Advertisement

زندگی پر ایک مضمون

زندگی اللہ کا دیا ہوا ایک نایاب تحفہ ہے جس کی قدر آج انسان بلکل ہی نہیں کر پا رہا ہے۔ آج انسان نے اپنی زندگی کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ کوئی زندگی کو ایک برا عذاب سمجھتا ہے تو کوئی زندگی کو حسین خواب سمجھتا ہے۔ مگر اصل زندگی کی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ دراصل زندگی خوشی اور غم سے بھرا ہوا مجموعہ ہے جس میں اتار چڑھاؤ لگے رہتے ہیں۔

Advertisement

انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ اپنی زندگی سے کسی بھی حال میں خوش نہیں رہتا۔ چاہے وہ اچھے حال میں ہو یا پھر برے۔ جب انسان کو اللہ تبارک و تعالی ہر طرح کی خوشی سے نوازتا ہے تو انسان خوش رہتا ہے لیکن اس کی خواہشیں کبھی ختم نہیں ہوتیں اور زندگی میں تھوڑا سا بھی غم آ جانے پر وہ اللہ تعالی سے شکایت کرنے لگتا ہے اور اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہونے لگتا ہے۔

Advertisement

انسان اپنی زندگی میں صرف خوشی کی ہی خواہش کرتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالی کی بنائی ہوئی اس دنیا میں انسان کو دنیا کی ہر چیز قبول کرنی چاہیے پھر چاہے وہ غم ہو یا خوشی۔ انسان اپنی زندگی کو صحیح طریقہ سے گزار رہا ہے یہ انسان خود جانتا ہے یا پھر اللہ جانتا ہے اور اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا۔

Advertisement

جس وقت انسان پیدا ہوتا ہے تو اسی دم سے اس کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ انسان کی زندگی آگے کیسی گزرے گی یہ انسان کی پرورش اور اس کے آس پاس کے ماحول سے پتہ چلتا ہے۔ انسان کو صحیح زندگی گزارنے کا سلیقہ اس کے ماں باپ ہی سکھا سکتے ہیں۔ ماں باپ بچے کے سب سے پہلے استاد ہوتے ہیں جن کی تعلیم سے بچہ آگے چل کر اچھا انسان بنتا ہے۔

انسان کی زندگی کے تین پہلو ہوتے ہیں۔ پہلا اس کا بچپن٬ دوسرا اس کی جوانی اور تیسرا اس کا بڑھاپا۔

(1) بچپن

انسان کی زندگی کا سب سے بہترین پہلو اس کا بچپن ہوتا ہے۔ بچپن زندگی کا وہ اہم حصہ ہے جسے دنیا کا ہر انسان کبھی نہیں بھولنا چاہتا۔ انسان اپنے بچپن میں ہمیشہ ہر حال میں خوش رہتا ہے۔ اسے کسی بات کی فکر نہیں رہتی۔ اسکول کی یاری، پڑھائی اور کھیل کود بس بچپن کی یہی زندگی ہوتی ہے۔

Advertisement

(2) جوانی

انسان کی زندگی کا دوسرا پہلو اس کی جوانی ہے۔ انسان کی زندگی کا یہ پہلو بڑا ہی نازک ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں انسان اپنی زندگی کو آس پاس کے ماحول کی طرح ڈھالنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ پھر چاہے وہ اچھا ماحول ہو یا پھر برا۔ اسے اچھے اور برے میں فرق نظر نہیں آتا اور جوانی کا جوش اُس پر ایسا چڑھتا ہے کہ وہ غلط کام کرنے کو بھی تیار رہتا ہے۔ آج کل کے نوجوان تو زندگی میں چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایسے مایوس ہوتے ہیں کہ وہ بس خودکشی کا راستہ ہی اپنا لیتے ہیں جبکہ اسلام میں خودکشی حرام ہے۔

(3) بڑھاپا

زندگی کا تیسرا اور آخری پہلو بڑھاپا ہے۔ اس عمر میں انسان کو اپنی کی ہوئی غلطیوں پر پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ اس وقت تک انسان کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی کا صحیح مقصد کیا ہے اور تب وہ اپنے پرانے وقت کو واپس پانا چاہتا ہے جس سے وہ اپنی زندگی دوبارہ صحیح طریقے سے گزار سکے لیکن کہتے ہیں نہ "بیتا ہوا پل کبھی واپس نہیں آتا”۔

Advertisement

زندگی سے متعلق شعر

یہ جو زندگی کی کتاب ہے یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں ایک حسین سا خواب ہے کہیں جان لیوا عذاب ہے

زندگی گزارنے کا سلیقہ ہر انسان کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھنا چاہیے۔ اگر ہر انسان ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلے تو زندگی خوشگوار بن جائے گی۔ اس سے انسان کی دنیا بھی اچھی رہے گی اور آخرت میں بھی وہ کامیاب ہو گا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement