دہشت گردی پر ایک مضمون

دہشت گردی کے موضوع پر ایک تقریر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں!

وجوہات

جب پاکستان میں سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو پاکستان میں دہشت گردی کی جڑوں کا پتہ ۱۹۷۹ میں لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان نے سوویت افغان جنگ کے دوران افغان مجاہدین کی حمایت کی ، اور اس کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی خانہ جنگی۔ مجاہدین جنگجوؤں کو پاکستان کی فوج ، امریکی سی آئی اے اور دیگر مغربی انٹلیجنس ایجنسیوں نے تربیت دی تھی ، جنہوں نے جنگ کے باضابطہ خاتمے کے بعد علاقے میں کارروائی جاری رکھی۔

مسئلہ

پاکستان پر کئی سالوں سے دہشت گردی کے الزامات لگتے رہے۔ ساری دنیا نے پاکستان کو دہشت گرد ملک ہی تسلیم کیا ہے۔ تاہم لوگ یہ جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں کہ کوئی بھی ملک جسے خود بمباری ، قتل و غارت گری اور دوسرے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ دنیا میں دہشت گردی کا ذمہ دار کیسے ہوسکتا ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے میں اب یہاں بہت زیادہ امن ہے اور پاکستانیوں نے پچھلے دو دہائیوں میں بدترین حالات دیکھے ہیں۔ جمہوری حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی بہت ساری کاروائیاں کی گئیں ہیں جن کے نتیجے میں اب پاکستان قیام امن کی جانب گامزن ہے۔

تاریخ

خاص طور پر ۲۰۰۷ سے ۲۰۰۹ کے دوران پاکستان پر شدید حملے ہوئے۔ ان برسوں کے بعد فوجی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردی کی شرح کم ہوتی جارہی ہے۔ آج کی حالت پہلے کی نسبت بہت بہتر ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہی دعویٰ کیا کہ اس کے ہمسایہ ممالک دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار ہیں جو ملک میں دہشت گردی کے فروغ کے سہولت کار ہیں۔ جن میں ہندوستان اور افغانستان کے نام سرِفہرست ہیں۔

لیکن بھارت نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔ تاہم افغانستان نے اس کی ذمہ داری قبول کی کیونکہ انہوں نے تحریک طالبان جیسے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی تصدیق کی۔ دہشت گردی اور اس طرح کے گروہوں کے خلاف بہت ساری کاروائیاں ہوئیں۔ پاک فوج نے ۲۰۰۴ میں افغانی سرحد پر وزیرستان کے پہاڑی علاقے میں القاعدہ کے اراکین کے گروپ کا پیچھا کیا۔ یہ ان امن دشمنوں کے لئے صور کی مانند تھی۔ جس کے نتیجے میں "راہِ راست” آپریشن ہوا۔ یہ آپریشن امن دشمن عناصر کے صفائے کے لئے کرامت ثابت ہوا۔

دہشتگرد گروہوں کے خلاف لڑنے اور پاکستان کو بچانے کے لئے "ضربِ عضب” کے نام سے ایک اہم آپریشن ہوا۔ یہ واقعہ ۸ جون کو کراچی کے جناح بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئے شدید حملے کے بعد ہوا۔ تحریک طالبان اور اسلامی تحریک برائے ازبکستان نے قبول کیا کہ وہ اس فعل کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے فوراً بعد ہی ، ۱۵ جون ۲۰۱۴ کو "ضربِ عضب” کا آغاز کیا گیا۔ جس سے ملک دشمنوں کو کاری ضرب لگی اور دہشت گردی کی کمر ٹوٹ گئی۔

عصرِ حاضر

پاکستانی عوام آج کے پُرامن حالات سے خوش ہیں۔ پاکستانی ان مشکلات کے سالوں میں امن کی اہمیت کو سمجھ چکے ہیں۔ پاکستان کے لوگ پاکستان کو ایک کامیاب اور ترقی یافتہ ریاست کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کو اب بھی ہندوستان کی افغان حکومت کے ساتھ وابستگی سے خوف ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اگست ۲۰۱۷ کی اپنی تقریر میں بھارت سے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کرتے ہوئے افغانستان میں مزید مشغولیت کا مطالبہ کیا۔ یہ ساری پریشان کُن صورتحال پاکستان اور بھارت کے مابین خوف کا باعث بن رہی ہے۔ تاہم ، امریکی صدر نے صورتحال پر قابو پالیا اور بتایا کہ وہ ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

صبر کا ثمر

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے امکانات بنانا اتنا آسان نہیں تھا۔ اس نے پاکستان کی معشیت اور مجموعی حالت کو متاثر کیا ہے۔ پھر بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات نازک ہیں۔ مزید یہ کہ سڈنی میں قائم ایک انسٹیٹیوٹ کی ۲۰۱۷ کی عالمی دہشت گردی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق ، یہ بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اپنی حالت مستحکم کرنے میں جلد بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ انڈیکس میں ۱۰ سے ۸.۴ اسکور کرنے والے ۱۶۳ ممالک میں پاکستان ۵ویں نمبر پر ہے۔

Advertisements