Advertisement

مستزاد کے لفظی معنی میں اضافہ کیا گیا ۔ ایسی نظم ، غزل یا رباعی مستزاد کہلاتی ہے جس کے ہر مصرعے کے بعد متقی موزوں فقروں کا اضافہ کیا گیا ہو۔ اس کی دو قسمیں ہیں۔ اگر بڑھایا گیا فقرہ مصرع سے تعلق نہ رکھتا ہو تو اسے مستزاد عارض کہتے ہیں۔ اگر یہ فقرہ مصرعے سے مربوط ہوتو مستزاد الزم کہلاتا ہے۔ مصرعے کے بعد کے اضافی فقروں کی تعداد متعین نہیں ہے یعنی ایک یا ایک سے زائد فقرے ہو سکتے ہیں ۔ ایک فقرے کی مثال ملاحظہ ہو:

جادو ہے نگہ، جھب ہے غضب، قہر ہے مکھڑا اور قد ہے قیامت
غارت گر دیں وہ بت کافر ہے سراپا اللہ کی قدرت
جرات۔

دو فقروں والی مستزاد کی مثال:

Advertisement
نالہ زن باغ میں ہو بلبل ناشاد نہیں
بند رکھ کام و زباں کر نہ فریاد و بکا
ڈر یہی ہے کہ خفا ہو ستم ایجاد نہیں
باغباں دشمن جاں گھونٹ ڈالے نہ گلا
(شاذ لکھنؤی)
Advertisement

Advertisement