Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر13:سفرنامہ
  • سبق کا نام: سند باد جہازی کا ایک سفر

خلاصہ سبق:

اس سبق میں سند باد جہازی کے سفر کی داستان کو دلچسپ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ کسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک لکڑہارا شدید گرمی اور دن بھر کی محنت کے بعد ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھا تو اس نے ناچ گانے کی سریلی آوازیں سنیں تو اس کے لبوں پر شکایت آئی کہ اے خدا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں پھر بھی پیٹ بھر روٹی نہیں ملتی اور یہ امیر ہے کہ دن بھر آرام کرتا ہے اور روزانہ ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے۔

لکڑہارا ابھی یہ بات کر ہی رہا تھا کہ اسے ایک آدمی نے اس اونچی عمارت میں چلنے کو کہا جب لکڑ ہارا وہاں پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ سند باد کا محل ہے اس نے سند باد کے محل میں دیکھا کہ دستر خواں بچھا ہوا ہے۔جس کے اردگرد بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ کھانے رکھے ہوئے ہیں۔

Advertisement

سند باد نے اسے بتایا کہ اس نے اس کی تمام کہانی سن لی ہے۔ سند باد لکڑہارے کو کہنے لگا کہ وہ اسے اپنی امارت کی داستان سناتا ہے کہ اس نے کس طرح سے یہ دولت محنت کے بعد حاصل کی۔ سند باد بتانے لگا کہ اسے بچپن سے ہی سیر و سیاحت کا شوق تھا۔ ایک دفعہ اس نے بہت سا سامانِ تجارت لیا اور ایک بحری جہاز میں سوار ہو کر سفر کے لیے روانہ ہو گیا۔

Advertisement

یہ جہاز ایک جزیرے پر رکا۔ میں جہاز سے اتر کر جزیرے پر سیر کے لیے گیا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے مجھے نیند آگئی۔اس دوران جہاز مجھے جزیرے پر چھوڑ کر چلا گیا۔ جس کی وجہ سے میں اکیلا جزیرے پر رہ گیا۔ وہاں میں نے ایک بڑے پرندے کو دیکھا جس کا ذکر کہا نیوں میں پڑھ رکھا تھا۔خود کو اس کے ساتھ باندھ لیا۔

Advertisement

وہ پرندا جب اڑا تو اس نے مجھے ایک گھاٹی میں لے جا کر اتارا۔ جہاں خوفناک اژدھے موجود تھے۔ میں نے خود کو ایک غار میں بند کرکے محفوظ کیا۔ میں نے دیکھا کہ اس جزیرے پر بے شمار دولت ،ہیرے،جواہر موجود ہیں۔ میں نے خوشی خوشی انھیں اکھٹا کرنا شروع کر دیا۔

یہاں میں نے دیکھا کہ لوگ گھاٹی سے جواہرات حاصل کرنے کے لیے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے پہاڑ سے گھاٹی کی جانب لڑکھاتے تھے۔ ان ٹکڑوں سے جواہرات چمٹ جاتے۔ پرندے جب ان ٹکڑوں کو اٹھا کر گھونسلوں تک لے جاتے تو وہاں سے یہ لوگ جواہرات اکھٹا کر لیا کرتے تھے۔میں نے اپنے اوپر گوشت کا ایک بڑا سا ٹکڑا باندھا اور اوندھے منھ لیٹ گیا۔ پرندے مجھے گوشت سمجھ کر اٹھا کر لے گئے۔

Advertisement

جب میں نیچے گرا تو لوگ بھاگ کر میرے پاس آئے لیکن مجھے دیکھ کر مایوس ہوئے۔میں نے ان سب کو اپنے ساتھ باندھ کر لائے ہوئے جوہرات کی کہانی سنائی۔کچھ دنوں بعد ایک جہاز آیا جس کے ساتھ میں اپنے آبائی وطن کی جانب سفر کرکے آ گیا اور یہاں عیش و آرام کی زندگی گزارنے لگا۔

اپنی تمام کہانی بیان کرنے کے بعد سند باد نے لکڑہارے کو روپیوں سے بھری تھیلی دی اور ساتھ ہی یہ نصیحت بھی کی کہ “محنت کے بغیر انسان کو راحت نصیب نہیں ہوتی”۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

لکڑہارے نے خدا سے کیا شکایت کی؟

لکڑہارا جب شدید گرمی اور دن بھر کی محنت کے بعد ایک دیوار کے سائے میں آرام کی غرض سے بیٹھا تواس نے ناچ گانے کی سریلی آوازیں سنیں۔ تو اس کے لبوں پر شکایت آئی کہ اے خدا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ میں صبح سے شام تک محنت کرتا ہوں پھر بھی پیٹ بھر روٹی نہیں ملتی اور یہ امیر ہے کہ دن بھر آرام کرتا ہے اور روزانہ ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے۔

لکڑ ہارے نے سند باد کے محل میں کیا دیکھا؟

لکڑہارے نے سند باد کے محل میں دیکھا کہ دستر خواں بچھا ہوا ہے۔جس کے اردگرد بہت سے لوگ بیٹھے ہیں۔ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ کھانے رکھے ہوئے ہیں۔

Advertisement

لوگ گھاٹی سے جواہرات کیسے حاصل کرتے تھے؟

لوگ گھاٹی سے جواہرات حاصل کرنے کے لیے گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے پہاڑ سے گھاٹی کی جانب لڑکھاتے تھے۔ ان ٹکڑوں سے جواہرات چمٹ جاتے۔ پرندے جب ان ٹکڑوں کو اٹھا کر گھونسلوں تک لے جاتے تو وہاں سے یہ لوگ جواہرات اکھٹا کر لیا کرتے تھے۔

رخصت ہوتے وقت سند باد نے لکڑ ہارے سے کیا کہا؟

سند باد نے لکڑہارے سے کہا کہ “محنت کے بغیر انسان کو راحت نصیب نہیں ہوتی”

Advertisement

سند باد جزیرے پر اکیلا کیوں رہ گیا تھا؟

سند باد جب جہاز سے اتر کر جزیرے پر سیر کے لیے گیا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے اسے نیند آگئی۔اس دوران جہاز اس کو جزیرے پر چھوڑ کر چلا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ اکیلا جزیرے پر رہ گیا۔

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

آنکھ لگنا احمد اپنے دوست کے انتظار میں بیٹھا تھا کہ اس کی اچانک آنکھ لگ گئی۔
جان میں جان آنااپنے بیٹے کو صیح سلامت واپس پا کر ماں کی جان میں جان آئی۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں سے مذکر اور مؤنث چھانٹ کر لکھیے:

لکڑہارا،گلی،دیوار،حال،سبزہ،جہاز،ہوا،تھیلی،سانپ، غذا، گنبد ،راحت۔

Advertisement
مذکر الفاظ: لکڑہارا ، حال، سبزہ ،جہاز ،سانپ، گنبد۔
مؤنث الفاظ:مؤنث الفاظ: گلی ، دیوار، تھیلی،غذا،راحت ، ہوا
Advertisement