Advertisement
  • کتاب “سب رنگ” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر01:نظم
  • شاعر کا نام: ناصر کاظمی
  • نظم کا نام: بارش کی دعا

تعارف شاعر:

ناصر کاظمی انبالہ میں پیدا ہوۓ۔ تقسیم وطن سے قبل ہی وہ ایک شاعر کی حیثیت سے کافی ہو چکے تھے۔ 1947 کے بعد پاکستان جا کر لاہور میں سکونت اختیار کر لی ۔ ناصر کاظمی نے اس دور میں غزل گوئی کی جب زیادہ تر شعر انظم گوئی کی طرف مائل تھے۔ ناصر کاظمی نے روایتی غزل سے الگ ایک راہ نکالی جو زبان و بیان کے اعتبار سے نئی ہے۔جس میں آج کے انسان کے کرب کو پیش کیا گیا ہے ۔ ان غزلوں کی ایک بڑی خوبی لیجے کا دھیما پن اور احساس کی تازگی ہے۔ آزادی کے بعد کی غزل پر ناصر کاظمی کا گہرا اثر ہے۔

Advertisement

ناصر کاظمی کی غزل کے مشہور مجموعے برگ نے اور دیوان ہیں ۔ ان کا تیسرا مجموعہ پہلی بارش ان کے انتقال کے بعد 1975 میں شائع ہوا۔اب کلیات بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔

Advertisement

نظم بارش کی دعا کی تشریح:-

اے داتا بادل برسا دے
فصلوں کے پرچم لہرا دے

یہ شعر ناصر کاظمی کی نظم “بارش کی دعا” سے لیا گیا ہے۔اس نظم کے ذریعے شاعر نے اللہ تعالیٰ سے بارش برسنے کی دعا کی ہے۔ اس شعر میں شاعر عطا کرنے والے رب،داتا یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اے داتا ہم پر اپنا کرم فرما اور بادلوں کو برسا دے۔ ان بادلوں کے برسنے سے انسانوں کا فائدہ ہو گا۔ بادلوں کو برسا کر ہمارے لیے فصلوں کو لہلا کر ہرا بھرا کر دے۔

دیس کی دولت دیس کے پیارے
سوکھ رہے ہیں کھیت ہمارے

اس شعرمیں شاعر کہتا ہے کہ اے رب بارش نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ملک کی دولت خواہ وہ انسان ہوں یا یہاں کی فصلیں دونوں ہی پانی کی کمی کا شکار ہیں۔سب کھیت پانی کی کمی کی وجہ سے سوکھ رہے ہیں تو اے ان داتا ہم پر کرم کر اور بارش برسا دے۔

Advertisement
ان کھیتوں کی پیاس بجھا دے
اے داتا بادل برسا دے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے داتا بارش برسانے والے رب ہمارے بادلوں کو برسا کر ہمارے کھیتوں کی پیاس بجھا دے اور ہم پر اپنا کرم کردے۔ہم پر اپنی رحمت کی بارش برسا۔

یوں برسیں رحمت کی گھٹائیں
داغ پرانے سب دُھل جائیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے رحمتیں برسانے والے رب ہم پر بارش کو اس طرح سے رحمت بنا کر برسا کہ اس سے صرف ہماری فصلوں کے ساتھ ساتھ ہمارے سارے گناہ بھی دھل جائیں۔ رحمت کی یہ گھٹا ہم پر برسا دے۔

Advertisement
اب کے برس وہ رنگ جما دے
اے داتا بارش برسا دے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے مہربان و رحمان رب ہم پر رحمت کی بارش برسا۔ وہ بارش ایسی ہو کہ جو ہم پر برسے تو رحمت کے رنگ جما دے۔

کھیتوں کو دانوں سے بھر دے
مردہ زمیں کو زندہ کر دے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے رحمان رب ہم پر اپنی رحمت کی بارش برسا دے تا کہ یہ بارش ہمارے کھیتوں کو دانوں سے بھر دے اور ہماری مردہ زمین کو زندہ کر دے۔ زمین کے ساتھ ساتھ یہ رحمت ہمارے دلوں کو بھی زندہ کردے۔

Advertisement
تو سنتا ہے سب کی دعائیں
داتا ہم کیوں خالی جائیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے مہربان رب تو سب کی دعائیں سنتا ہے اور کوئی بھی تیرے در سے خالی ہاتھ نہیں جاتا ہے۔ پھر ہم تیرے در سے خالی ہاتھ کیوں جائیں گے۔ ہمیں اپنی رحمت سے نواز دے۔

ہم کو بھی محنت کا صلہ دے
اے داتا بادل برسا دے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے رحمن رب ہمیں اپنی رحمت سے نواز اور ہمیں ہماری محنت کا صلہ دے۔ہم پر بادل برسا دو۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:-

شاعر کیا دعا مانگ رہا ہے؟

شاعر اللہ تعالیٰ سے بادل کے برسنے کی دعا مانگ رہا ہے۔

فصلوں کے پرچم لہرانے کا کیا مطلب ہے؟

فصلوں کے پرچم لہرانے سے مراد ہے کہ بارش کے برسنے کے بعد کھیت سیراب ہو جائیں اور فصلیں لہلانے لگ جائیں۔وہ ہری بھری ہو کر لہرانے لگیں۔

Advertisement

کھیتوں کو دیس کی دولت کیوں کہا گیا ہے؟

کھیتوں کو دیس کی دولت اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ کھیت ہی اس دیس کے لوگوں کو خوراک مہیا کرتے اور ان کی زندگی کے ضامن ہیں۔ اس لیے یہ کسی دولت سے کم نہیں ہیں۔

بارش نہ ہونے سے کیا نقصان ہوتا ہے؟

بارش نہ ہونے سے فصلیں سوکھ جاتی ہیں اور قحط سالی بڑھ جاتی ہے۔ گرمی کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

Advertisement

مردہ زمیں کو ز ندہ کردے سے کیا مراد ہے؟

مردہ زمین کو زندہ کرنے سے مراد ہے کہ بارش برسنے کے بعد زمین،کھیت اور فصلوں وغیرہ کی تازگی اور ہریالی لوٹ آئے۔مردہ زمین کو زندہ کرنا زمین کو سیراب کرنا ہے۔

Advertisement