Back to: Urdu Essays List 3
| نقش ہے جو دل پہ وہ تحریر پاکستان ہے مصطفی ص کے نام کی جاگیر پاکستان |
آذادی اللہ رب العزت کی جانب سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور تحفہ ہے۔ 14 اگست ہم اہل پاکستان کے لئے ماہ آزادی ہے۔اس دن مسلمانانِ برصغیر نے ایک الگ مسلم ملک حاصل کیا۔ جہاں انہیں ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔مگر آج ہمارا جشن آزادی منانے کا طریقہ ذلت آمیز ہے۔ہر سال جشن آزادی کے موقع پر کئی نوجوان ون ویلنگ کرتے ہوئے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔باجے بجا کر طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے اور تمام دن اس پاک وطن کی توہین میں گزارا جاتا ہے۔کیونکہ ہمیں آزادی کی قدر و قیمت اور حرمت نہیں۔ہمیں آزادی بغیر کسی جدوجہد بغیر کسی محنت کے حاصل ہو گئ۔
پاکستان کی خاطر ہندوستان کے مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ بہار کے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دئے گئے۔خواتین کی عصمت دری کی گئ۔ مہاجرین نے اپنے ماں باپ گھر بار سب چھوڑ کر پاکستان کی جانب ہجرت کی یہ دوسری ہجرت اسلامی مملکت کے قیام کے لئے بعد از ہجرت مکہ تھی۔
یہ سفر 1757ء سے شروع ہوا 1857ء کی جنگ آزادی تک آیا 1905ء کی تقسیم بنگال سے ہوتا ہوا 1906ء قیام آل انڈیا مسلم لیگ تک آیا پھر یہ سفر جاری و ساری رہا 1940ء قراداد پاکستان اور 14 اگست 1947ء ایک آزاد مملکت کا قیام عمل میں آیا۔ اس ملک کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا جس کی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔
پاکستان امت مسلمہ کا مرکز و محور ہے امت کی امیدوں کا سہارا ہے۔ بیشک یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان مسائل میں گھرا ہے۔ دشمنوں کے نرغے میں ہیں مگر اندھیرے اور رات کی تاریکی جتنی بھی شدید ہو روشنی کی ایک کرن سے شکست کھا جاتی ہے۔
اس وقت مملکت خداداد پاکستان کو ایک قوم کی ضرورت ہے۔ایک متحد قوم جس کے لئے سب کچھ پاکستان ہو اور ان مشکل حالات میں پاکستان کو چھوڑ کر جانے کی نہیں اسے اپنانے کی ضرورت ہے۔ سب کو مل کر پاکستان کی اور اپنی آزادی کی حفاظت کرنی ہوگی۔
| ایک ہو مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر |
حکومت سے گلے شکوے اور خرابیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اپنے حصے کا کام فرض سمجھ کر ایمانداری سے کرنا ہوگا۔اس ملک کے وسائل کی حفاظت کرنی ہوگی اور جدید قدرتی ذرائع کا استعمال کرنا پڑے گا۔فرسودہ روایات اور طریقوں کو چھوڑ کر ٹیکنالوجی کو اپنانا پڑے گا۔
پاکستان کی خاطر سادگی اپنانا ہو گی، غیر ضروری اور شاہانہ اخراجات کم کرنے پڑیں گے۔وہ تمام ادارے جو ملک پر بوجھ ہیں ان کو ختم کر کے تمام نظام کو ڈیجیٹلائزڈ کرنا پڑے گا۔پاکستان کی تیار کردہ اشیاء کو استعمال کرنا ہوگا تاکہ ہماری مقامی صعنت کو فروغ ملے۔ بیرونی اشیاء کا کم سے کم استعمال کر کے ہم پاکستان کو زیادہ سے زیادہ منافع پہنچا سکتے ہیں۔ نوجوان نسل کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے۔ مثبت سرگرمیوں کی جانب لانا پڑے گا۔
ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بیروزگاری ہے۔ پاکستان کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لئے امن و امان کو بہتر بنانا ازحد ضروری ہے۔ تمام مسالک کے علماء مذہبی شخصیات کو پاکستان کی خاطر ملکر ضابطہ اخلاق متعین کرنا پڑے گا اور وطن سے محبت سنت رسول ﷺ اور حکم شریعت ہے۔
پاکستان کے مسائل کا حل نظام مساوات میں مضمر ہے۔IMF سے چھٹکارے کے لئے سود کے نظام کو ختم کر کے پاکستان میں اسلامی نظام معیشت کو لانا ہو گا۔ ایک نظریہ پوری دنیا میں رائج ہے کہ وطن ماں کی طرح ہے پاکستان کی آزادی اور سالمیت کو برقرار رکھنے کےلئے اب پاکستان سے وہی محبت عقیدت اور عشق ہمیں بھی کرنا پڑے گا۔اپنے حصہ کی ذمہ داری کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ لائن توڑنا قوانین کی خلاف ورزی کرنا،کچرا جگہ جگہ پھینکنا،ملاوٹ خوری اور بہت سے کام ایسے ہیں جو ہم انفرادی طور پر کرتے ہیں۔مگر اس سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔
پاکستان کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا ملک سے مخلص نہ ہونا ہے۔ پاکستانی عوام کی خوش نصیبی ہے کہ انہیں ڈاکٹر روتھ فاؤ،عبدالستار ایدھی جیسے عظیم لوگ ملے اور یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہئے۔ سب کو اپنی صلاحیتیں اس مملکت کے لئے اور اپنے ہم وطنوں کی بہتری کے لئے صرف کرنی چاہیے۔
اہل چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔چین ہمارے بعد آزاد ہوا اور آج وہ دنیا کی معاشی سپر پاور ہے۔
پاکستان کے بے شمار مثبت پہلو ہیں جنہیں دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیں اس جشن آذادی پر عہد کریں کہ پاکستان سے پیار کریں گے اس کی خاطر سب کچھ قربان کر دیں گے۔
| اس فکر میں غنچے زرد ہوئے اس سوچ میں کلیاں سوکھ گئی |
| آئین گلستان کیا ہوگا دستور بہاراں کیا ہوگا |
| اے موج حوادث ان کو بھی دو چار تپھیڑے ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل پر طوفان کا نظارہ کرتے ہیں |
پاکستان زندہ باد
| مضمون نویس: | حیدر علی چکوال پنجاب سماجی کارکن جرنلسٹ و کالم نگار 03109236915 |





