Advertisement

کتاب”نوائے اردو”برائے نویں جماعت

تعارف صنف:

انگریزی میں انشائیہ اور مضمون دونوں کے لیے Essay کی اصطلاح رائج ہے۔ انشائیہ ادیب کی ذہنی روداد اور ادبی اسلوب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔انشائیہ نگار زندگی کی عام یا خاص بات یا کیفیت کو اپنی افتادطبع علمیت اور شگفتہ نگاری سے پر لطف انداز میں بیان کر دیتا ہے۔ ابتدا میں تمثیلی انشائے بھی لکھے گئے۔

Advertisement

ان کی بہترین مثال محمد حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال ہے۔سرسید،شبلی ، حالی اور خواجہ حسن نظامی سے لے کر نیاز فتح پوری ، سید عابدحسین ، خواجہ غلام السید مین، محمد مجیب ، رشید احمد صدیقی اور ان کے بعد کے لکھنے والوں کی بعض تحریریں انشائیہ بھی کہی جاسکتی ہیں اور مضمون بھی ۔ کنہیالال کپور، مشتاق احمد یوسفی ، یوسف ناظم ، وزیر آغا اور مجتبیٰ حسین وغیرہ ہمارے زمانے کے ممتاز انشائیہ نگار ہیں۔

تعارف مصنف:

سید احمد خاں دہلی میں پیدا ہوئے۔ سید احمد نے اپنے زمانے کے اہل کمال سے فیض حاصل کیا۔ 1839ء میں انھوں نے انگریزی سرکار کی ملازمت اختیار کی اور مختلف مقامات پر کام کیا۔1862ء میں جب وہ غازی پور میں تھے، انھوں نے ایک انجمن سائنٹفک سوسائٹی کے نام سے بنائی ۔اس انجمن کا مقصد یہ تھا کہ مختلف علوم ، خاص کر سائنس کے علوم کا مطالعہ کیا جاۓ اوران علوم کو ہندوستانیوں میں عام کیاجائے۔

Advertisement

1869ء میں سید احمد خاں ایک سال کے لیے انگلستان گئے ۔ واپس آ کر انھوں نے انگریزی کے علمی اور سماجی رسالوں کی طرز پر اپنا ایک رسالہ تہذیب الاخلاق نکالا۔ انگلستان سے واپس آکر سیداحمد خاں نے علی گڑھ1875 ء میں ایک سکول کھولا۔ یہ اسکول 1878ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج اور پھر 1920ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہندوستان کا ایک نمایاں تعلیمی ادارہ بن گیا۔ 1878ء میں سید احمد خاں کو سر کا خطاب ملا۔ اس لیے لوگ انھیں سرسید کے نام سے جانتے ہیں۔

سرسید آخر عمر تک قومی کام ، کالج کی دیکھ بھال اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے۔ان کی متعددتصانیف میں آثارالصنادید ، اسباب بغاوت ہند اور سرکشی ضلع بجنور خاص طور پر اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے مضامین کئی جلدوں میں مجلس ترقی ادب لاہور سے شائع ہوۓ ہیں۔ان میں سائنس،فلسفہ، مذہب اور تاریخ سے متعلق مضامین ہیں۔

جدید اردو نثر کی بنیاد ڈالنے کے ساتھ ساتھ سرسید نے اردو میں مختصر مضمون نگاری کو بھی فروغ دیا۔لمبی لمبی تحریروں کے بجاۓ چند صفحات میں کام کی بات کہنے کافن سرسید نے عام کیا۔ سرسید اپنے زمانے کے مفکر اور مسلح تھے اور ان کی نثر میں ، وہی وزن اور وقار ہے جو ان کی شخصیت میں تھا۔

Advertisement

ادبی خدمات:

سر سید احمد خان کی ادبی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو انھوں نے قریباً ہر طرح کے موضوعات پر قلم اٹھایا اور اپنی قابلیت کا لوہا منوایا۔ ان کی ادبی خدمات کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے دور کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ پرانے رنگ میں ڈوبے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور دوسرا یہ کہ انگریزوں سے میل جول کی بناپر ان کے اندر مغربی طرز زندگی اور جدید خیالات کا کچھ نہ کچھ اثر دکھائی دیتا ہے۔ ریاضی، تاریخ اور تصوف کے علاوہ ان کی تصنیفی زندگی کے دور اول میں ان کی تحریروں میں مناظرہ و تقابل مذہب کا رجحان غالب ہے۔

اس دور میں ان کا نقطۂ نظر علمی اور دینی تھا۔ اس کے علاوہ اس دور میں وہ آثار قدیمہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس دور کی خاص خاص تصانیف ’’جام جم‘‘ (فارسی) ۱۸۳۹ء، ’’انتخاب الاخوین‘‘ ،’’جلاء القلوب بذکر المحبوب‘‘ ، ’’تحفۃ حسن‘‘، ’’آثار الصنادید‘‘، ’’فوائد الافکار‘‘، ’’کلمۃ الحق‘‘ ، ’’راہ سنت و رد بدعت‘‘، ’’ضیقہ‘‘ ، ’’کیمیائے سعادت‘‘، ’’تاریخ ضلع بجنور‘‘ اورآئین اکبر کی تصحیح‘‘وغیرہ ہیں۔

Advertisement

پہلی جنگ آزادی کے بعد ان کا تبادلہ بجنور سے مراد آباد ہوگیا ۔ اس دور میں وہ مسلمانوں کو غدر میں شرکت کے الزام سے بچانے کی کوشش میں لگ گئے۔ اس الزام سے بچانے کے لئے انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں ’’تاریخ سرکش بجنور‘‘ ، ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ اور ’’رسالہ لائل محمڈنز آف انڈیا‘‘ وغیرہ اہم ہیں۔ اس دور میں انہوں نے ’’تاریخ فیرزو شاہی‘‘ ’’تبین الکلام‘‘ ، ’’سائنسٹی فک سوسائٹی اخبار‘‘ (جو بعد میں ’’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘‘ ہوگیا) اور ’’رسالہ احکام طعام اہل کتاب‘‘ وغیرہ بھی لکھیں۔

تیسرے دور میں ان کے مصلحانہ خیالات میں بڑی شدت پیدا ہوگئی تھی۔ اب وہ اپنے اظہار خیال میں نڈر اور بے خوف ہوگئے تھے اور پبلک کی مخالفت کو کچھ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان کے ذہن پر جدید انداز فکر نے غلبہ پالیا تھا۔ انگریزوں کی صحبت و رفاقت نے جو رنگ ان پر چڑھایا تھا وہ تیز تر اور شوخ ہوگیا تھا۔ اس رجحانات کو ان کی اس دور کی تصانیف میں بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ اس دور کی اہم تصانیف اس طرح ہیں۔ ’’سفرنامہ لندن‘‘، ’’خطبات احمدیہ‘‘ ، ’’تہذیب الاخلاق‘‘ ڈاکٹر ہنٹر کی کتاب پر ریویو‘‘ وغیرہ۔

Advertisement

انشائیہ گزرا ہوا زمانہ کا خلاصہ

سر سید احمد خان نے یہ مضمون انشائیہ کی صورت میں تحریر کیا ہے جس میں انھوں نے انسانی زندگی کا ارتقا نہایت خوبصورتی سے اور دلچسپ کہانی کے انداز میں پیش کیا ہے۔ مصنف نے گزرے ہوئے زمانے کو یوں بیان کیا ہے کہ برس کی اخیر رات میں ایک بوڑھا شخص اندھیرے گھر میں اکیلا موجود تھا۔یہ رات ڈراؤنی اور اندھیری تھی۔بجلی کڑک رہی تھی،گھٹا چھائی ہوئی تھی جبکہ آندھی چل رہی تھی۔

اس اندھیری رات میں وہ بوڑھا غمگین تھا۔جس کی وجہ نہ تو اندھیری اور برس کی اخیر رات تھی اور نہ ہی کچھ اور بلکہ وہ اپنے گزرے زمانے کو یاد کر کے غمگین تھا۔ وہ اپنے لڑکپن کے زمانے کو یاد کرتا ہے تو کسی چیز کا غم اور کسی بات کی فکر اس کے دل میں موجود نہ تھی۔اس کی ہر خواہش پوری کی جاتی اور ہر بات کا مان رکھا جاتا تھا۔اپنی جوانی کے زمانے کو وہ یوں یاد کرتا ہے کہ اس کا چہرہ سرخ و سفید تھا،بدن بھرا بھرا، آنکھیں رسیلی اور دل جذبات انسانی کے جوش سے بھرا ہوا تھا۔

Advertisement

یہ وہ دور تھا جب وہ بڑھاپا آنے کا خیال بھی نہ کرتا تھا۔ ماں باپ یا بڑوں کی نصیحتوں پر یہ سوچ کر کان نہ دھرتا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔لیکن اب اس کے پاس افسوس کرنے کے سوا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔اسے ماں باپ، بہن بھائیوں کے ساتھ کی گئی لڑائیاں، زیادتیاں سب کچھ یاد آتا ہے۔دوست، رشتے دار، آشنا سب یاد آتے ہیں اور وہ رنجیدہ ہو جاتا ہے۔

اسی اثناء میں وہ کھڑکی کھول کر باہر دیکھتا ہے تو اسے ایک خوبصورت دلہن اپنی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اس دلہن کے حسن و جمال کو دیکھ کر وہ حیران رہ گیا اور معلوم کرنے پر اسے پتا چلا کہ وہ خوبصورت دلہن ہمیشہ رہنے والی نیکی ہے۔جو ہم اس دنیا میں کر جاتے ہیں اور ہمیں اگلی دنیا میں اس کا اجر ہمیشہ پہنچتا رہتا ہے۔مادی چیزیں کچھ دنوں میں رائیگاں ہو جائیں گی مگر یہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جائے گی۔

Advertisement

لیکن اس بوڑھے نے جب اپنا زمانہ یاد کیا تو اس میں ایسی کوئی نیکی موجود نہ تھی یہ سن کر وہ بے قرار ہو کر چلا اٹھا۔کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ اس کی ماں اس کے پاس کھڑی ہے اور وہ سب ایک خواب تھا۔ اپنی ماں کو تمام خواب جب کہہ سنایا تو ماں نے لڑکے کو نصیحت کی کہ وہ ایسا کچھ نہ کرے کہ جس سے بوڑھے کی طرح پشیمان ہو بلکہ ایسا عمل کرے کہ جیسا دلہن نے کہا تھا۔

لڑکے نے یہ عہد کیا کہ یہ میری زندگی کا پہلا دن ہے میں کبھی اس بوڑھے کی طرح نہ پھچتاؤں گا بلکہ اس دلہن کو بیاہوں گا جس نے ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی کا نام بتلایا۔یوں سرسید نے اس سبق کے ذریعے اخیر میں قوم کے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ اے میری قوم کے بچوں! اپنی قوم کی بھلائی کی کو شش کرو تاکہ آخری وقت میں اس بوڑھے کی طرح نہ پچھتاؤ۔

Advertisement

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:-بوڑھا اپنی جوانی کے زمانے کو کن لفظوں میں یاد کرتا ہے؟

اپنی جوانی کے زمانے کو وہ یوں یاد کرتا ہے کہ اس کا چہرہ سرخ و سفید تھا،بدن بھرا بھرا، آنکھیں رسیلی اور دل جذبات انسانی کے جوش سے بھرا ہوا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب وہ بڑھاپا آنا کا خیال بھی نہ کرتا تھا۔ ماں باپ یا بڑوں کی نصیحتوں پر یہ سوچ کر کان نہ دھرتا کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔

سوال نمبر02:-سر سید نے برس کی اخیر رات کا ذکر کس طرح کیا ہے؟

برس کی اخیر رات میں ایک بوڑھا شخص اندھیرے گھر میں اکیلا موجود تھا۔یہ رات ڈراؤنی اور اندھیری تھی۔بجلی کڑک رہی تھی،گھٹا چھائی ہوئی تھی جبکہ آندھی چل رہی تھی۔اس اندھیری رات میں وہ بوڑھا غمگین تھا۔جس کی وجہ نہ تو اندھیری اور برس کی اخیر رات تھی اور نہ ہی کچھ اور بلکہ وہ اپنے گزرے زمانے کو یاد کر کے غمگین تھا۔

Advertisement

سوال نمبر03:-بوڑھے کو جو خوبصورت دلہن نظر آئی،اس سے مصنف کی کیا مراد ہے؟

بوڑھے کو خوبصورت نظر آنے والی دلہن سے مصنف کی مراد وہ ہمیشہ رہنے والی نیکی یا صدقہ جاریہ کا کام ہے جو ہم اس دنیا میں کر جاتے ہیں اور ہمیں اگلی دنیا میں اس کا اجر ہمیشہ پہنچتا رہتا ہے۔

سوال نمبر04:-ماں نے لڑکے کو کیا نصیحت کی؟

ماں نے لڑکے کو نصیحت کی کہ وہ ایسا کچھ نہ کرے کہ جس سے بڈھے کی طرح پشیمان ہو بلکہ ایسا عمل کرے کہ جیسا دلہن نے کہا تھا۔

Advertisement

سوال نمبر05:- لڑکے نے کیا عہد کیا؟

لڑکے نے یہ عہد کیا کہ یہ میری زندگی کا پہلا دن ہے میں کبھی اس بڈھے کی طرح نہ پھچتاؤ گا بلکہ اس دلہن کو بیاہوں گا جس نے ہمیشہ زندہ رہنے والی نیکی کا نام بتلایا۔

سوال نمبر06:-آخری پیراگراف میں سر سید نے قوم کے نوجوانوں کو کیا نصیحت کی؟

سرسید نے قوم کے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ اے میری قوم کے بچوں! اپنی قوم کی بھلائی کی کو شش کرو تاکہ آخری وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتاؤ۔

Advertisement

عملی کام:

مضمون میں’نیکی بدی’،’آسان مشکل’جیسے متضاد الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔آپ اس طرح کے کچھ متضاد الفاظ سوچ کر لکھیے.

صبحشام
راتدن
گناہثواب
سیاہسفید
بیمارتندرست
زمینآسمان

مندرجہ ذیل محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

دل پاش پاش ہونامحبوب کی بے وفائی سے اس کا دک پاش پاش ہوگیا۔
ہچکی بندھنا تکلیف کے باعث مسلسل روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی۔
ٹکٹکی باندھ کر دیکھناسب ٹکٹکی باندھے انڈیا اور پاکستان کے میچ کے آخری مراحل دیکھ رہے تھے۔

مندرجہ ذیل لفظوں میں سے مذکر اور مونث الگ کیجیے۔
اندھیرا، زندگی ، آشنا، جوبن، کھڑکی، گھٹا، بجلی، بادل۔

مذکراندھیرا، زندگی، بادل،جوبن۔
مؤنث کھڑکی،گھٹا،بجلی،آشنا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement