Advertisement

جو دین محمد عربی ﷺ نے امت تک پہنچانے کی زمہ داری پوری کی وہ دین چند دہائیوں بعد یکسر بدل گیا۔ لوگ کم تولنے لگے، منافقت کرنے لگے، وعدوں کی پاسداری ہرگز نہ کرتے تھے۔ لوگوں میں قتل و غارت طول پکڑتی جارہی تھی۔ تب حاکم وقت کے سامنے نوسہ رسول ﷺ نے حق گوئی کا اعلان کیا۔ یہ فقط اس بات کا ثبوت تھا کہ میرے نانا کا دین یوں نہیں جو اس وقت اقتدار میں ہے۔ ظالم جابر حکمران نے رعایا پر ہر قسم کا جبر کیا تو بلآخر حسین ابن علی علیہ سلام نے دعوت حق کے لیے میدان میں علم بلند کیا۔ وہ حق کے لیے کھڑے ہوئے اور حق کے لیے ہی جان بھی دے دی۔

Advertisement

انھوں نے ناصرف اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا بلکہ اپنے کنبے و ہم خیال لوگوں کو بھی حق کے لیے صف اول میں لاکھڑا کیا۔ ان کی بے دردی سے شہادتیں آج تک ہمیں ان کی قربانی کو یاد دلاتی ہیں، جو انھوں نے دین کی خاطر دیں۔ تمام لوگ دین کی بےحرمتی پر خاموش تھے، مگر نواسہ رسول ﷺ نے جان دے کر دین کے اصل معنی واضح کر دیئے۔ ہم آج بھی ان کو یاد کرتے ہیں اور ان کے شکرگزار ہیں کہ ان کی وجہ سے ہم دین کی اصل پہچان کر سکتے ہیں۔ ہر کربلا کے بعد دین زندہ ہوتا ہے جو کہ حسین علیہ سلام اور ان کے قافلے کی دین ہیں۔ اور اس وقت کا حکمران جو چاہتا تھا اسے یاد رکھا جائے اور جو خدائی دعوی کرتا تھا وہ اسی وقت بےموت مارا گیا جب کہ حسین علیہ سلام اور ان کا قافلہ آج تک زندہ ہے اور انھیں آج تک یاد کیا جاتا ہے اور ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement
Advertisement