Advertisement

کروناایک وبائی مرض ہے جو وائرس سے پھیلتا ہے۔ یہ عام طورپرممالیہ جانوروں اور پرندوں کے نظام تنفس اورانسانوں کے نظام تنفس انہضام کومتاثر کرتا ہے اورکرو ناوائرس کی سب سے بڑی و با 31 دیسمبر 2019ء میں پھیلی ۔ کرونا لا طینی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ہالہ سے ہیں۔ چونکہ اس کی ظاہری شکل سورج کے ہالے سے مشابہ ہوتی ہے ۔اس وجہ سے اسے کروناوائرس کا نام دیا گیا ہے ۔اس و با کا آغاز چین سے ہوا ۔ یہ وبا آہستہ آہستہ عالمی سطح پر پھیل گئی ۔ اس و با کو 19-Covid کا نام دیا گیا۔ یہ وائرس سب سے زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ یہ انسان سے انسان کے درمیان پھیلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”

Advertisement

کرونا چین کے چھوٹے سے علاقے سے شروع ہوا اور چند دن میں ہی پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز ہے کہ اسے روکنا بہت مشکل ہے ۔اس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی بد حالی پیدا ہوگئی ۔ لاک ڈاؤن کر کے اس سے بچنے کی کوشش کی گئی ۔
کرونا وائرس سے متاثر و مریض میں ہفتہ دس دن میں سانس کے مسائل ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ یہ صورت حال بگڑ کر شد ید سانس کی بیماری ، نظام انہضام اور خون کے مسائل پیدا کرتی ہے ۔اس سے موت کا خطرہ بڑھ جا تا ہے ۔ کرونا وائرس کے تصدیق شدہ علاج یادوا کی تیاری میں بہت دقت کا سامنا ہے ۔ اس سے بچنے کے لیے دوا سے بہتر ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیارکی جائیں۔ وبا سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام اورحکومت مل کر اس کا مقابلہ کریں۔

Advertisement

کرونا وائرس کی عموی علامات میں بخار، تھکاوٹ اور کھانسی شامل ہے۔ بیماری کی شدت میں اضافے کے ساتھ بخار بھی ظاہر ہو جا تا ہے ۔اسکی علامات میں متلی ، قے اور اسہال بھی شامل ہے ۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور سینے میں تکلیف ہوتی ہے ۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خود بھی کرونا بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پرسختی سے عمل کریں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کر یں۔ یہ بیماری کیونکہ زیادہ تر سانس کے ذریعے سے پھیلتی ہے اس لیے مسلسل ماسک کا استعمال کر یں۔ جب بھی گھر سے باہرنکلیں ماسک ضرور لگائیں۔ 

Advertisement

بار بار ہاتھ دھونے سے بھی بیماری کے جراثیم سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔۔اچھے صابن کے ساتھ ہاتھ دھوۓ جائیں اور ہینڈسینا ئز راستعال کیا ۔ گندے ہاتھوں سے ناک اور منھ کو نہ چھوا جاۓ۔
متاثرہ افراد سے براہ راست فاصلہ رکھا جاۓ ان کے استعمال کی چیزوں کو ہاتھ نہ لگایا جاۓ ، جتنازیادہ سے زیادہ ہو سکے متاثر شخص کو قر نطینہ کرناچاہۓ۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement