Advertisement

کتاب”گلزارِ اردو”برائے نویں جماعت۔

Advertisement

تعارف مصنف:

ان کا نام اسرار الحق جبکہ تخلص مجاز کرتے تھے۔1909ء میں اتر پردیش کے قصبے رودلی میں پیدا ہوئے۔جبکہ 1955ء میں وفات پائی۔سینٹ جانس کالج آگرہ سے انٹر جبکہ مجازؔ نے 1935 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کیا تھا۔آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازمت کی۔دہلی ریڈیو اسٹیشن سے شائع ’آواز‘ کے پہلے مدیر مجازؔ ہی تھے۔ انہوں نے کچھ وقت بمبئی انفارمیشن میں بھی کام کیا تھا اور پھر لکھنؤ آکر ’نیا ادب‘ اور ’پرچم‘ کی ادارت کی۔ اس کے بعد دہلی میں ہارڈنگ لائبریری سے منسلک ہوئے تھے۔ ممبئی میں قیام کے دوران چند فلموں کے گیت لکھے۔

Advertisement

مجاز رومانی شاعر تھے۔آپ ترقی پسند تحریک سے متاثر تھے جس کی وجہ سے ان کی شاعری دوسرے رومانوی شعرا سے الگ ہے۔اس میں انقلابی جوش اور فکر کی گہرائی موجود ہے۔ان کی شاعری میں ان کے دور کے معاشی اور معاشرتی حالات کے ساتھ ساتھ شاعر کی اپنے دور کی زندگی کا عکس بھی نمایاں ہے۔ان کا مجموعہ کلام آہنگ 1938ء میں شائع ہوا۔اس کا تیسرا ایڈیشن اضافے کے ساتھ "شب تاب ” کے عنوان سے منظر عام پر آیا جبکہ چوتھا ایڈیشن 1949ء میں ” ساز نو” کے نام سے شائع ہوا۔ 1952ء تک کا ان کا کلام "آہنگ ” کے نام سے موجود ہے۔

نظم رات اور ریل کی تشریح:

پھر چلی ہے ریل اسٹیشن سے لہراتی ہوئی
نیم شب کی خامشی میں زیر لب گاتی ہوئی

یہ شعر اسرار الحق کی نظم "رات اور ریل” سے لیا گیا ہے جس میں وہ ریل کے سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ریل گاڑی اپنے اسٹیشن سے لہراتی ہوئی اپنی منزل کی جانب رواں دواں دکھائی دے رہی ہے۔ریل کے اس سفر کا آغاز آدھی رات کے وقت ہوا ہے اس لیے اس کی رفتار اور آواز میں رات کا یہ سناٹا بھی شامل ہے اور اس سناٹے میں گاتے ہوئے ریل اپنی منزل کی جانب نکل کھڑی ہوئی ہے۔

Advertisement
ڈگمگاتی جھومتی سیٹی بجاتی کھیلتی
وادی و کہسار کی ٹھنڈی ہوا کھاتی ہوئی

شاعر کہتا ہے کہ یہ ریل اپنے سفر کا آغاز بہت ہی خوبصورت اور دلکش انداز میں ڈگمگاتے،سیٹی بجاتے اور جھومتے،گاتے انداز میں کر رہی ہے۔اور خود بھی اور اپنے مسافروں کو بھی وادیوں اور پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کھلا رہی ہے۔

Advertisement
تیز جھونکوں میں وہ چھم چھم کا سرود دل نشیں
آندھیوں میں مینہ برسنے کی صدا آتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ریل کی رفتار کے ساتھ ساتھ ہوا کے ان تروتاز جھونکوں کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ تازہ ہوا کے جھونکے ایک دلنشین سرور کی طرح چھم چھم کر کے برس رہے ہیں۔ ان جھونکوں کی مدھر پکار یوں محسوس ہورہی ہے کہ جیسے کہیں مینہ برس رہا ہو۔

جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت
ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس سفر میں ریل کی یہ آواز یوں محسوس ہو رہی تھی کہ جیسے خوبصورت موجوں کی نغمے کی آواز ہو اس میں موجوں کا سا ترنم موجود تھا۔یوں لگ رہا تھا کہ کہیں پر جک ہریاں گیت گا رہی ہوں اور ایک ایک سر میں وہ ہزاروں نغمے گائے جا رہی ہوں۔

Advertisement
ٹھوکریں کھا کر لچکتی گنگناتی جھومتی
سر خوشی میں گھنگروؤں کی تال پر گاتی ہوئی

شاعر ریل کے سفر کے حوالے سے کہتا ہے کہ یہ ریل لچکتی،گنگناتی، جھومتی اور ٹھوکریں کھاتی ہوئی اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اس کی آواز میں گھنگھرووں کی تال جیسی خوشی اور مدھر پن کا احساس موجود تھا۔

ناز سے ہر موڑ پر کھاتی ہوئی سو پیچ و خم
اک دلہن اپنی ادا سے آپ شرماتی ہوئی

شاعر کہتا ہے کہ یہ ریل ہر موڑ کر بہت ناز و ادا سے بل کھاتی تھی اس کے بل کھانے کا انداز اور اس کی لچک اور نازگی اپنے اندر نئی نویلی اور شرماتی ہوئی دلہنوں والی ادائیں لیے ہوئے تھی۔

Advertisement
رات کی تاریکیوں میں جھلملاتی کانپتی
پٹریوں پر دور تک سیماب جھلکاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ریل کا سفر چونکہ رات کا تھا اس لیے رات کی گہری تاریکی میں یہ یوں کانپتی اور جھلملاتی تھی کہ گویا اور اس کے جھلملانے سے دور دور تک پٹریوں ہر موتی اور روشنی بکھر جاتی ہو۔

تیز تر ہوتی ہوئی منزل بمنزل دم بہ دم
رفتہ رفتہ اپنا اصلی روپ دکھلاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ریل اپنے سفر کی جانب رواں دواں ہے اور ہر گزرتے لمحے اور منزل کے ساتھ اس کی رفتار میں بھی تیزی آتی جارہی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ اپنی تیزی اور کارناموں کی وجہ سے وہ اپنا اصلی رنگ و روپ ظاہر کررہی ہے۔

Advertisement
سینۂ کہسار پر چڑھتی ہوئی بے اختیار
ایک ناگن جس طرح مستی میں لہراتی ہوئی

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ راستے میں آنے والے پہاڑوں میں یہ ریل ءوں محو سفر ہے کہ یہ بے خوف و خطرہ پہاڑوں کے سینے پر چڑھائی کرتی ہے اور پہاڑوں میں اس کا چلنا یوں منظر پیش کرتا ہے کہ گویا کوئی ناگن مستی میں لہراتی ہوئی جارہی ہو۔

مرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خرام
وادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ ریل خوبصورت باغات اور مرغ زار وادیوں میں یوں دکھلائی دیتی ہے کہ گویا بہت ہی مشکل کام انجام دے رہی ہو جبکہ وادیوں میں سے اس کا گزر ایسے ہے کہ جیسے بادل منڈلا رہے ہوتے ہیں۔

Advertisement
اک پہاڑی پر دکھاتی آبشاروں کی جھلک
اک بیاباں میں چراغ طور دکھلاتی ہوئی

اس شعر میں ریل کی منظر کشی کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ ایک پہاڑ پر یہ ریل ایسا نظارا پیش کرتی ہے کہ گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آبشار بہہ رہے ہوں جبکہ کسی جنگل میں یہ روشن چراغ طور کا نظارا معلوم ہوتی ہے۔

جستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار
اپنا سر دھنتی فضا میں بال بکھراتی ہوئی

شاعر کہتا ہے کہ یہ ریل گاڑی اپنی منزل کے حصول کی جستجو میں دیوانہ وار آگے ہی آگے بڑھے جا رہی ہے۔اس کا آگے بڑھنے کا انداز یہ ہے کہ جیسے کوئی نوجوان حسینہ اپنی خود مستی کی کیفیت میں اپنے بال بکھیرے اور سر دھنتے جا رہی ہو۔

Advertisement
پیش کرتی بیچ ندی میں چراغاں کا سماں
ساحلوں پر ریت کے ذروں کو چمکاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہر حسین سفر کے دوران یہ ریل اپنے حسن سے رات کے منظر میں چراغاں کا سماں روشن کرتے ہوئے گزر رہی ہے۔ اس کی وجہ سے ندیوں کے ساحلوں پر موجود ریت کے ذرات جگمگا اٹھتے ہیں۔

منہ میں گھستی ہے سرنگوں کے یکایک دوڑ کر
دندناتی چیختی چنگھاڑتی گاتی ہوئی

یہ ریل گاڑی جب سرنگوں میں سے اپنا راستہ بناتے ہوئے گزرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا سرنگ میں کوئی چیختی، چنگھاڑتی ہوئی شے داخل ہو کر وہاں سے گاتی ہوئی نکلی ہو۔

Advertisement
ڈال کر گزرے مناظر پر اندھیرے کا نقاب
اک نیا منظر نظر کے سامنے لاتی ہوئی

اس شعر شاعر اس ریل گاڑی کی تیز رفتاری پر بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ ریل اس قدر رفتار سے اپنی منزل کی جانب گامزن ہے کہ اس کی رفتارکا ساتھ گزرتے مناظر بھی نہیں دے پاتے ہیں۔اسی تیزی سے ایک منظر اندھیرے کا حصہ بنتا ہے تو دوسرا منظر نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔

صفحۂ دل سے مٹاتی عہد ماضی کے نقوش
حال و مستقبل کے دل کش خواب دکھلاتی ہوئی

یہ ریل جس تیزی و شان سے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے اس کی تیز رفتاری اوت گزرتے مناظر کی مثال ایسے ہے کہ جیسے کوئی دل کے صفحے سے ماضی کی یادوں کے دل خراش نشانات مٹاتا جا رہا ہو۔اور آگے آنے والے مناظر مستقبل کے روشن اور دل کش خوابوں کی نوید لیے ہوئے ہیں۔

Advertisement
ڈالتی بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظر
کوہ پر ہنستی فلک کو آنکھ دکھلاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ریل اپنی تیزی اور شان و شوکت کے باعث یوں گزر رہی ہے کہ گویا وہ بے حس چٹانوں پر حقارت کی نظر ڈالتی ہوئی جا رہی ہو۔اس کی رفتار بلند و بالا افلاک کی نگاہوں میں نگاہیں ڈالے ہوئے ہے اور یہ ان پر ہنستی ہوئی اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔

ایک سرکش فوج کی صورت علم کھولے ہوئے
ایک طوفانی گرج کے ساتھ ڈراتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ ریل یوں محسوس ہوتی ہے کہ جیسے کسی سرکش فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ان کے خلاف بغاوت کا پرچم سر بلند کر رہا ہو۔اس کی گرج کسی طوفان سے کم نہیں ہے اور یہ طوفان کی تیزی سے اپنے مخالف کو ڈراتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔

Advertisement
ایک اک حرکت سے انداز بغاوت آشکار
عظمت انسانیت کے زمزمے گاتی ہوئی

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ ریل کی رفتار اور اس کے ولولے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس کی ایک ایک حرکت بغاوت کا انداز لیے ہوئے ہے۔اور یہ بغاوت ظالموں کے ظلم کے خلاف ہو۔ یہ ریل انسانیت کی سر بلندی کے نغمے گاتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہے۔

الغرض اڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر
شاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر خود کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مختصر یہ کہ یہ ریل گاڑی بغیر کسی خوف و خطرہ کے اپنے مخالف کا خون جلاتے ہوئے اپنی مںزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیں

سوال نمبر01:حال و مستقبل کے دلکش خواب دکھانے سے کیا مطلب ہے؟

حال و مستقبل کے دلکش خواب دکھانے سے مراد ہے کی ریل کی رفتار نئے آنے والے ایسے مناظر آنکھوں کے سامنے لاتی ہے جو ایسے محسوس ہوتے ہیں کہ آنے والے خوبصورت اور کامیاب مستقبل کی نوید سنارہے ہوں۔

سوال نمبر02: عظمت انسانیت کے زمزمے گانے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

عظمت انسانیت کے زمزمے یعنی انسانیت کی بلندی کے نغمے ہے۔ وہ ریل جس کے سفر کی کہانی کو شاعر بیان کر رہا ہے وہ ریل بھی ایک انسان ہی کی ایجاد ہے اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ ریل انسان کی عظمت اور کامیابی کے گیت گاتی جاتی ہے۔

Advertisement

سوال نمبر03:اس شعر کا مطلب لکھیے۔

مرغ زاروں میں دکھاتی جوئے شیریں کا خرام
وادیوں میں ابر کے مانند منڈلاتی ہوئی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ ریل خوبصورت باغات اور مرغ زار وادیوں میں یوں دکھلائی دیتی ہے کہ گویا بہت ہی مشکل کام انجام دے رہی ہو جبکہ وادیوں میں سے اس کا گزر ایسے ہے کہ جیسے بادل منڈلا رہے ہوتے ہیں۔

Advertisement
Advertisement