ادبی تاریخ ، تاریخ بھی ہے اور ادب بھی۔ ادبی تاریخ نگاری میں تاریخی اور ادبی دونوں اصولوں سے کام لیا جا تا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ادبی حقیقت اور تاریخی حقیقت میں فرق ہے۔ ادب کی بنیاد جذبہ تخیل پر ہے۔ جب کہ تاریخ ٹھوس حقائق پر مبنی ہوتی ہے۔ اس لیے تاریخ کی حیثیت ایک علم کی ہے اور ادبی تاریخ کی حیثیت ایک ادبی دستاویز کی ہے۔ لیکن تحقیق و تلاش کے جو تقاضے تاریخ کے ساتھ مخصوص ہیں، انھی تقاضوں کو ادبی تاریخ کی تیاری کے دوران مد نظر رکھا جا تا ہے۔

ادبی تاریخ ، تاریخ نگاری کے اصولوں کی رہ نمائی میں تیار ہوتی ہے۔ لیکن ادبی تاریخ صرف تواریخ کی کھتونی نہیں ہوتی اس میں درجہ بندی سے بھی کام لیا جا تا ہے اور وہ تنقید کے عمل سے بھی گزرتی ہے۔ ضرورت کے مطابق تقابل کو بھی بنیاد بناتی ہے۔ چوں کہ اس کا موضوع ادب ہوتا ہے۔ اس لیے ادب کی تاریخ کی زبان میں علمیت کے ساتھ ادبیت کا رنگ بھی پایا جا تا ہے۔

ادبی تاریخ کیا، کیسے اور کیوں کا جواب دیتی ہے یعنی کیا لکھا گیا اور ایسا کیوں کر لکھا گیا۔ ایک خاص قسم کے اسلوب، رجحان، موضوع کی تکرار اور تحریک کے پیچھے کون سے محرکات کام کرتے ہیں۔ ایک ہی دور میں مختلف شعرا کے اسالیب اور اظہار کے طریقوں میں فرق کیوں پیدا ہوتا ہے؟ اور ان کی کیا وجوہ ہوسکتی ہیں ؛ ادبی مؤرخ ان سوالوں کے جواب فراہم کرتا ہے۔

اولین مؤرخ عہد بہ عہد ادب کا جائزہ لیتا ہے اور ان کے مابین امتیاز کی نوعیت کو واضح کرتا ہے۔ وہ کسی فن پارے کو کم زور یا غیر معیاری قرار دے کر رد نہیں کرتا بلکہ وہ غیر معیاری فن پارے میں بھی اس عہد کے طرز فکر اور جاری رجحان کو دکھانے کی سعی کرتا ہے۔ ادبی مؤرخ کو ہمیشہ معروضی اور غیر جانبدار ہونا چاہیے۔

ادبی تاریخ کا پہلا سراغ تذکروں میں ملتا ہے جو تکنیکی طور پر مکمل ادبی تاریخ نہیں تھے۔ لیکن بعض تذکروں میں تاریخ کے کچھ نقوش ضرور ملتے ہیں۔محمد حسین آزاد کی آب حیات اور عبدالئی کی گل رعنا ادبی تاریخ کے ابتدائی نمونے ہیں۔ پھر دکنی ادب کی تاریخیں سامنے آئیں جیسے شمس اللہ قادری کی تاریخ اردوئے قدیم اور نصیر الدین ہاشمی کی دکن میں اردو۔ ان میں کسی حد تک ادبی تاریخ کے اصولوں کی پیروی کی گئی ہے۔

اردو میں نثری ادب کی بھی تاریخیں لکھی گئی ہیں جیسے محمد یحییٰ تنہا کی سیر مصنفین ، احسن مارہروی کی تاریخ نثر اردو اور حامد حسن قادری کی داستان تاریخ اردو۔اردو ادب کی تاریخ کے سلسلے میں عبدالسلام ندوی کی ‘شعر الہند اور رام بابو سکسینہ کی تاریخ ادب اردو میں تاریخ نگاری کے اصولوں کو برتنے کی اچھی کوشش نظر آتی ہے۔

اعجاز حسین ، احتشام حسین ، جمیل جالبی اور تبسم کاشمیری نے اردو میں ادبی تاریخ لکھنے کا ایک معیار قائم کیا ہے۔ اس سلسلے میں گیان چند جین ،سلیم اختر ، سیدہ جعفر ، وہاب اشرفی اور انور سدید کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔