محترم جناب امیر محفل و حاضرین باتمکین!
میرے ملک میں بےشمار مسائل ہیں جن پر کھلے عام بات ہوتی ہے اسی میں ایک سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی بھی نمایاں ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز اس وقت ہوا جب پاکستان نے سوویت افغان جنگ کے دوران افغان مجاہدین کی حمایت کی ، اور اس کے بعد افغانستان میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کی زد میں پاکستان خود بھی جلا اور اب تک جل رہا ہے۔ پاکستانی حکام کے اس وقت کے بیانیے اور فیصلے کو بھگتنا عوام الناس کو پڑا۔

ہم اس کشما کش میں ہیں کہ مرنے والا بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ہے، مارنے والا بھی ، تو مددِ خدا کس کی خاطر آئے؟ کس کی تائید ہو؟
یہ کالی بھیڑیں کون ہیں؟ جو ہمارے درمیاں گھس کر ہمارا ہی لہو بہا رہی ہیں۔ جہاں پر میرے شہر جل رہے ہیں ، میرے لوگ مر رہے ہیں۔ وہاں کسی باہر والے نے کیا خوب الزام لگایا کہ یہ مملکت دہشت گردی کو فروغ دیتی ہے۔ جو اپنی حفاظت کو یقینی نہیں بنا سکتی، وہ کسی اور کو کیا کہے۔

یہاں مجھے فیض کی نظم کے چند الفاظ یاد آتے ہیں؀

جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہلِ حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی

عالی وقار!
پاکستان پر کئی سالوں سے دہشت گردی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ساری دنیا نے پاکستان کو دہشت گرد ملک ہی تسلیم کیا ہے۔ تاہم ، لوگ یہ جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں کہ کوئی بھی ملک جسے خود بمباری ، قتل و غارت گری اور دوسرے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ کسی اور کو کیسے اور کیوں نقصان پہنچائے گا۔ جمہوری حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی بہت ساری کاروائیاں سرگرم ہیں جن میں مختلف آپریشنز کرکے ملک سے ان دھشت گردوں کو گھیر کر باہر نکالنے میں پہ در پہ کامیابیاں مل رہی ہیں۔ اس میں شدید مذاحمت کا سامنا بھی ہوا۔ میرے جوان بھی شہید ہوئے ، ماؤں کی گودیں بھی اجڑیں ، جوان لہو گلستان پر قربان ہوئے۔کئی سہاگ اجڑے ، بہنوں بیٹیوں کے محافظ لٹے۔

سامعین
ملک میں استحکام اور قیامِ امن کے لئے آئے دن فوجی کاروائیاں کر کے ملک کو بیشتر حملوں سے محفوظ کرنے کی سرگرمیاں گردش میں ہیں۔

جنابِ صدر !!!
اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے تو پھر امریکہ کو پاکستان کا نہ صرف خسارہ پورا کرنا چاہیے بلکہ پاکستان کے متاثرہ عوام کی بحالی کا خرچہ بھی پورا دینا چاہیے اور ہر وقت ”ڈو مور“ کا تقاضا ورنہ ہم خود ”ڈو مور“ کر لیں گے، کی دھمکیاں بند کرنی چاہیے۔ غور سے سوچا جائے تو شکاری کا ہدف کچھ اور ہے۔ دہشت گردی اس کا ایک جواز ہے جس میں پاکستان کے حالات بھی فٹ بیٹھتے ہیں۔

صدر عالی وقار
پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے سوشل میڈیا پر کئی متحرک کارکنان کو مغربی ممالک نے اپنے ممالک میں پناہ دی ہوئی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہمہ وقت چوکس ہیں جس سے نقصان کی شدت کم ہے تاہم حالیہ واقعات کی روشنی میں ان اداروں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت حکومت کو بھی سیاسی محاذ پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے اور دوستوں کے لبادے میں چھپے دشمنوں کو پہچاننے اور انہیں مسکت جواب دینے کی بھی ضرورت ہے۔

میری آپ سب سے گزارش ہے کہ آپسی رنجشوں میں نہ پڑیں۔ مذہب، نسل ، ثقافت پر آپس میں نہ لڑیں۔ اللہ نے چاہا تو پاکستان اس سب پر جلد ہی گرفت پا لے گا۔۔۔ اللہ وطن عزیز اور اس کے مکینوں کی حفاظت فرمائے۔
آمین
آپ سب کی سماعتوں کا شکریہ۔

Advertisements