انسانیت پر ایک مضمون

دنیا میں ہر مذہب سے بڑھ کر انسانیت کا مذہب ہے۔ اگر انسانیت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہیں جو انسان کو گرا سکے۔ انسان ایک انسان کے ذریعے ہی گرایا جاتا ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں سب سے پہلے انسانیت کو آگے رکھا گیا ہے۔ اسلام میں اس شخص سے اللہ تب تک راضی نہیں ہوتا جب تک وہ انسانیت اختیار نہ کرلے۔

دنیا میں نہ تو ہر انسان برا ہوتا ہے اور نہ ہی ہر انسان اچھا ہوتا ہے۔ اس پوری دنیا میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگوں کا توازن ہے۔ آج کے اس دور میں جیسے تہذیب و تمدن بلکل مٹا جا رہا ہے۔ خونی رشتے ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں، ثقافت کی بربادی ہو رہی ہے، رحم دل، ایمان، مذہب ان سب کا نام ونشان مٹا جارہا ہے۔ آج کے دور کا انسان صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے۔ اپنے فائدے کے لئے انسان گناہ پر گناہ کرتا جا رہا ہے۔

انسانیت رحم دلی، ہمدردی، اور اخلاقیت کا نام ہے۔ انسان ہونا ہمارا انتخاب نہیں بلکہ قدرت کی عطا ہے۔ لیکن اپنے اندر انسانیت بنائے رکھنا ہمارا انتخاب ہے۔ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالی کی عبادت اور انسانیت کی خدمت کرنا ہونا چاہیے۔ انسانیت کی خدمت کا دائرہ جو دین اسلام نے دیا ہے وہ کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔

اگر مذہب میں سے خدمت اور انسانیت نکال دی جائے تو صرف عبادت ہی رہ جاتی ہے اور محض عبادت کے لئے پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے پوری دنیا شرک و بدعت، دلالتوں اور نا فرمانی کے گڑھے میں گھری تھی۔ انسانیت سسکتی اور دم توڑتی دکھائی دے رہی تھی۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں رحمت العالمین بن کر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ میں دنیا و آخرت کی فلاح و کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ آپ ابر رحمت بن کر انسانیت پر برسے اور انہیں کفر و شرک اور ذلالت و گمراہی کے گھٹا توپ اندھیروں سے نکال کر توحید و رسالت کی روشنی سے منور کیا۔

ہم میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ مہمان داری کا نام و نشان نہیں تھا۔ کوئی قاعدہ قانون نہیں تھا کہ اچانک سے ایک پاکیزہ انسان کو اللہ رب العزت نے آخری پیغمبر بنا کر بھیجا۔ اس در یتیم نے ہم سب کو بتایا کہ ہم سب کا پروردگار ایک ہے اور انسانیت کے معنی سکھائے اور کہا ہمیشہ سچ بولا کرو۔ حرام باتوں سے دور رہا کرو۔ خون ریزی اور یتیموں کا مال کھانے سے بچو اور ساتھ ہی نماز پڑھنے اور روزہ رکھنے کا بھی حکم دیا۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ جو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اللہ کی مخلوق سے پیار نہیں کرتا تو اللہ پاک بھی اسے پسند نہیں کرتا۔

اللہ اسی سے محبت کرتا ہے جو اس کی مخلوق کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی محتاج یا کسی غریب کی محتاجگی دور کرنا، کسی بیمار کی تیمارداری کرنا، غرض اللہ کی مخلوق کے حقوق پورے کرنا ہی اللہ تعالی کا احترام کرنا ہے۔ انسان کے ساتھ انسانیت دکھانا ہی اللہ سے محبت اور اس کی عبادت کا باعث ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے میں انسانیت کا درد پالا۔ ہمیں آپ کی زندگی سے ایسے ان گنت واقعات ملتے ہیں جن سے ہمیں انسانیت کی خدمت کا طرز ملتا ہے۔ لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ ہم سب حضور کی سیرت پر عمل نہیں کرتے۔

جب ایک انسان کے دل سے دوسرے انسان کا احترام نکل جاتا ہے تو وہ ایک جانور اور حیوان کی طرح بن جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ انسان اللہ سے توبہ کرلے تو اس کے اندر کا ایمان کا درخت پھر سے ہرا بھرا ہو جاتا ہے۔ اور پھر وہ دوسرے انسان کی خیرخواہی چاہتا ہے۔ اپنی جان کی پرواہ کیے بنا دوسرے انسان کو مصیبت سے نکالتا ہے۔ یہی انسانیت ہے اور یہی اللہ تعالی کو پسند ہے۔

Advertisements