حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دار فنا سے دارالبقاء کی طرف رحلت فرمائے ابھی پچاس برس ہی گزرے تھے کہ 61 ہجری میں عراق شہر کوفہ سے کچھ فیصلے پر ‘کربلا’ کے مقام پر یزید کے لشکر نے فرزندِ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو سفر کی حالت میں ان کے اہل و عیال اور رفقاء سمیت شہید کر دیا۔ خلافت راشدہ کا تیس سالہ دور حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ پر مکمل ہوچکا تھا اور پھر بادشاہت کی ابتداء حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوئی۔

جب 60 ہجری میں حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور یزید ان کا جانشین بنا تب تختِ حکومت پر بیٹھتے ہی اس کے لیے سب سے اہم مسئلہ حضرت سیدنا امام حسینؓ، حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے بیعت لینے کا تھا۔ کیونکہ ان حضرات نے یزید کو امیر معاویہ کا والی عہد تسلیم نہیں کیا تھا۔اس کے علاوہ ان حضرات سے یزید کو یہ بھی خطرہ تھا کہ کہیں ان میں سے کوئی خلافت کا دعویٰ نہ کر دے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ سارا حجازمقدس میرے خلاف اٹھ کھڑا ہو، جبکہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے دعویٰ خلافت کی صورت میں، عراق میں بھی بغاوت کا سخت اندیشہ تھا۔

ان وجوہ کی بنا پر یزید کے پیش نظر سب سے بڑا مسئلہ اپنی حکومت کی بقا اور اسے تحفظ دینا تھا، لہٰذا اس نے ان حضرات مقدسہ سے بیعت لینا ضروری سمجھا۔چنانچہ اس نے مدینہ منورہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو حضرت سیدنا امیر معاویہ کی وفات کی خبر دی اور ساتھ ہی ان حضرات مقدسہ سے بیعت لینے کے لیے سخت تاکیدی حکم بھیجا۔ولید نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو حضرت سیدنا امیر معاویہ کی وفات کی خبر دی، اور یزید کی بیعت کے لیے کہا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے تعزیت کے بعد فرمایا کہ میرے جیسا آدمی اس طرح چھپ کر بیعت نہیں کر سکتا اور نہ میرے لئے اس طرح چھپ کر بیعت کرنا مناسب ہے۔ اگر آپ باہر نکل کر عام لوگوں کو اور ان کے ساتھ ہمیں بھی دعوت دیں تو یہ مناسب ہوگا۔

یزید کی بیعت حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو قلبی طور پر سخت ناپسند تھی کیونکہ وہ نااہل تھا اور اس کا تقرر بھی خلفائے راشدین کے اسلامی طریقہ انتخاب کے بالکل خلاف ہوا تھا۔ اس لئے آپ احتجاجاً اس کے خلاف تھے اور دوسری طرف حالات اجازت نہیں دے رہے تھے کہ آپ علی الاعلان اس کے خلاف آواز بلند کریں۔ لہذا آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت فرما لی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکہ مکرمہ پہنچنے کی خبر سن کر لوگ جوق در جوق آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر زیارت کا شرف حاصل کرنے لگے۔

جب اہل کوفہ کو حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ ہو تعالئ عنہ کے انتقال کی خبر ملی اور انہیں اس بات کا علم ہوا کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا ہے تو انہوں نے سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے نام ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھے کہ آپ جلد از جلد کوفہ تشریف لے آئیے، مسند خلافت آپ کے لیے خالی ہے۔ ہمارے اموال اور ہماری گردنیں آپ کے لئے حاضر ہیں سب کے سب آپ کے منتظر و مشتاق ہیں۔ آپ کے سوا کوئی ہمارا امام و پیشوا نہیں، آپ کی مدد کے لئے یہاں ہزاروں کا لشکر حاضر ہے۔

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے جب اہل کوفہ کے خطوط میں ان کے جذبات عقیدت و محبت جان و مال قربان کرنے کی تمناؤں اور کوفہ آنے کی التجاؤں کو دیکھا تو فیصلہ کیا کہ حالات معلوم کرنے کے لیے پہلے اپنے چچازاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا جائے۔ چنانچہ آپ نے انہیں اہل کوفہ کے نام ایک خط دیا اور فرمایا کہ آپ کوفہ جا کر بذات خود براہ راست حالات کا صحیح اندازہ لگا کر ہمیں اطلاع دیجئے، اگر حالات سازگار ہو تو میں بھی آ جاؤں گا اور اگر حالات نامناسب ہوں تو آپ بھی واپس تشریف لے آئیے۔

صدر الفاضل حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں کہ اگرچہ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی خبر مشہور تھی اور کوفیوں کی بے وفائی کا پہلے بھی تجربہ ہو چکا تھا مگر جب یزید بادشاہ بن گیا تو اس کی حکومت و سلطنت دین اسلام کے لیے خطرہ تھی اور اسی سبب سے اس کی بیعت ناروا تھی اور وہ طرح طرح کی تدبیروں اور حیلوں سے چاہتا تھا کہ لوگ اس کی بیعت کر لیں۔ ان حالات میں کوفیوں کا بپاسِ ملت یزید کی بیعت سے دست کشی کرنا اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے طالب بیعت ہونا، امام پر لازم کرتا تھا کہ ان کی درخواست قبول فرمائیں۔ جب ایک قوم ظالم اور فاسق کی بیعت پر راضی نہ ہو اور صاحب استحقاق اہل سے درخواست بیعت کرے، اس پر اگر وہ ان کی استدعا قبول نہ کرے تو اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ وہ اس قوم کو اس جابر ہی کے حوالے کرنا چاہتا ہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ اگر اس وقت کوفیوں کی درخواست کو قبول نہ فرماتے تو بارگاہ الہی عزوجل میں کوفیوں کے اس مطالبہ کا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس کیا جواب ہوتا کہ "ہم ہر چند درپے ہوئے مگر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ بیعت کے لیے راضی نہ ہوئے، اسی لئے ہمیں یزید کے ظلم و تشدد سے مجبور ہوکر اس کی بیعت کرنا پڑی، اگر امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ہاتھ بڑھاتے تو ہم ان پر جانیں فدا کرنے کے لئے حاضر تھے”

یہ مسئلہ ایسا در پیش آیا جس کا حل بجز اس کے اور کچھ نہ تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ ان کی دعوت پر لبیک فرمائیں۔ اگرچہ اکابر صحابہ کرام حضرت ابن عباس و حضرت ابن عمر و حضرت جابر و حضرت ابو سعید وغیرہ ہم رضی اللہ تعالی عنہم حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی اس رائے سے متفق نہیں تھے اور انہیں کوفیوں کے عہدوں مواثیق کا اعتبار نہ تھا، امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی محبت اور شہادت حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے شہرت، ان سب کے دلوں میں اختلاج پیدا کر رہی تھی۔ گو کہ یہ یقین کرنے کی بھی کوئی وجہ نہ تھی کہ شہادت کا یہی وقت ہے اور اسی سفر میں یہ مرحلہ درپیش ہوگا لہذا اندیشہ مانع تھا۔

بہرحال حضرت سیدنا مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ نے اہلِ کوفہ کی بے پناہ محبت و عقیدت کو دیکھ کر حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں خط لکھ کر بھیجا کہ ہزاروں افراد نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے اور یہاں کے سب لوگ آپ کی تشریف آوری کے منتظر ہیں۔ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے اس اطلاع کے بعد کوفہ جانے کا عزم صمیم کرلیا اور ادھر کوفہ میں جو فساد برپا ہو چکا تھا اس کی آپ کو اطلاع نہیں ہوئی تھی۔

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے تین ذلحج ساٹھ ہجری کو اپنے اہل بیت و خدام وغیرہ، کل 82 افراد کو ہمراہ لے کر راہِ عراق اختیار فرمائی۔ راستے میں حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو کوفیوں کی بد عہدی اور حضرت سیدنا مسلم بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی خبر مل گئی تھی۔ اس پر امام حسینؓ کے رفقاء کی آراء مختلف ہوئیں اور ایک بار آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی واپسی کا قصد فرمایا لیکن بہت گفتگو کے بعد یہی طے پایا کہ سفر جاری رکھا جائے اور واپسی کا خیال ترک کر دیا جائے۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی اس رائے سے اتفاق کیا اور قافلہ آگے چل دیا یہاں تک کہ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ نے کربلا میں نزول فرمایا۔

یہ محرم الحرام 61ہجری کی 2 تاریخ تھی۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس مقام کا نام دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اس جگہ کو "کربلا” کہتے ہیں۔ حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کربلا سے واقف تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ کربلا ہی وہ جگہ ہے جہاں اہل بیت رسالت کو راہ حق میں اپنے خون کی ندیاں بہانی ہوں گی۔ انہی دنوں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ کو شہادت کی خبر دی اور آپ کے سینہ مبارک پر دست اقدس رکھ کر دعا فرمائی "اے اللہ حسین کو صبر و اجر عطا فرما”

پھر ابن زیاد نے حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو ایک خط لکھ بھیجا کہ یزید کی بیعت کر لیجیے۔ جب وہ خط آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس پہنچا، آپ نے اسے پڑھ کر پھینک دیا اور خط لانے والے قاصد سے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں۔ ایلچی نے آکر ابن زیاد کو بتایا تو جواب سن کر ابن زیاد کا غصہ بڑا اٹھا اس نے لوگوں کو جمع کیا فوجیں تیار کی اور ان کا سپہ سالار عمر بن سعد کو بنایا جو ملک رَے کا والی تھا۔ اولاً اس نے پہلو تہی سے کام لیا، اس پر ابن زیاد نے کہا کہ یا تو لڑنے کے لئے تیار ہوجا یا پھر رَے کی حکومت چھوڑ کر گھر بیٹھ جا۔

ابن سعد نے رَے کی حکومت اختیار کی اور 22 ہزار سوار اور پیادہ لشکر لے کر نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے لڑنے چل پڑا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ دریائے فُرات کے کنارے پر قابض ہو کر قافلہ سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور پانی کے درمیان حائل ہو گئے۔

یہاں یہ کارروائی ہوئی کہ سب خیمے ایک دوسرے کے قریب کر دیے گئے، خیموں کے پیچھے خندق کھود کر اسے نرکل وغیرہ خشک لکڑیوں سے بھر دیا گیا۔ اب امام حسین کے رفقاء ان کاموں سے فارغ ہوکر سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور سیدنا امام رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اہل اور ساتھیوں سے فرمارہے ہیں کہ "صبح دشمن سے ہمارا مقابلہ ہے، میں نے بخوشی تمام، تم سب کو اجازت دی، ابھی رات باقی ہے جہاں جگہ پاؤ چلے جاؤ اور ایک ایک شخص میرے اہل بیت میں سے ایک ایک کو ساتھ لے جاؤ، اللہ عزوجل تم کو جزائے خیر دے! دیہات و بلاد میں متفرق ہو جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالی بلا ٹالے، دشمن جب مجھے پائیں گے تمہارا پیچھا نہیں کریں گے۔” یہ سن کر امام کے بھائیوں صاحبزادوں بھتیجوں اور عبداللہ بن جعفر کے بیٹوں نے عرض کی کہ ” ایسا ہم کس لیے کریں؟ اس لیے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد زندہ رہیں؟ اللہ عزوجل ہمیں وہ منہوس دن نہ دکھائے کہ آپ نہ ہوں اور ہم زندہ رہیں”

یہاں تک کہ ابن سعد نے اپنے لشکر کے ساتھ امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے رفقاء پر حملہ کر دیا۔ آپ کے رفقاء و احباب و برادران و شہزادگان ایک ایک کر کے شہید ہوتے چلے گئے۔ تقریبا 50 سے زائد افراد شہید ہو گئے اور بالآخر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی بڑی بےدردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا۔

یزید بن معاویہ ابو خالد اموی وہ بدبخت شخص ہے جس کی پیشانی پر اہل بیت کرام علیہم الرضوان کے بے گناہ قتل کا سیاہ داغ ہے۔ یہی وہ شخص ہے جس پر ہر زمانے میں پوری دنیا اسلام ملامت کرتی رہی ہے اور قیامت تک اس کا نام حقارت سے لیا جائے گا۔ محرمات سے نکاح اور سود وغیرہ ممنوعات کو بھی اس بے دین نے علانیہ رواج دیا۔ مدینہ طیبہ و مکہ مکرمہ کی بے حرمتی بھی کرائی۔

واقعۂ کربلا کے متعلق کتاب کو یہاں سے ڈاؤن لوڈ کیجئے

واقعۂ کربلا پر ایک تقریر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں

Advertisements