سگریٹ نوشی پر ایک مضمون

تمباکو کی پیداوار کا اصلی وطن امریکہ ہے اور امریکہ سے ہی یہ یورپ اور پھر اکبر کے دور حکومت میں ہندوستان میں آیا اور اب آج کل دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں جہاں تمباکو کی کاشت نہ ہوتی ہو۔اور جہاں تمباکو اور سگریٹ کو پینے والوں کی ایک کافی جماعت موجود نہ ہو۔یہ بری عادت انسان کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے۔برطانیہ اور امریکہ میں تمباکو پینے پر کروڑوں پونڈ خرچ ہوتے ہیں۔یہ ان قوموں کا حال ہے جس کا لوہا دنیا بھر کی قومیں مانتی ہیں اور جن کو علم اور صحت کے اصولوں کے بارے میں کمال حاصل ہے۔

دنیا کی بعض اور مذہب اقوام اس سے بھی زیادہ روپیہ تمباکو نوشی پر ضائع کرتی ہیں۔ہندوستان میں کافی دیر کے بعد سگریٹ نوشی کا رواج ہوا۔اگرچہ مغلوں کے دور میں کم کم حقہ نوشی ہونے لگی تھی اور گزشتہ تین سو سال سے تمباکو نوشی نے یہاں کافی رواج پایا اور آج گھر گھر کو اس بری عادت نے گھیر رکھا ہے۔بڑے بڑے امیروں اور رئیسوں کے گھروں میں تمباکو پینا ایک قسم کی تفریح اور تواضح کا سامان سمجھا جاتا ہے۔قسم قسم کے مرصع قیمتی پیچ دار حقے رکھے جاتے ہیں جن کو تازہ کرنے کے لیے نوکر ہوتے ہیں۔مزدور پیشہ لوگوں میں یہ عادت عام ہوتی ہے۔اگرچہ حقہ نوشی کم ہونے لگی ہے تاہم سگریٹ نوشی عام ہوتی جارہی ہے۔عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ دم لینے کا ایک بہانہ ہے۔بعض لوگ تمباکو نوشی کے دھوئیں میں کاربن اینڈ گیس کے علاوہ اس میں ایک نہایت زہریلا تیزاب ملاتے ہیں۔یہ ایسی مہلک ہوتی ہے کہ اس کا ایک قطرہ سانپ کی زبان پر پڑ جائے تو وہ فوراً ہلاک ہو جائے۔

تیسری چیز ایک قسم کی کھار ہوتی ہے جو ایک قسم کا نشورا ہوتا ہے جو اس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ اگر اس میں سے ایک رتی بھی کسی تندرست کتے کو کھلادیں تو ہمیشہ کی نیند سو جائے۔

جس سے ایک مرتبہ حقہ پینے کی لت پڑ جاتی ہے پھر اس کا پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔اپنے مضر اثرات کے لحاظ سے یہ افیون سے بھی کسی صورت میں کم نہیں۔غرض یہ ایک چھری ہے جو انسان کو کاٹ رہی ہے۔ دل انجن کی طرح آواز دیتا ہے،جسم میں آگ سی معلوم ہوتی ہے۔ تمباکو آدمی کو کمزور اور پست حوصلہ بنا دیتا ہے۔تمباکو قوت ارادی کا بڑا دشمن ہے۔اس کے استعمال سے جسم کمزور اور ڈھیلا ہو جاتا ہے، چہرے پر مردنی سی چھا جاتی ہے۔یہ دماغ، بینائی، پھیپڑوں، دل اور جگر کو کمزور بنا دیتا ہے۔

ایک امریکی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اس کے استعمال کرنے والے لڑکوں کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔ابتداء میں پینے والے کے رگ و ریشہ میں ایک خمار سا محسوس ہوتا ہے اسکے بعد ان میں سستی پیدا ہوجاتی ہے۔اکثر طلباء کو بکثرت سگریٹ نوشی سے سیل یعنی تپ محرقہ (ٹی بی) کی بیماری ہونے لگتی ہے۔90 فیصد آدمیوں کو دل کی دھڑکن تمباکو یا سگریٹ نوشی سے ہوتی ہے۔

ایک ڈاکٹر کا قول ہے کہ تنباکو پینے کی مضر عادت ڈالنے سے اپنا گلا گھونٹ کر مر جانا بہتر ہے۔تمباکو کا زہریلا اثر دانتوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔اس کے علاوہ تمباکو پینا فضول خرچی میں داخل ہے۔

باوجود اس بات کے کہ سرکار نے اس کے مضر اثرات سے عوام کو آگاہ کرنا شروع کیا ہے۔مگر اس کی پیداوار پر روک لگانے کی ضرورت ہے۔کینسر جیسے مہلک مرض کا آغاز حقہ نوشی اور سگریٹ پینے کا انجام ہے۔کئی دفعہ حکام بلخصوص محکمہ صحت عامہ کے افسران نے اس بری عادت کو روکنے کی کوشش کی مگر اس پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔

والدین، استادوں اور سماج کے معزز لوگوں کو ملکر حقہ نوشی اور سگریٹ نوشی کے خلاف موثر اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔دیکھا گیا ھے کہ اکثر ہونہار اور اچھے لڑکے سگریٹ نوشی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔نیک لڑکے بزدل، ڈرپوک اور شریر بن جاتے ہیں۔دنیا میں جس قدر مشہور عالم اور فاضل گزرے ہیں انھوں نے عمر بھر تمباکو کو ہاتھ نہیں لگایا شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی عمریں دراز تھیں، دل مضبوط تھے، دماغ سالم اور جسم توانا تھا۔

طالب علمو! اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے جسم مضبوط، توانا اور تندرست رہیں۔دل اور دماغ درست ہو، حافظہ اچھا ہو، اخلاق پاکیزہ ہوں تو آج ہی پختہ عہد کرلو کہ عمر بھر تماکو نوشی کے پاس تک نہ بھٹکیں گے۔اور اگر آپ ایسا کرلیں تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ اپنی زندگی میں بہت آگے جائیں گے اور اپنے ماں باپ و اپنے ملک کا نام روشن کریں گے۔



Close