”تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔“ آپﷺ کے اس فرمان کے پیشِ نظر یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض ہے۔ یہ علم دینی بھی ہے اور دنیاوی بھی، دینی علم کا حصول بطورِ مسلمان ہم پر اس لیے فرض ہے کہ ہمیں دین کے متعلق علم ہو تاکہ ہم اپنے فرائض مکمل کرسکیں اور ہم سے کسی کی حق تلفی نہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کو حاصل کرنا بھی بے انتہاء ضروری ہے کیوں کہ آج کے دور میں دنیا تیزی سے ترقی کررہی ہے اور دنیا کے ساتھ رابطے میں رہنے کے لیے تعلیم ایک واحد ذریعہ ہے۔ اگر ہم تعلیم حاصل نہ کریں گے تو دنیا سے پیچھے رہ جائیں گے اور کیڑے مکوڑوں کی طرح کچل دئیے جائیں گے۔

انسان بنیادی تعلیم اپنے گھر سے حاصل کرتا ہے اور پھر اسکول، کالج اور یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے بعد معاشرے میں ایک کامیاب انسان بن کر نکلتا ہے۔ ہمارے اسکول ، کالج اور یونی ورسٹی کی تعلیم کے لیے جو شخص ذمہ دار ہوتا ہے وہ وزیر تعلیم کہلاتا ہے۔ اگر میں وزیرِ تعلیم ہوتا تو اپنے ملک کے تمام نجی و سرکاری اسکولوں میں ایک جیسا نصاب پڑھاتا تاکہ ہر بچے کو یکساں علم ملے اور پھر روزگار کے مواقع بھی سب کو یکساں میسر ہوں۔ اگر میں وزیرِ تعلیم ہوتا تو اپنے ملک کے نصاب کو وقتاً فوقتاً بدلتا رہتا تاکہ ہمارے دنیا میں ہونے والی ترقی ہمارے نصاب میں شامل کی جاسکے۔

اگر میں وزیرِ تعلیم ہوتا تو نجی اداروں کی فیس کم کرواتا اور سرکاری اسکولوں کو بھی نجی اسکولوں جیسا بہترین بناتا تاکہ غریب بچے بھی ضرور پڑھ سکیں۔ میں کوشش کرتا کہ ہماری تعلیم مفت کردی جائے اور طلبہ کو کچھ پیسے بھی دئیے جائیں تاکہ وہ سب تعلیم حاصل کریں اور اپنا خرچہ اٹھانے کی فکر میں تعلیم سے دور نہ ہوں۔ اگر میں وزیرِ تعلیم ہوتا تو امتحانات کے وقت نقل کو بالکل فروغ نہ دیتا اور سخت نگرانی رکھواتا تاکہ محنتی طلبہ کو ان کا حق مل سکے۔

اگر میں وزیرِ تعلیم ہوتا تو اور بھی بہت کچھ کرتا لیکن میری دعا ہے کہ ہمارے ملک کو ایسے وزیرِ تعلیم ملیں جو ہمارے ملک کے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوئے بہترین اقدامات اٹھائیں تاکہ ہمارا ملک ترقی کرسکے اور ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں اپنی جگہ بناسکے۔ آمین۔