Advertisement
  • کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر23:مثنوی
  • شاعر کا نام: میر حسن
  • نظم کا نام: داستان شہزادے کے غائب ہونے کی

تعارف صنف:

مثنوی مسلسل اشعار کے ایسے مجموعے کو کہتے ہیں جس میں ہر شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں اور ہر شعر کے قافیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مثنوی کے اشعار کی تعداد مقرر نہیں ہے۔ اردو میں طویل اور مختصر دونوں طرح کی مثنویاں لکھی گئی ہیں۔طویل مثنویوں میں میرسن کی سحرالبیان اور دیا شنکر نسیم کی گلزار نسیم بہت مشہور ہیں۔

Advertisement

مثنوی میں رزم و بزم ، حسن وعشق ، پند ونصیحت ، مدح و ہجو، ہر طرح کے موضوعات نظم کیے جا سکتے ہیں۔ قدیم مثنویوں میں زیادہ تر عشقیہ قصے اور مذہبی واخلاقی مضامین نظم کیے گئے ہیں۔ ان عشقیہ قصوں میں وہ تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں جو نثری داستانوں میں ملتی ہیں۔ فوق فطری عناصر کے علاوہ مثنویوں میں اس زمانے کی تہذیب ومعاشرت کی جھلکیاں بھی ملتی ہیں۔ حالی اور آزاد کے زمانے سے مثنویوں کے اسلوب اور موضوعات میں نمایاں فرق آیا۔ اس کے بعد اس میں مختلف موضوعات و مسائل نظم کیے جانے لگے۔

Advertisement

تعارف شاعر:

میرحسن کے خاندان کے لوگ ایران سے آ کر دلی میں بس گئے تھے۔اس خاندان نے اردوزبان وادب کی بیش بہا خدمات انجام دیں۔ میرحسن کے والد میر غلام حسین ضاحک اچھے شاعر تھے۔ان کےبیٹے میر خلیق اور ان کے پوتے میرانیس نے اردو شاعری میں مرثیہ گوئی کی نئی راہیں نکالیں۔

میرحسن کچھ دنوں تک میر درد کے شاگرد رہے۔ جب دلی سے بہت سے لوگوں کا تعلق ٹو ٹا تو میرحسن کے والد بھی فیض آباد چلے گئے ۔ وہاں سے لکھنو پہنچے اور وہیں انتقال کیا۔ میرحسن نے غزلیں بھی لکھی ہیں لیکن ان کی شہرت کا دارومدار ان کی مثنوی سحر البیان پر ہے۔ یہ مثنوی میرحسن نے انتقال سے کچھ ہی پہلے مکمل کی تھی۔ سحرالبیان‘‘ کی شہرت اور مقبولیت کے سامنے دوسرے بہت سے شعرا کی مثنویاں اور خودمیرحسن کی دوسری مثنویاں ماند پڑ گئیں۔

Advertisement

منظر نگاری ، واقعہ نگاری اور کردار نگاری کو دلچسپ اور متحرک شکل میں پیش کرنے اور کہانی کومر بوط طریقے سے بیان کرنے میں میر حسن کو خاص مہارت حاصل تھی۔ ان کی مثنوی مختلف اشیا اور مظاہر کے ذکر سے بھری ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مثنوی کی کہانی اگر چہ بالکل خیالی ہے لیکن اس کے واقعات اور کردار جیتے جاگتے اور ہماری دنیا کے باسی معلوم ہوتے ہیں۔

داستان شہزادے کے غائب ہونے کی تشریح:

یہاں کا تو قصہ میں چھوڑا یہاں
ذرا اب سنو غم زدوں کا بیاں

یہ شعر “میر حسن” کی مثنوی سے لیا گیا ہے۔نصاب میں مثنوی کا جو حصہ شامل ہے اس میں بے نظیر کے غائب ہونے کی داستان کو بیان کیا گیا ہے۔ مثنوی میں ان تمام واقعات کا بیان بہت دلچسپ ہے۔ شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ میں نے یہاں کا قصہ یہیں چھوڑ دیا ہے۔اب میں تمھیں غم میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی ایک داستان سنانے لگا ہوں۔

Advertisement
کروں حال ہجراں زدوں کا رقم
کہ گزرا جدائی سے کیا ان پر غم

اس شعر میں شاعر شہزادے کے غائب ہونے کے واقعے اور غم کی شدت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان جدائی کے غم میں ڈوبے ہوئے لوگوں کا حال بیان کرنے لگا ہوں کہ جنھوں نے شہزادے کی جدائی کا غم اٹھا یا اور اس جدائی میں نہ جانے ان پر غموں کے کون کون سے پہاڑ ٹوٹے۔

کھلی آنکھ جو ایک کی واں کہیں
تو دیکھا کہ وہ شاہ زادہ نہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جس روز شہزادہ بے نظیر غائب ہوا۔اس روز اس کے پاس موجود کنیزوں میں سے ایک جب سو کر اٹھی تو اس نے اٹھنے ہی یہ منظر دیکھا کہ شہزادہ وہاں سے غائب ہے۔

Advertisement
نہ ہے وہ پلنگ اور نہ وہ ماہ رو
نہ وہ گل ہے اس جا، نہ وہ اس کی بو

اس شعر میں شاعر گزشتہ شعر کا تسلسل قائم رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کنیز نے دیکھا کہ چاند چہرہ شہزادے کو جس پلنگ پر سلایا گیا تھا نہ صرف وہ پلنگ غائب ہے بلکہ اس پر موجود شہزادہ بھی غائب ہے۔وہ اس پھول جیسے شہزادے کا نہ تو بدن موجود تھا اور نہ ہی اس کی خوشبو موجود تھی۔ اس شعر میں شاعر نے شہزادے کو ماہ رو اور گل سے تشبیہ دی ہے۔

رہی دیکھ یہ حال حیران کار
کہ یہ کیا ہوا ہائے پروردگار

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ کنیز یہ صورتحال دیکھ کر حیراں رہ گئی کہ یہ کیا ماجرا ہوا ہے۔وہ پروردگار سے آہ و زاری کے انداز میں کہنے لگی کہ یہ سب کیا ہوا ہے۔

Advertisement
کوئی دیکھ یہ حال رونے لگی
کوئی غم سے جی اپنا کھونے لگی

شاعر کہتا ہے کہ شہزادے کو غائب پاکر ان کنیزوں کی حالت ایسی تھی کہ کوئی غم کی شدت سے رونے لگ گئی جبکہ کوئی اس غم کی وجہ اپنا جی ہلکان کر بیٹھی۔

کوئی بلبلاتی سی پھرنے لگی
کوئی ضعف ہو ہو کے گرنے لگی

شاعر کہتا ہے کہ کسی کنیز کی حالت ایسی تھی کہ وہ غم کی شدت سے بلبلاتی پھر رہی تھی۔جبکہ کوئی اس غم کو سہار نہ پاتے ہوئے خود کو کمزور محسوس کر رہی تھی اور غشی کی سی حالت میں گر رہی تھی۔

Advertisement
کوئی سر پر رکھ ہاتھ ، دل گیر ہو
گئی بیٹھ ، ماتم کی تصویر ہو

شاعر کہتا ہے کہ کوئی کنیز ماتم کے سے انداز میں سر پر ہاتھ رکھے روئے جا رہی تھی اور اس کا دل شدید غم زدہ تھا۔جبکہ کوئی ماتم کی تصویر بن کر بیٹھ گئی تھی۔

کوئی رکھ کے زیر زنخداں چھڑی
رہی نرگس، آسا کھڑی کی کھڑی

شاعر کہتا ہے کہ کوئی کنیز اس صورت میں تھی کہ وہ ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے یہ سب دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی اس کا یہ کھڑے ہونے کا انداز اور کو نر گس کے پھول کی طرح دکھا رہا تھا۔

Advertisement
رہی کوئی انگلی کو دانتوں میں داب
کسی نے کہا: گھر ہوا یہ خراب

کوئی کنیز دانتوں میں انگلی دابے حیرت و صدمے میں مبتلا تھی جبکہ کوئی کنیز آہ و بکا کرتے ہوئی یہ کہہ رہی تھی کہ شہزادے غائب ہو گیا ہے اب تو یہ گھر ہی اجڑ گیا۔

کسی نے دیے کھول سنبل سے بال
تپانچوں سے جوں کل کیے سرخ گال

شاعر کہتا ہے کہ کسی کنیز نے پھول یوں کھول رکھے تھے جیسے کہ وہ کوئی سنبل کی بیل ہو جبکہ کچھ نے غم کی شدت میں مبتلا ہو کر اپنے گالوں پر تھپڑ مار مار اپنے گال لال کرنے لگی تھیں۔

Advertisement
نہ بن آئی کچھ ان کو اس کے سوا
کہ کہیے یہ احوال اب شہہ سے جا

شاعر کہتا ہے کہ شہزادے کے غائب ہو جانے کے سبب ان کو اس تمام کے سوا کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا کہ اب بادشاہ سے شہزادے کے غائب ہونے کی بات کو کس طرح سے بیان کیا جائے۔

سنی شہ نے القصہ جب یہ خبر
گرا خاک پر کہہ کے: ہائے پسر!

شاعر کہتا ہے کہ جب بادشاہ نے اپنے لاڈلے اور اکلوتے بیٹے شہزادے بے نظیر کی گمشدگی کی خبر پائی تو مارے دکھ کے وہ زمین پر گر پڑا اور ہائے میرا بیٹا پکارنے لگا۔

Advertisement
کلیجہ پکڑ ماں تو بس رہ گئی
کلی کی طرح سے بکس رہ گئی

شاعر کہتا ہے کہ بیٹے کی گمشدگی کی خبر پاکر شہزادے کی ماں بس اپنا کلیجہ پکڑ کر بیٹھے کی بیٹھی رہ گئی۔ وہ بیٹے کے غائب ہونے کا سن کر کسی کلی کی طرح سے مرجھا گئی۔

کہا شہ نے : وہاں کا مجھے دو پتا
عزیزو! جہاں سے وہ یوسف گیا

شاعر کہتا ہے کہ بادشاہ نے کنیزوں سے کہا کہ مجھے اس جگہ کا پتا دوں جہاں سے شہزادہ غائب ہوا ہے۔ یہاں سے حضرت یوسف جیسی بے مثال خوبصورتی رکھنے والے میرے بیٹے کو اٹھایا گیا ہے۔

Advertisement
گئے لے ووشہ کو لب بام پر
دکھایا کہ سوتا تھا یہاں سیم بر

شاعر کہتا کہ کنیزیں بادشاہ کو لے کر چھت کی اس جگہ پر پہنچیں کہ جہاں وہ چاندنی جیسے روشن چہرے والا شہزادہ سو رہا تھا۔

یہی تھی جگہ وہ جہاں سے گیا
کہا: ہائے بیٹا ، تو یہاں سے گیا؟

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کنیزوں نے لے جا کر بادشاہ کو وہ جگہ دکھائی کہ جہاں پر شہزادہ سویا اور پھر وہاں سے غائب ہوا تھا۔بادشاہ وہ جگہ دیکھ کر کہنے لگا کہ ہائے میرے بیٹے کو یہاں سے لے جایا گیا ہے۔

Advertisement
مرے نوجواں ! میں کدھر جاؤں پیر
نظر تو نے مجھ پر نہ کی بے نظیر!

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بادشاہ نے جب اپنے نوجوان بیٹے کو غائب پایا تو وہ یہ کہنے لگا کہ میں بوڑھا انسان کہاں جاؤں اب تم نے غائب ہونے سے قبل میرے بارے میں کیوں نہ سوچا کہ اب میرا کیا بنے گا۔

عجب بحر غم میں ڈبویا ہمیں
غرض جان سے تو نے کھویا ہمیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ بادشاہ نے کہا کہ اے شہزادے تم نے مجھے عجیب غم کے سمندر میں ڈبو دیا ہے۔یہ غم دے کر ایک طرح سے تم نے مجھے جان کا غم دے ڈالا ہے۔

Advertisement
کروں اس قیامت کا کیا میں بیاں
ترقی میں ہردم تھا شور وفغاں

شاعر اس شعر میں کہتا ہے کہ بادشاہ کہ میں اس قیامت کا بیان کیسے کروں کہ یہاں ہر جانب سے بس بلند آواز میں رونے اور دکھی ہونے کی آوازیں آرہی تھیں۔

لب بام کثرت جو یک سر ہوئی
تلے کی زمیں ساری، اوپر ہوئی

شاعر کہتا ہے کہ سبھی چھت کنارے جمع ہو چکے تھے اور اس قیامت کے ٹوٹ پڑنے اور شہزادے کو تلاش کرنے کی تگ و دو میں سب نے زمین،آسمان ایک کر ڈالا تھا۔

Advertisement
شب آدھی، وہ جس طرح سوتے کٹی
رہی تھی جو باقی، سو روتے کئی

شاعر کہتا ہے کہ شہزادے کی گم شدگی میں آدھی رات تو یوں ہی سوتے گز جاتی تھی تو باقی آدھی رات اس شہزادے کی گم شدگی کا غم منانے اور رونے میں بسر ہو جایا کرتی تھی۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

ماہ رو اور گل رو کے الفاظ کس کے لیے اور کس شعر میں استعمال ہوۓ ہیں؟

مثنوی میں ماہ رو اور گل رو کے الفاظ شہزادہ بے نظیر کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔

Advertisement

سر پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھنا اور دانتوں میں انگلی دبانا کے کیا معنی ہیں؟

سر پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھنا سے مراد ہے کہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سر پکڑ کر بیٹھ جانا۔ جبکہ دانتوں میں انگلی دبانا کے معنی ہیں شدید حیرت و صدمے میں مبتلا ہونا۔

تلے کی زمین ساری او پر ہوئی اس مصرع کا کیا مطلب ہے؟

تلے کی زمین ساری اوپر ہوئی سے مراد ہے کہ شہزادے کی تلاش اور چھان بین میں زمین آسمان ایک کر ڈالے۔

Advertisement

شہزادے کے غائب ہونے پر کنیزوں نے کس طرح اپنے غم کا اظہار کیا ہے؟ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

شہزادے کے غائب ہونے پر ہر کنیزکا ردعمل منفرد تھا کوئی یہ صورتحال دیکھ کر حیراں تھی جبکہ کوئی رو رہی تھی۔ کوئی مارے غم کے اپنا جی کھو رہی تھی تو کوئی بلبلاتی پھر رہی تھی۔ کچھ کنزیں بال کھولے ماتم کر رہی تھیں.جبکہ کوئی تپانچوں سے اپنے گال لال کر رہی تھی وغیرہ۔

عملی کام:

نیچے دیے گئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

کچھ بن نہ آناپورے محل میں شہزادے کی تلاش جاری رکھی گئی مگر کچھ بن نہ آیا۔
دانتوں میں انگلی دباناشہزادے کو غائب پا کر کنزیں دانتوں میں انگلیاں دابے حیران و پریشاں کھڑی تھیں۔
کھڑی کی کھڑی رہ جانا جس کنیز نے بھی شہزادے کے غائب ہونے کی خبر پائی مارے حیرت کے وہ کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔

مثنوی کے کس شعر میں کون سی تلمیح استعمال کی گئی ہے۔ لکھیے۔

مثنوی کے درج ذیل شعر میں تلمیح استعمال ہوئی ہے:

Advertisement
کہا شہ نے : وہاں کا مجھے دو پتا
عزیزو! جہاں سے وہ یوسف گیا

اس شعر میں یوسف بطور تلمیح استعمال ہوا ہے۔ جس میں حضرت یوسف کی خوبصورتی اور حسن کی مناسبت سے ذکر ہے۔

اس مثنوی کے ایسے شعروں کی نشان دہی کیجیے جن میں صنعت تشبیہ ہو۔ لکھیے کہ کس چیز کو کس چیز سے تشبیہ دی گئی ہے۔

نہ ہے وہ پلنگ اور نہ وہ ماہ رو
نہ وہ گل ہے اس جا، نہ وہ اس کی بو

مندجہ بالا شعر میں شہزادے کو “ماہ رو” کہا گیا ہے اور اس طرح شہزادے کو اس کی خوبصورتی کی مناسبت سے چاند سے تشبیہ دے کر چاند چہرہ کہا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے مصرعے میں شہزادے بے نظیر کو ” گل ” یعنی پھول سے تشبیہ دی گئی ہے۔

Advertisement
گئے لے ووشہ کو لب بام پر
دکھایا کہ سوتا تھا یہاں سیم بر

درج بالا شعر میں شہزادے کو سیم بر کہہ کر تشبیہ دی گئی ہے۔یعنی چاندی جیسا بدن رکھنے والا۔

کسی نے دیے کھول سنبل سے بال
تپانچوں سے جوں گل کیے سرخ گال

درج بالا شعر میں کنیزوں کے بالوں کو خوشبودار بیل سنبل سے جبکہ ان کو گالوں کے لال ہونے کو گل یعنی پھول کی لالی سے تشبیہ دی ہے۔

Advertisement

Advertisement