والدین (ماں باپ) پر ایک مضمون

والدین خدا کی دی ہوئی وہ نعمت ہیں جن کی تعریف میں جتنا کہا یا لکھا جائے اتنا کم ہے۔ زندگی میں آنے والے ہر مشکل موڑ کو ماں باپ ہمارے لیے آسان بنا دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کی جنریشن(اولاد) والدین کی قدر نہیں کر رہی۔ انسان جس دن سے اس دنیا میں آتا ہے اس کے ماں باپ اس کی پرورش کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔

آج ہمارے معاشرے میں والدین کو وہ عزت نہیں مل پارہی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔ والدین ہماری زندگی میں وہ عظیم الشان ہستی ہیں جن کی قدر کوئی بھی صحیح طرح سے نہیں کر پا رہا ہے۔

ویسے تو ماں اور باپ دونوں ہی زندگی کے وہ پہلو ہیں جس میں سے اگر ایک بھی کم ہوجائے تو زندگی ویران ہو جاتی ہے۔ لیکن ان میں سے ماں نے تو اپنے بچے کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اس کے لیے تکلیفیں اٹھانی شروع کر دی تھی۔ ماں نے نو مہینے اپنے پیٹ میں بچے کو رکھ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ماں کا مقام کتنا اونچا ہے۔ اس لئے خدا نے ماں کے پیروں کے نیچے جنت بنا دی ہے۔

اور باپ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بچے کے دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اس کی پرورش کی فکر میں لگ جاتا ہے۔ خون پسینا بہا کر وہ صرف اور صرف اپنے بچے، اپنی اولاد کو ہر وہ خوشی٬ ہر وہ آرام دینا چاہتا ہے٬ جو کبھی اس کو بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اس لئے خدا نے باپ کو جنت کے دروازے کا داروغہ بنادیا۔ ماں باپ اپنے ہر خواب ہر ضرورتوں کو ختم کرکے اپنی اولاد کی خوشیوں کو پورا کرتے ہیں۔ اگر پوری زندگی بھی اولاد ماں باپ کی خدمت کرے تو بھی ان کے احسانوں کا بدلہ نہیں چکا سکتی۔

والدین اپنی اولاد کو اچھی تعلیم دینے کے لیے ایک وقت بھوکے رہنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔ ہر مشکل حالات سے لڑنے کو تیار رہتے ہیں۔ صرف اپنی اولاد کی خاطر سب کچھ کرتے ہیں۔ لیکن آج کی نافرمان اولاد اپنے والدین کو بوجھ سمجھتی ہے، انہیں ایسی ایسی تکلیفیں دیتی ہے کہ وقت سے پہلے ہی وہ بستر پکڑ لیتے ہیں۔

ماں باپ کا درجہ جتنا زیادہ ہے اولاد انہیں اتنا ہی زیادہ ستاتی ہے اور اپنے لئے جہنم کا راستہ بناتی ہے۔بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کے ماں باپ کا سایہ ان کے سروں پر ہوتا ہے۔ نہیں تو ماں باپ کی اہمیت کیا ہوتی ہے وہ ان سے جاکر پوچھو جن کے والدین اس دنیا میں بقید حیات نہیں ہیں۔

خدا ان کو والدین کی خدمت کرنے والا بنا دے جو والدین کی نافرمانی کرتے ہیں۔ انہیں صحیح راستہ دکھا دے۔ والدین کے احسانوں کا بدلہ کوئی پورا نہیں کر سکتا- لیکن ان کی خدمت کرکے ان کے دل کو خوش رکھ کے انسان کچھ حق تو ادا کر ہی سکتا ہے- اس لئے ہر انسان کو اپنے والدین کی خدمت گزاری کا کوئی موقع نہیں گوانا چاہیے۔اللہ پاک ہر ایک کے والدین کو عمر درازی بالخیر عطا فرمائے۔ آمین۔

Advertisements