غزوہ بدر اعلان نبوت اور فخر مکاں و لا مکاں کے مکہ سے مدینہ کوچ کرنے کے بعد آپ کی معیت میں حق و باطل یعنی توحید و بت پرستی کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ ہے۔ اس جنگ کو غزوہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ بنفس نفیس اس جنگ میں تشریف لے گئے۔ (غزوہ کے مقابل میں ایک لفظ سریہ بولا جاتا ہے یعنی وہ جنگ جس میں آپ خود تشریف نہ لے جا کر کسی اور کو سپہ سالار لشکر بنا کر بھیجا ہو)۔ عربی زبان میں یہ غزوہ ان ناموں : غزوة بدر الكبرى وبدر القتال ويوم الفرقان سے بھی جانا جاتا ہے۔

یہ جنگ 17 رمضان المبارک 2 ہجری بمطابق 13 مارچ 624ء کو نبی بر حق ﷺ کی قیادت میں 313 بے سر و سامان توکل علی اللہ اور ایمان باللہ جیسی آہنی دفاعی ہتھیاروں سے لیس مسلمانوں اور ابو جہل کی قیادت میں 1000 گھوڑ سوار و شتر سوار مسلح و جنگجو سردارانِ عرب قبیلہ کے درمیان مدینہ منورہ سے تقریباً 80 میل دور "بدر” نامی مقام پر ہوئی۔ اس جنگ میں کل 14 مسلمان شہید اور 70 کفار قریش قتل ہوئے۔ عالم استعجاب یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 36 شیر خدا مولیٰ علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں انجام مرگ کو پہنچے اور 70 سے زائد گرفتار بھی ہوئے جن میں سے صاحب استطاعت افراد سے بطور فدیہ 4000 درہم لے کر اور کم حیثیت افراد کو 10 بچوں کی تعلیم و تربیت کے عوض رہا کر دیا گیا۔ کچھ قیدی مسلمانوں کے اس شاندار اخلاق سے اس قدر متاثر ہوئے کہ چند نے خود کی گردن میں غلامی رسول ﷺ کا پٹہ ڈال لیا۔ جن میں عباس بن عبد المطلب اور عقیل بن ابوطالب شامل تھے۔

اس جنگ میں کفار قریش کے قائد ابو جہل کے واصل جہنم ہونے کا واقعہ قدرے قابل بیان اور دلچسپ ہے۔ واقعہ اس طرح ہے کہ جب فریقین کے درمیان گھمسان کی لڑائی عروج پر تھی تبھی انصار کے دو کم عمر بچے معاذ بن عمر بن جموع اور معاذ بن عفر حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا:

’’چچا! آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں وہ کہاں ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں گالیاں بکتا ہے۔ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ وہ مر نہ جائے یا میں شہید نہ ہو جاؤں‘‘۔

ابھی یہ سلسلہ گفتگو جاری ہی تھا کہ قریب ہی سے اس لعین کا گزر ہوا۔ آپ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دیکھو تمہارا مطلوب راہ مفر کی تلاش میں کوشاں ہے۔ اشارہ پا کر ان دو بچوں نے اسے گرفت میں لینے کے ارادہ سے اس کے گھوڑے پر حملہ کیا اور اسے قدموں تلے لے آیا اور قریب تھا کہ وہ ان بچوں کے ذریعہ عبرتناک انجام کو پہنچے لیکن عین اسی وقت ابو جہل کا لڑکے عکرمہ بن ابی جہل نے معاذ بن عمر کے کندھے پر ایسا وار کیا کہ بازو لٹکنے لگا ، باہمت نوجوان نے بازو کو راستے میں حائل ہوتے دیکھا تو پاؤں کے نیچے لے کر اسے الگ کر دیا اور ایک ہی ہاتھ سے اپنے شکار پر حملہ کر دیا۔
اتنے میں معاذ بن عفرا کے بھائی معوذ وہاں پہنچے اور انہوں نے ابوجہل کو ٹھنڈا کر دیا اور عبد اللہ بن مسعود نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔

جانتے ہیں یہ شاندار جیت اقل مقدار ہونے کے باوجود مسلمانوں کو کیوں نصیب ہوئی اور کفار مکہ لشکر جرار رکھتے ہوئے بھی آخر کیوں کر ہزیمت سے دو چار ہوئے؟ بس اس لیے کہ کافروں کی نخوت و غرور اور تمرد و سرکشی مقابلہ میں مسلمانوں کو اپنے ظاہری اسباب، اپنی آہنی تلوار اور دفاعی زرہ بکتر سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی مدد اور رسول کریم ﷺ کے ارشاد حق پر بھروسہ تھا، جس کی وجہ سے وہ کامیابی سے ہم کنار ہوئے۔ ہاں! اگر وہ اپنی تعداد قلیل دیکھ کر رحمت الہی سے مایوس و نا امید ہو جاتے تو قسم خدا کی وجود مسلم کا سورج کب کا غروب ہو گیا ہوتا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کردار و عمل کی بہتری اور حسن اخلاق کے عمدہ پیشکش کی توفیق دے تاکہ ہم اپنی ان آہنی اور فطری ہتھیاروں کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ دشمنانِ اسلام کو قائل و مائل کر کے راہ رشد و ہدایت کا مسافر بنا سکیں۔ دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ شہداے و شریکان بدر کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اپنی بقیہ زندگی ان کے روشن خیالات و کاوشات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Advertisements