• اردو کی ادبی اصناف (ثانوی و اعلیٰ جماعت کے لیے)
  • سبق نمبر02: نثری اصناف

تنقید کی تعریف

ہر انسان میں اچھے اور برے، کھرے اور کھوٹے کو سمجھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ کسی ادبی فن پارے کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرنے کا عمل تنقید کہلا تا ہے۔ تنقید کے لغوی معنی پرکھنے یا کھرے کھوٹے کی پہچان کرنے کے ہیں۔ اصطلاح میں فن پاروں کی خوبیوں اور خامیوں کا صیح اندازہ لگانا اور ان پر کوئی رائے قائم کرنا تنقید ہے۔

تنقید کے دو مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے میں تنقید کا عمل تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہو جاتا ہے۔ تخلیق کار کچھ لکھتا ہے، پھر اسے مزید بہتر بنانے کے لیے اس میں کاٹ چھانٹ یا ترمیم و اضافہ کرتا ہے اور ہر اعتبار سے مطمئن ہوکر اسے آخری شکل دیتا ہے۔ جس تخلیق کار کا تنقیدی شعور جتنا زیادہ پختہ ہوتا ہے اس کی تخلیق میں اس قدر پختگی اورنکھار بھی پایا جا تا ہے۔

دوسرے مرحلے پر وہ قاری ہوتا ہے جسے نقاد کہتے ہیں۔ وہ اس فن پارے کا جائزہ لیتا ہے اور اسے فن کی کسوٹی پر جانچتا ہے۔ نقادکسی فن پارے کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کی تخلیق کے محرکات ، مصنف کے مزاج ، موضوع کے تئیں اس کے رویے اورفن پارے کی فنی خوبیوں اور خامیوں کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔

عام قاری کتاب کا مطالعہ سرسری انداز میں کرتا ہے۔اس کا مقصد عموماً وقت گزاری، لطف اندوزی یا اپنی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔لیکن تنقید نگار جب کوئی تحریر پڑھتا ہے تو ایک ایک لفظ اور فقرے پر غور کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں اس کے فنی اصول بھی ہوتے ہیں۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ تخلیق کار نے ان فنی اصولوں کا کتنا خیال رکھا ہے۔

ہر صنف ادب کے کچھ مقررہ اصول ہوتے ہیں، انھیں اصولوں کی روشنی میں تخلیقات کا جائزہ لیا جا تا ہے۔ تنقید نگار کے لیے ذاتی پسند و ناپسند سے زیادہ اہم وہ ادبی معیار ہوتے ہیں جن کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔

نقاد کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مطالعہ وسیع ہو، اپنے زبان و ادب کے علاوہ دیگر زبانوں کے ادب پر بھی اس کی نظر ہو، مختلف علوم سے واقفیت ہو، اور جس موضوع پر وہ لکھ رہا ہے اس پر اسے عبور حاصل ہو۔ نقاد کے لیے مطالعے کے دوران معروضیت سے کام لینا بھی ضروری ہے۔ شعر و ادب کی تخلیق میں تاریخ، تہذیب، عہد و ماحول، معاشی صورت حال ،فن کار کی شخصیت اور کئی دیگر عوامل بالواسطہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ فن پارے کا جائزہ لیتے ہوئے تنقید نگار اکثر ان امور کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔

تنقید نگار یہ دیکھتا ہے کہ فن پارے میں جن تجربات کی عکاسی کی گئی ہے یا جس موضوع پر اظہار خیال کیا گیا ہے اس کی اہمیت کیا ہے۔ جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں کوئی نئی بات پیش کی گئی ہے یا نہیں۔ مصنف کی پیش کش کا انداز کیا ہے۔ مصنف جو کچھ کہنا چاہتا ہے اس کی ترسیل میں کس حد تک کامیاب ہوا ہے۔

تنقید کے نظریات

ہر نقاد کا اپنا مخصوص نقطۂ نظر ہوتا ہے اور اسی کے مطابق وہ کسی نثری یا شعری تخلیق کا جائزہ لیتا ہے۔بعض نقاد کسی نہ کسی نظریے کی روشنی میں ادب کی جانچ پرکھ کرتے ہیں۔ جیسے تاریخی نظر یہ تنقید ، نفسیاتی نظریہ تنقید ، تاثراتی نظریہ تنقید، جمالیاتی نظریہ تنقید ہیئتی نظر یہ تنقید وغیرہ۔

تاریخی تنقید

تاریخی نظریہ تنقید کے تحت ادبی تفہیم میں تاریخ کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ تاریخی نقاد کے خیال میں ادبی تخلیق کے عمل میں تاریخی محرکات کا دخل دوسرے عوامل سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس ذیل میں اقتصادی ، معاشرتی اور تہذیبی اقدار بھی زیر بحث آتی ہیں۔ مارکسی یا ترقی پسند تنقید کا یہی طریقہ کار ہے۔

نفسیاتی تنقید

نفسیاتی تنقید ادیب کے ذہنی مطالعے پراساس رکھتی ہے۔وہ ان گروہوں کو اجاگر کرتی ہے جو کسی فرد کی شخصیت کو بنانے یا بگاڑنے میں خاص کردار ادا کرتے ہیں۔

تاثراتی تنقید

تاثراتی تنقید میں محض ان تاثرات کو اہم خیال کیا جاتا ہے جو ادبی مطالعے کے دوران فوری طور پر نقاد کے ذہن میں اپنا نقش قائم کر لیتے ہیں۔ یہ بھی براہ راست مطالعے کی ایک شکل ہے۔ تاثراتی نقاد کی تفہیم ذہنی آزادی کی مظہر ضرور ہوتی ہے لیکن یہ اندیشہ بھی لگا رہتا ہے کہ ذہنی آزادی تخلیقی وفور میں نہ بدل جائے۔ تنقید کا ہر عمل معروضیت اور ضبط کا مطالبہ کرتا ہے لیکن جب تاثرات پر تخلیقیت حاوی ہو جاتی ہے تو ضبط کی حد میں ٹوٹنے لگتی ہیں اور تنقیدی شہ پارہ ، اسلوب کی پرستاری کی مثال بن جاتا ہے۔ اسی بنا پر بعض ناقدین نے تاثراتی تنقید کو تخلیقی تنقید کا نام بھی دیا ہے۔

جمالیاتی تنقید

اگر چہ جمالیاتی تنقید بھی تاثر سے خالی نہیں ہوتی لیکن جمالیاتی نقاد تخلیق کے اندر چھپے ہوئے حسن کی تلاش کو بنیاد بنا تا ہے۔ جمالیات کے تصورات اس کے لیے رہ نما اصول کا کام کرتے ہیں۔ عموماً عیب جوئی سے اس کا سروکار نہیں ہوتا۔ اس بنا پر جمالیاتی تنقید تنقید سے زیادہ حسین کہلاتی ہے۔

سائنٹفک تنقید

سائنٹفک تنقید ایک طریقہ کار کا نام ہے۔ جو نقاد غیر جانبداری اور معروضیت کے ساتھ کسی فن پارے کا تجزیہ کرتے ہیں، ان میں استدلال کا رنگ گہرا ہوتا ہے۔ اس طرح سائنٹفک تنقید فن پارے کی تفہیم میں مادی حالات کے تجزیے کی روشنی میں نتائج اخذ کرتی اور سماجی اقدار کو زیر بحث لاتی ہے۔فن پارے کی قدرو قیمت کا تعین اس کی آخری منزل ہوتا ہے۔

ہیئتی تنقید

ہیئتی تنقید میں لفظ و معنی کے مباحث کو بنیاد بنایا جا تا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی تحریر یا متن نے کن اصولوں کی بنیاد پرفن پارے کی شکل اختیار کی ہے۔ ادبی تخلیق میں لفظ کے لغوی مفہوم کے مقابلے میں تعبیری مفہوم کی زیادہ اہمیت ہے۔ چوں کہ زبان تخلیقی ہوتی ہے اور الفاظ ایک سے زیادہ معنی کے حامل ہوتے ہیں اس لیے معنی کی کثرت سے ابہام بھی واقع ہوتا ہے۔ ہیئتی نقاد معنی کی ان گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہیتی تنقید فن کے علاوہ کسی بھی خارجی فلسفے یا نظریے کے اطلاق کو غیر ضروری قرار دیتی ہے۔ اس میں تاریخ، اقتصادیات اورنفسیات کا علم بھی شامل ہے۔ ہیئتی تنقید کو جدیدیت کے عہد میں فروغ ملا۔

اسلوبیاتی تنقید

اسلوبیاتی تنقید بھی ایک اہم دبستان تنقید ہے۔ اس میں کسی مصنف کے پیرایہ بیان کا تجزیہ کر کے اس کی نوعیت اور خصوصیات اجاگر کی جاتی ہیں۔ یہ تجزیہ اسلوب کی بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔ اس طرح محاکمے میں قطعیت ومعروضیت کا رنگ گہرا ہوتا ہے۔

اردو میں تنقید کی روایت:

اردو شعرا کے تذکروں میں تنقید کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں لیکن تنقید کا باقاعدہ آغاز مولانا الطاف حسین حالی کی ‘مقدمہ شعر و شاعری سے ہوا۔ انھوں نے جب اپنا دیوان مرتب کیا تو اس کے طویل مقدمے میں شاعری اور اس کی مختلف اصناف پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس مقدمے کے بعد شبلی نعمانی ، امداد امام اثر ، عبد الرحمن بجنوری ، مولوی عبد الحق اور نیاز فتحپوری نے تنقید پر توجہ دی۔

بیسویں صدی کے اہم ناقدین میں اختر حسین رائے پوری ، مجنوں گورکھپوری ، احتشام حسین، کلیم الدین احمد، آل احمد سرور، خورشید الاسلام، اسلوب احمد انصاری، محمد حسن عسکری، محمد حسن ، وزیر آغا ، قمر رئیس، وارث علوی ،شمس الرحمن فاروقی ، گوپی چند نارنگ، وہاب اشرفی اور شمیم حنفی کے نام شامل ہیں۔