Advertisement

پاکستان کا قومی دریا

پاکستان کا قومی دریا "دریاۓ سندھ” ہے۔۔۔یہ دنیا کا انیسواں بڑا دریا ہے ایشیاء کا آٹھواں بڑا دریا ہے اور جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا دریا ہے۔ ۔دریاۓ نیل اگرچہ دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے لیکن زیادہ پانی دریائے سندھ میں ہے۔

اس کی لمبائی 3 ہزار 180 کلومیٹر ہے۔ اس کا مکمل رقبہ پاکستان کے رقبے سے بھی زیادہ ہے اس کا 11 لاکھ 65 ہزار مربع کیلومیٹر ہے۔۔یہ دریا اپنے معاون ندی نالوں کے ساتھ چار ممالک میں بہتا ہے اور 300 ملین لوگوں کی مدد کرتا ہے۔

Advertisement
National River Of Pakistan In Urdu | پاکستان کا قومی دریا 1

چینی علاقے تبت میں ہمالیہ کا ایک ذیلی پہاڑی سلسلہ کیلاش ہے۔۔۔کیلاش کے بیچوں بیچ کیلاش نام کا ایک پہاڑ بھی ہے جس کے کنارے پر ایک جھیل ہے جسے مانسرور کہا جاتا ہے اور اسی جھیل سے دریاۓ سندھ نکلتا ہے۔

پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے وادی نبیرا کے مقام پر دریائے نبیرا اس میں آکر ملتا ہے پھر یہ بلتستان کی طرف سے پاکستان میں داخل ہوجاتا ہے۔۔۔داخل ہوتے ہی سب سے پہلے دریاۓ شیوک اس میں آکر ملتا ہے پھر 30 کلومیٹر بعد سکردو کے قریب دریاۓ شیگر اس میں مل جاتا ہے مزید آگے جاکر کوہ ہندوکش کے پاس دریاۓ گلگت اور پھر نانگا پربت سے آنے والا دریا استور اس میں مل جاتا ہے۔ ۔تربیلا کے مقام پر ایک بہت بڑی دیوار بنا کر اسے تربیلا ڈیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

اس کے بعد اور بھی مختلف دریا "دریاۓ کابل،،دریاۓ سواں،،دریاۓ کرم،،دریاۓ گومل” بالترتیب اس میں ملتے جاتے ہیں۔۔۔مظفر گڑھ سے تھوڑا آگے جاکر پنجند کا مقام آتا ہے جہاں پنجاب کے پانچوں دریا جہلم،،ستلج،،راوی،،بیاس اور چناب آپس میں مل کر دریاۓ سندھ میں سما جاتے ہیں۔۔۔اس کے بعد یہ سکھر لاڑکانہ حیدرآباد سہون شریف اور ٹھٹھہ کے مقام سے ہوتا ہوا بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔۔۔
خیبرپختونخوا میں اس دریا کو اباسین یعنی دریاؤں کا باپ کہا جاتا ہے اسے اڈیرو لال اور جھولے لال بھی کہا جاتا ہے یہ دریا اپنی تند خوئی اور خود سری کی وجہ سے شیر دریا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ آریاؤں نے اپنی مقدس کتاب رگ وید اسی کے کنارے بیٹھ کر لکھی۔۔۔ہندو اس دریا کی پوجا بھی کرتے ہیں۔۔

تحریرمحمد صائم عطاری