آزادی کیلئے محبت کی قربانی

0

آزادی کی قدر عزت مرتبہ فقط وہ لوگ جانتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں مال،جان، محبت کی قربانی پیش کی ہیں۔ پاکستان کے لوگوں نے آذادی پانے کے لیے گھروں کو بہادری پر جیتنے کے لیے صرف میدان پر لڑے نہیں بلکہ جیتنے کی تاریخ بھی ڈال دیا ہے۔ پاکستان کے لوگوں نے آذادی پانے کے لیے شب و روز ایک ایک کر کے آزادی کی حاصل کرنے کے لیے بہت کوششیں کیں تاکہ ہم سے یہ لفظ غلامی مٹ جائےاور اسی طرح قوم پاکستان نے آذادی کی نام ہ ناموس کی بنا پر بہت سختیاں بھی جھیلیں
اس وقت جو پاکستان کے لوگوں نے آذادی حاصلِ کرنے پر سوچ رہے تھے تو غداروں نے پاکستان کے لوگوں کے متعدد یتیموں کو، بچے ،بوڑھے کی گھروں کو ویران ہی رکھے ہوئے تھےاسی طرح لوگوں کے ناجائز جنازہ نکلے تھے وہ محض قوم پاکستان تھا جو آج تک ہندوستان لوگ بہادری کی مثالیں پاکستان کی قربانی کی دے رہی ہیں۔

قوم پاکستان کے لوگوں کے تصور اور خیالوں میں یہی بات گردش کر رہی تھی کہ ہم غلامی کے مدمقابل لوگ اور آزاد لوگ ہیں وہی خواب آج سچ میں وہی طرز آنداز پر نکل چکے ہیں آزادی کی لفظ کہنے پر غداروں نے پاکستان کے لوگوں کی مائیں، بہنیں کو ماتم پر رولا دینے پر لگے دیتے لیکن کچھ بھی پرواہ بھی نہیں کیا آور پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں لفظ آزادی ہی آزادی۔

آگر پاکستانیوں کے دلوں میں آزادی کی جوش ہ جذبے ناکام ہوتے تو آج تک ہندوستان کے لوگوں کے منہ میں آزادی کی شرمندگی پاکستان کا نہ ہوتا مگر پاکستان کے لوگوں نے کبھی بھی اس کے منصوبے کو کامیاب کو ناکام ہی ٹھہرے ہندوستان کے غداروں نے دن رات انتھک محنت کرکے کرکے پاکستان کے خلاف سازش کی لیکن وہ ناکام ہی ناکام سکے ہندوستانیوں نے ہمیشہ کے لیے پاکستان کو ایسے ہی سمجھتا تھا کہ ناکام ، غلام ، احمق لوگ کا نام پاکستان پاکستان۔

ہندوستان نے یہ کبھی نہیں سمجھ رہا تھا کے یہ غلام آزادی پانے کے بھی ہو سکتے ھے لیکن آج ہندوستان کے لوگوں کے دلوں میں آزادی کی لفظ کی بجائے ناکامی کی لفظ گردش کررہی ہیں
وجود میں آیا ہوا نام صرف محبت کی قربانی پیش کرنے کی نہیں بلکہ سخت مقام منزل پارکر اور نظر انداز ہی کیے یہ آزادی کی لفظ جو آج پاکستانیوں کے دلوں میں پڑی ہیں یہ محض پاکستانی کی قربانی کی خون کی قطرے پر بنا ہوا ہے۔

اس وقت جو آزادی کی لفظ ادا ہو رہی تھی تو پاکستان کے لوگ لفظ آزادی سے ڈررھے تھے کہ ایسے نہ ہو کہ مارڈالا جائے۔ سب لوگ غلامی میں سارے چیزیں کی پرواہ نہیں کرتے لیکن پاکستان کے لوگوں نے کبھی بھی ان کی پرواہ تک بھی نہیں کیے۔ اس وقت پاکستان کے لوگوں کو رمز ڈاکوؤں دے رہے تھے ہر مقام پر ناجائز باتوں پہ پاکستانیوں کی خون ریزی ہورہی تھی اور خون کی قطرے بھی نجاہز طریقے سے استعمال ہو رہے تھے پاکستان کے لوگوں کے دلوں میں آزادی کی سوچ اس وقت آئی جب ہندوستان کے لوگوں نے پاکستان کی کامیابی نہیں دیکھنا چاہتے تھے جب پاکستان کے لوگ کو پتہ چلا کہ اب ہمارا واسطہ ہندوستانیوں کے ساتھ بہت مشکل ہو گیا اور ہندوستان کے لوگ ہماری کامیابی کی بجائے ناکامی چاہتے اور ناکامی کی طرف لیکر لے جاتی ہے۔ پھر اک لفظ گونج رہا تھا اور وہ تھا. آزادی ہی آزادی

کچھ شاعری آزادی کے بارے میں

جو نیت وہ دل سے صاف ہ شفاف نہیں ہوتے
ناکامی ہی ناکامی قدم چومتی ہیں غلامی
Zohaib Khanwritten by