Advertisement
  • کتاب”دور پاس” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر01:نظم
  • شاعر کا نام: علامہ محمد اقبال
  • نظم کا نام:ترانہ ہندی

نظم ترانہ ہندی کی تشریح:

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

یہ شعر علامہ محمد اقبال کی نظم "ترانہ ہندی” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر متحدہ ہندوستان کی سرزمین کی بات کرتا اور ہندوستان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میرے وطن کی سر زمین یعنی ہندوستان سب سے اچھا ہے۔اور یہاں کے رہنے والے لوگ چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو وہ اس چمن کی بلبلیں ہیں اور ہندوستان کی سر زمین ان کا آشیانہ ان کا باغ ہے۔ اس شعر میں شاعر نے ہندو اور مسلمانوں کو بلبلیں جبکہ ہندوستان کو گلستان سے تشبیہ دی ہے۔

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وطن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم کہیں پردیس میں بھی موجود ہوں تو بھی دل وطن کی محبت میں بے چین رہتا ہے۔ ہر وقت اپنے وطن کی یاد ستاتی ہے۔ اس لیے جس جگہ ہمارا دل موجود ہو ہمیں بھی وہیں تصور کر لیا کرو۔ دل میں وطن کی محبت کوٹ کوٹ کے بھری ظاہری وجود کو ہونا ایک تصوراتی بات ہے۔وطن سے اصل محبت وہی ہے جو دل میں موجود ہو۔

پربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کا
وہ سنتری ہمارا وہ پاسباں ہمارا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے وطن ہندوستان کی سر زمین خوبصورت اور دلفریب نظاروں سے بھرپور ہے۔یہاں اونچے اور بلند و بالا پہاڑ ہیں۔جو اس قدر بلند ہیں کہ ان کی چوٹیاں آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔یہ فلک بوس چوٹیاں ہمارے ملک کی محافظ و نگہبان ہیں۔

Advertisement
گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میرے وطن یعنی ہندوستان کی سرزمین اس قدر مالا مال ہے کہ یہاں کئی طرح کی زرخیز ندیاں بہتی ہیں۔ یہ وہ ندیاں ہیں جن کے دم سے اس سر زمین کے باغ آباد ہیں اور وہ جنت کی طرح حسین و خوبصورت دکھائی دیتے ہیں کہ ان کو دیکھ کر انسان کے اندر جنت کو پانے کا رشک پیدا ہوتا ہے۔

اے آب رود گنگا وہ دن ہے یاد تجھ کو
اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا

اس شعر میں شاعر گنگا ندی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے بہتی ہوئی گنگا کی نہر کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب تمھارے کنارے آکر ہمارے قافلے نے اپنا پڑاؤ اتارا تھا۔وہ دن اس دھرتی پر ہماری قوم جا پہلا دن تھا۔

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہندوستان کی سرزمین ایسی سرزمین ہے جہاں ہر مذہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں اس سر زمین پر مختلف مذاہب کے بسنے والے لوگوں کی موجودگی یہ بات سکھاتی ہے کہ مذہب کبھی بھی آپس میں دشمنی کا درس نہیں دیتا ہے۔ بلکہ مذہب سے بالاتر ہو کر وطن کی محبت ہے جو یہ سکھاتی ہے کہ ہم سب ہندوستانی ہے اور یہ ہمارا وطن ہے۔

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اس شعر میں شاعر زمانے کے نا مصائب حالات اور ان سے مقابلے کی جستجو کی بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس سرزمین میں ضرور کوئی بات ہے ورنہ زمانہ ہمارا کئی برسوں سے دشمن ہے اور ہمیں مٹانا چاہتا ہے مگر وہ کسی طور پر ہماری ہستی کو مٹا نہیں سکا۔

اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

اس شعر میں شاعر اپنی دلی کیفیت کا بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی میرا رازدان نہیں ہے اس لیے کسی کو کیا معلوم کہ میرے دل میں کون کون سے درد پوشیدہ ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:-

شاعر نے بلبلیں اور گلستاں کسے کہا ہے؟

شاعر نے ہندوستان میں بسنے والی قوموں بالخصوص ہندو اور مسلمانوں کو بلبلیں جبکہ ہندوستان کی سرزمین کو گلستاں کہا ہے۔

شاعر نے کس پہاڑ کو آسمان کا ہم سا یہ کہا ہے؟

شاعر نے پربت کے بلند و بالا پہاڑ کو آسمان کا ہم سایہ کہا ہے۔

شاعر نے پہاڑ کوسنتری اور پاسباں کیوں کہا ہے؟

چونکہ یہ بلند و بالا پہاڑ ملک کو دشمنوں کی آڑ سے بچاتے ہیں اس لیے شاعر نے انھیں سنتری یعنی نگہبان اور پاسبان کہا ہے۔

اقبال نے ہندوستان کو رشک جناں کیوں کہا ہے؟

اقبال نے ہندوستان کو اس کے خوبصورت نظاروں بالخصوص اس میں بہنے والی ندیوں اور اس کے خوبصورت باغوں کی بنا پر اسے رشک جناں کہا ہے۔

” مذہب نہیں سکھا تا آپس میں بیر رکھنا‘اس مصرعے سے کیا سبق ملتا ہے؟

اس مصرعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ سب مذہب باہمی اخوت، محبت،بھائی چارے اور ہمدردی کا درس دیتے ہیں یہ ہندوستان کی سرزمین کا شیوہ بھی ہے۔اس لیے مذہب کی بنا پر اختلافات ناجائز اور غلط ہیں۔

نیچے دیے ہوئے مصرعوں کو مکمل کیجیے:

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا ہم سایہ آسماں کا
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

ہندوستانہندوستان کی سر زمین محبت و امن کا گہوارہ ہے۔
وطنوطن سے محبت نبیوں کا شیوہ ہے۔
گنگا گنگا و جمنا ہندوستان کی سر زمین میں بہتی ندیاں ہیں۔
کارواںلوگ آتے گئے کارواں بنتا گیا۔
مذہبہندوستان کی سرزمین پر ہر مذہب کے ماننے والے لوگ بستے ہیں۔

نظم کے مطابق نیچے دیے ہوئے شعر مکمل کیجیے:

غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا

گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاں
گلشن ہے جن کے دم سے رشک جناں ہمارا

مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اقبالؔ کوئی محرم اپنا نہیں جہاں میں
معلوم کیا کسی کو درد نہاں ہمارا

عملی کام:

اس نظم میں اقبال نے وطن سے اپنی محبت اور اپنے وطن کی خوبیوں کا ذکر کیا ہے۔ آپ بھی ہندوستان کی خصوصیات سے متعلق ایک پیرا گراف لکھیے ۔

ہندوستان کی سر زمین ایک ایسی سرزمین ہے جو صدیوں کا ورثہ لیے ہوئے ہے۔یہ وہ سر زمین ہے جس پر پہ در پے کئی حملہ آور وارد ہوئے اور انھوں نے اس پر کئی سال حکومت بھی کی۔انگریزوں نے اسے سونے کی چڑیا کہا۔موجودہ دور میں بھی اس سر زمین پر ہر مذہب کے لوگ موجود ہیں۔ہندوستان کی سرزمین ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ یہاں کا ثقافتی تنوع اپنی مثال آپ ہے۔