جناب صدر میرے ساتھیو! السلام علیکم! آج کی میری تقریر کا موضوع وہ سانحہ ہے جس پر انسان کہلانے والے ہر رنگ و نسل ذات مذہب کے لوگوں کی آنکھ غم میں روئی ہیں۔جی ہاں عزیزو! یہ واقعہ کرب و بلا کا ہے۔

سانحۂ کربلا ۱۰ محرم ۶۱ھ کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ جہاں اموی خلیفہ یزید اول کی بھیجی گئی فوج نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے امام حسین ابن علی اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔ امام حسین ابن علی کے ساتھ ۷۲ ساتھی، کچھ غلام، ۲۲ اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے۔

عالی وقار!
صلح حسن کی شرائط کو پس پشت ڈال کر معایہ ابن سفیان نے اپنے بیٹے یزید ابن معایہ کو اپنی جگہ جانشین نامزد کر کے اسی اصول دین کی خلاف ورزی کی اور اسلام میں بادشاہی نظام کی بنیاد رکھی تھی جو کہ کسی طور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات نہیں۔ اسلامی اصولوں کے حساب سے ایسی غاضبی حکومت کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔

ابھی تک سرزمین حجاز میں ایسے کبار صحابہ اور اکابرین موجود تھے جنہوں نے براہِ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور دیکھا تھا۔ لہذا ان کے لیے معاویہ کی غلط روایت قبول کرنا ممکن نہ تھا۔ امام حسین عليہ السلام نے ان ہی اصولوں کی خاطر یزید کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

حاضرین!
یزید کا ذاتی کردار ان تمام اوصاف سے عاری تھا جو امیر یا خلیفہ کے لیے شریعت اسلامیہ نے مقرر کیے ہیں۔ سیر و شکار اور شراب و شباب اس کے پسندیدہ مشاغل تھے لہذا ذاتی حیثیت سے بھی کسی فاسق و فاجر کو بطور حکمران تسلیم کرنا امام حسین علیہ سلام عالی مقام کے لیے کس طرح ممکن ہو سکتا تھا۔ جب امام حسین عليہ السلام کوفے سے کوچ کر کے مکہ پہنچے تو اہلِ کوفہ نے انھیں سینکڑوں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ وہ خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کر سکیں۔

امام حسین عليہ السلام نے کوفیوں کے خطوط آنے کے بعد مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہ اصل صورت حال معلوم کریں۔ مسلم کے کوفہ پہنچنے کے پہلے ہی دن بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ کوفہ کے اموی حاکم بشیر نے ان کے ساتھ نرمی سے کام لیا۔ کوفیوں کے جذبات سے متاثر ہو کر مسلم بن عقیل نے امام حسین عليہ السلام کو کوفہ آنے کا خط لکھا۔ لیکن غدار اہل کوفہ نے ان سے غداری کی اور اپنے وعدوں سے پھر کر امام حسین عليہ السلام کا ساتھ نہ دیا۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے کربلا میں نواسہ رسول امام حسین عليہ السلام کو ان کے اہل خانہ اور اصحاب کو شہید کر دیا۔

عزیز سامعین!!!
مختصر سا قافلہ ۲ محرم الحرام ۶۱ھ بمطابق ۲ اکتوبر ۶۸۰ء کو کربلا کے میدان میں اترا۔ دوسرے ہی روز عمر بن سعد ۶ ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچا۔ عمر بن سعد چونکہ امام حسین سے لڑنے کا خواہش مند نہ تھا، اس لیے قرہ بن سفیان کو آپ کے پاس بھیجا۔

“ اے لوگو! جلدی نہ کرو۔ پہلے میری بات سن لو۔ مجھ پر تمہیں سمجھانے کا جو حق ہے اسے پورا کرلینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو۔ اگر تم میرا عذر قبول کرلو گے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی۔ تم اور تمہارے شریک مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو۔ اللہ تعالٰی میرا کارساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔ “

جونہی آپ اپنی تقریر کے اس حصے پر پہنچے تو خیموں سے اہلِ بیت کی مستورات کی شدّت رنج سے چیخیں نکل گئیں۔ آپ تھوڑی دیر کے لیے رک گئے اور اپنے بھائی عباس کو انہیں چپ کرانے کے لیے بھیجا۔ جب خاموشی طاری ہوئی تو آپ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :

”لوگو ! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو کہ میں کون ہوں۔ اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو۔ تم خیال کرو کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں۔ جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہا اور اس کے رسول پر ایمان لائے؟ کیا سید الشہداء حضرت امیر حمزہ میرے والد کے چچا نہ تھے؟ کیا جعفر طیار میرے چچا نہ تھے؟ کیا تمہیں رسول اللہ کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہوں گے؟ اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے۔ تو بتاؤ کہ تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا ہے؟ اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں سے وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے میرے متعلق رسول اللہﷺ کی حدیث سنی ہے۔ تم ان سے دریافت کرسکتے ہو۔ تم مجھے بتاؤ کہ کیا آپ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے باز نہیں رہ سکتے ۔“

لیکن کوفیوں اور ان کے سرداروں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ صرف حُر بن یزید تمیمی پر آپ کی اس تقریر کا اثر ہوا۔جن کوفیوں نے امام حسین عليہ السلام کو خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت تھی ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق ۱۲۰۰۰ اور دوسری روایت کے مطابق ۱۸۰۰۰ تھی لیکن جب جنگ کی نوبت آگئی تو ان بے وفا اور دغا باز لوگوں میں سے کسی نے حضرت حسین کا ساتھ نہ دیا اور کھڑے تماشا دیکھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے اپنے جانثار ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش فرمایا۔ حسینی آج بھی عزاداری مناتے ہیں اور یزید کے اس سیاہ کارنامے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہے۔اس شعر پر اجازت چاہوں گا۔؀

قتل حسین اَصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

شکریہ۔

Advertisements