Advertisement

ماحولیات میں آلودگی

پہلے ہندوستان بہت ہی خوبصورت تھا اور اس وقت ہر شے خوبصورت لگتی تھی۔ شہر، قصبے، گاؤں، ندی نالے، چشمے، نہریں، ندیاں، دریا، پہاڑ، سڑکیں، کچے پکے راستے اور کھیت سب کچھ حسین تھا۔ صاف ستھرا ماحول، موسم اپنے وقت پر بدلتے، کسان وقت پر بوتے، وقت پر کاٹتے۔ سب کچھ فطرت کے اصولوں کے مطابق چلتا تھا۔ اس لیے خدا اور بندے دونوں ہی خوش رہتے تھے۔ لکین اب پہلے جیسا ماحول نہیں رہا جیسا کہ پہلے کے وقت میں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب سب سے زیادہ آلودگی ہندوستان میں ہی پیدا ہو گئی ہے اور کی وجہ انسان ہیں۔

Advertisement

انسان نے اپنی کارستانیوں کی وجہ سے ماحول کو آلودہ کیا ہے۔ اس کی وجہ سے اب ہندوستان کی فضائیں زہریلی ہو چکی ہیں۔ صاف شفاف ہوا آلودہ ہو چکی ہے۔ ندیاں چشمے اور دریا بد بودار ہو چکے ہیں۔ زہریلی گیسوں اور گاڑیوں کے دھوئیں نے آسمان کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ خوفناک بیماریاں تیز رفتاری سے پھیل رہی ہیں۔ اور زیادہ تر انسان اس کی گرفت میں مبتلا ہیں۔ پہلے ماحول اتنا آلودہ نہ تھا جتنا آج کے دور میں ہو گیا ہے۔ اب تو ہر طرف آلودگی ہی نظر آتی ہے۔ اور آنے والے وقت میں اس پر روک نہ لگائی گئی تو اس کا منظر اور بھی خوفناک ثابت ہوگا۔ اور فضا کی آلودگی یہ ایک عالمی مسئلہ بھی ہے۔ لیکن ہم عالمی حالات نہیں بدل سکتے ہیں۔ بہتر یہی رہے گا کہ ہم اپنے گھر پر ہی توجہ دیں اور ایسے انتظامات کریں جن سے اس پریشانی کو دور کیا جا سکے۔

Advertisement

آج کل گاؤں، قصبوں اور شہروں میں گاڑیوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ لوگوں کا چلنا محال ہو چکا ہے۔ اس اضافے سے ڈیزل، پٹرول اور گیس کے زیادہ استعمال ہونے کی وجہ سے فضا اس قدر آلودہ کر دی ہے کہ اب ماسک پہننا ضروری قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ سڑکوں اور راستوں پر پبلک ٹرانسپورٹ لائی جائے۔ جن سے دھواں نہیں نکلتا ہو اور وہ ماحول کو بھی آلود نہ کر سکیں۔

اندرونی شہروں کا سفر کے لیے ڈبل ڈیکر بسوں کا استعمال کیا جانا چاہیے کہ گاڑیوں کی تعداد میں کچھ کمی ہو سکے۔ اور سڑکوں پر رش بھی کم ہو جائے گا۔اسکولوں اور کالجوں،یونیورسٹیوں کو بسیں مہیا کی جائیں تا کہ طالب علم گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کی بجائے بسوں میں سفر کریں۔

Advertisement

موٹر سائیکل کی تعداد کم کی جائے اور کیونکہ موٹر سائیکل کے چلانے سے ہی فضا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے اسلیے سائیک کو رواج دیا جائے۔ سائیکل سواروں کے لیے سڑکوں پر ٹریک بنائے جائیں۔ کم قیمت لیکن عمدہ سائیکلیں لوگوں میں تقسیم کی جائیں۔ اور ایسی سائیکلیں بھی جو پہاڑی علاقوں میں بھی چلائی جا سکیں۔

ملکی سائنسدانوں کو اس مسئلے کے حل کے لیے ترغیب دی جائے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات دیے جائیں۔ تاکہ وہ ایسے سامان ایجاد کریں جو آلودگی روکنے میں معاون ثابت ہوں۔

Advertisement

ریل

دور کے سفر کے لیے ریل کے سفر کو عام کیا جائے اور اسے جدید اور آرام دہ بنایا جائے۔ دنیا بھر میں اس سفر کوانتہائی محفوظ سمجھا جاتا ہے اور یہ آلودگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ افسوس کہ ہم نے اس محفوظ سواری کو عام کرنے کے لیے بہت لاپرواہی برتی۔ موجودہ حکومت نے اس طرف کسی حد تک توجہ دی، لیکن اب بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

عام آگاہی

آلودگی کو کم کرنے کے لیے نچلی سطح تک لوگوں میں آگاہی مہم شروع کی جائے۔ تاکہ لوگ اس مسئلے کو سمجھ سکیں۔ اور آلودگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

Advertisement

درخت لگانا یا شجر کاری کرنا

افسوس کہ اس ملک میں شجر کاری ہر سال کی جاتی ہے لیکن ابھی تک اس کے فوائد نظر نہیں آئے۔ درخت قدرت کی سب سے خوبصورت نعمت میں سے ایک ہیں،اور یہ آلودگی کو ختم کرنے کا سب سے کارآمد نتیجہ ہیں۔ اس سے ہمیں آکسیجن فراہم ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے اور درختوں کو کاٹنا ایک قومی جرم قرار دیا جائے۔اس پر سختی سے عمل کیا جائے تاکہ ہم اس آلودہ ماحول کو کچھ حد تک کم کر سکیں۔ ہمارا مذہب بھی درختوں کے قتل عام سے منع کرتا ہے۔ درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے علماء بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شجر کاری بے شک کم کی جائے لیکن جتنی کی جائے وہ نظر آئے

فیکٹریاں اور کارخانے

فیکٹریوں اور کارخانوں کے زہریلے دھویں سے ندیاں، نہریں، تالاب ، دریا آلودہ ہو چکے ہیں۔ اس لیے پینے کے پانی کی کمی ہو رہی ہے۔ اور جو فیکٹریاں اور کارخانے زہریلے مواد کا علاج Treatment نہیں کرتے ان پر نہ صرف جرمانے کیے جائیں بلکہ اگر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئیں تو ان کارخانوں اور فیکٹریوں کو بند کر دیا جائے۔

Advertisement

ماحولیات کا محکمہ

افسوس ہے کہ ماحولیات کا محکمہ تو ہمارے ملک میں موجود ہے۔لیکن اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ اگر اس پر عمل کیا جائے تو سال کے اندر اندر اس کے اثرات کم ہوتے نظر آنے لگیں گے اور ہمارا آلودہ پانی اپنی اصل حالت کی طرف لوٹنے لگیں گا۔ ان قلیل المدت منصوبوں پر اگر آج سے ہنگامی بنیادوں پر عمل شروع کیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ برس فضائی آلودگی میں کافی حد تک کمی ہو جائے گی۔ طویل المدت منصوبوں میں فیکٹریوں ، کارخانوں، اور ندی نالوں کی وجہ سے بند کر کے گاؤں گاؤں جائزہ لے کر ان کا حل تلاش کرنا آسان ہو جاۓ گا۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں روکنے کے لیے سائنسی ذرائع اختیار کرنے پڑینگے۔

اس کے علاوہ کارخانوں اور اسپتالوں اور شہروں کا کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے مستقل حل تلاش کرنا پڑینگے۔ ملک عزیز سے آلودگی کو جلد از جلد مٹانا انتہائی ضروری ہے اور اگر ہم آلودگی کو نہ مٹا سکے تو آلودگی ہمیں مٹا دے گی۔

Advertisement

Mock Test 13

Pollution Essay In Urdu 1