب پر رحم و کرم فرمائے۔۔۔
آمین
شکریہ۔

Advertisements