ریاست جموں و کشمیر ہندوستان کی واحد ایک ایسی ریاست ہے جس کی سرکاری زبان اردو ہے۔یہ سرکاری حیثیت اسے ریاست کے آئین نے دی ہے۔جموں، کشمیر اور لداخ جغرافیائی اعتبار سے تین حصوں پر مشتمل ہے جس کا قیام مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور حکومت میں اس وقت عمل میں آیا سب مارچ 1846ء میں امرتسر معاہدے کے تحت انہوں نے انگریزوں سے ریاست جموں و کشمیر پر حکومت کرنے کا اختیار حاصل کیا۔لداخ کا علاقہ پہلے سے ہی ان کی نگرانی میں تھا۔ڈوگرا خاندان نے تقریبا ایک صدی سے بھی زیادہ ریاست پر حکومت کی۔ان کے دور حکومت میں ریاست کا بیشتر کام فارسی زبان میں ہوتا تھا۔اسی کے ساتھ ہی ساتھ ڈوگری زبان کی سرپرستی بھی کی جا رہی تھی۔

ڈوگرہ شاہی خاندان کے تعلقات شمالی ہندوستان کے شاہی درباروں کے ساتھ گہرے تھے اس لیے انیسویں صدی میں شمالی ہندوستان میں اردو کی ترقی اور فارسی زبان کے زوال پذیر ہونے کی وجہ سے ڈوگروں کی لسانی حکمت عملی پر بھی اثر پڑا۔ہندوستان کے شمالی علاقوں سے مختلف کاموں سے جو لوگ جموں آتے تھے وہ زیادہ تر اردو زبان میں بات چیت کرتے تھے۔ڈوگری زبان پنجابی سے گہرا لسانی رشتہ رکھنے کی وجہ سے اردو کے بھی بہت قریب تھی۔اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے جموں خطہ سے تعلق رکھنے والوں کو اردو سیکھنے میں کوئی زیادہ مشکل پیش نہ آئی۔چناچہ رنبیر سنگھ کے دور حکومت سے ہی جموں میں اردو کے لیے سازگار ماحول قائم ہونے لگا۔ رنبیر سنگھ کے دربار سے وابستہ دانشور اردو سے واقف تھے۔جموں میں اردو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ریاست کی لسانی تقسیم اور ہندوستان سے تہذیبی و تجارتی رابطوں کے پیش نظر مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جانشین مہاراجہ پرتاب سنگھ نے فارسی کی جگہ اردو کو 1889ء میں سرکاری زبان کا درجہ دیا۔اس طرح ریاست میں اردو زبان کی ترقی کے لیے راہ ہموار ہوگی۔اس طرح بیسویں صدی کے وسط تک ریاست میں سیاسی، ادبی، تعلیمی اور صحافتی غرض کہ ہر سطح پر اردو زبان کا ایک اہم اور واضح دور متعین ہوچکا تھا۔اس کے بعد 1956ء میں جب ریاست کا آئین منظور کیا گیا تو ریاست کی قانون ساز عملی میں اردو کی مقبولیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسے ریاست کی سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔

اس طرح اس زبان کو سرکاری زبان کا درجہ ملنے کے بعد اس کی مقبولیت اور بھی بڑھنے لگی۔ریاست کے تمام دفاتر میں اس کام کاج بھی اردو میں ہونے لگا۔مہاراجہ کے دور سے آج تک دفتری کام کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ مہاراجہ کے دور میں جس طرح سے دفتری کام اردو میں ہوتا تھا آج سرکاری سطح پر اس زبان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔اگرچہ کہ اسے سرکاری و دفتری زبان کا درجہ تو دے دیا گیا لیکن سرکار اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہی۔یہ زبان اب پچھلی چند دھائیوں سے سرکار کی بے توجھی اور لاپرواہی کا شکار ہے۔ریاست کے تمام دفاتر میں اب اردو کی جگہ انگریزی زبان نے لے لی ہے۔ریاست کی آئی اے ایس ایف آئی پی ایس افسر اردو نہ جاننے کی وجہ سے اس کے ساتھ ایک امتیازی سلوک کر رہے ہیں۔ریاست کے سول سیکٹریٹ میں سارا کام انگریزی میں انجام دیا جا رہا ہے۔پولیس، محکمہ مال اور عدالتوں میں تھوڑا سا کام اردو میں تو ہو رہا ہے لیکن اعلی سطح پر سارا کام انگریزی میں ہو رہا ہے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان محکموں میں جب بھی افسروں کی تقرری کی جاتی ہے تو اس وقت ان کے لیے اردو کی واقفیت نہیں رکھی جاتی۔اگر ایسا ہوتا تو اس زبان کی مقبولیت اور بھی بڑھ جاتی۔نچلی سطح پر بھی تقرریاں اسی طرح سے کی جارہی ہیں۔اس سے بھی اردو زبان کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے۔

جہاں تک ریاست کے تعلیمی نظام کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بیس پچیس سال قبل ریاست کے تمام اسکولوں میں دسویں جماعت تک تاریخ، جغرافیہ اور سائنس جیسے مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے اس سے بھی اردو زبان کو ایک خاص تقویت ملتی تھی اور ریاست میں اس کا ایک خاص مقام تھا۔یہاں کا ہر پڑھا لکھا طبقہ اردو اچھی طرح سے بولتا، لکھتا اور پڑھتا تھا لیکن ریاست میں انگلش میڈیم سکول کھل جانے کے بعد تمام مضامین انگریزی میں پڑھائے جانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اس سے بھی اردو زبان کے ساتھ تعلیمی سطح پر ایک ایسی ناانصافی ہوئی جس نے اس زبان کی ترقی کے راستے میں ہ رکاوٹیں پیدا کردیں اور اردو کی سرکاری حیثیت کی راہ میں مشکلات کھڑی کر دی۔کیونکہ طلباوطالبات اسکول میں بات چیت زیادہ اردو میں کرتے ہیں کتنا اچھا ہوتا کہ اگر یہ مضامین بھی اردو میں پڑھائے جاتے۔یہ زبان اب صرف کاغذوں میں ہی سرکاری زبان رہ گئی ہے،عملی سطح پر کوئی کام کاج نہیں ہورہا ہے۔ ریاستی سرکار کے جھوٹے وعدے بھی اسے انصاف نہیں دلا سکے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ چند ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے سرکاری اور دفتری سطح پر اردو کی ترقی ہوسکے۔

آخر میں مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی سو فیصد آبادی اردو بولتی، پڑھتی اور لکھتی ہے۔عوام میں اردو کا خاص چلن ہے اور اس زبان میں ایسی مٹھاس ہے کہ اس کے چاہنے والے پوری ریاست میں موجود ہیں۔عوام میں کسی طرح کا منفی رحجان نہیں پایا جاتا۔بلکہ سرکار کا رویہ اردو زبان کے لیے اچھا نہیں ہے۔ لیکن مایوس ہونے کی کوئی بات نہیں آج بھی ریاست میں ہزاروں اخبارات رسائل اور جرائد اردو میں شائع ہوتے ہیں جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی اہمیت اور مقبولیت میں آج بھی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ ضرورت اس عمل کی ہے کہ سرکار ایک رائے عمل تیار کرے اور باقاعدہ ایک پالیسی بنائی جس سے اس زبان کی دفتری اور سرکاری حیثیت میں اضافہ ہو۔

Advertisements