سائنس کے کرشمے

خدا تمام جہانوں کا خالق, مالک اور معبود ہے. اس نے انسان کو اس دنیا میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر بھیجا ہے اور اسے اتنی فہم وذکا سے نوازا کہ وہ اپنے روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختلف ایجادات کرسکے. قرآن پاک میں کائنات کو مسخر کرنے اور اس پر تدبر و تفکر کرنے پر زور دیا گیا ہے۔اب تک ترقی کے جو آسمان فتح کئے ہیں، سب سائنس کا کرشمہ ہے۔

سیاروں پر کمندیں

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔انسان کو اللہ تعالی نے لاتعداد ذہنی خوبیاں بخشی ہیں۔انسان نے اپنی ذہنی خوبیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے چھوٹی بڑی ایجادات کے ذریعے اس دنیا کو طلسماتی دنیا میں بدل دیا ہے۔پرانے زمانے کا انسان دوبارہ اس دنیا میں آ کر دیکھ لیں کہ انسان ہواؤں میں اڑ رہا ہے، سمندروں کا سینہ چاک کر رہا ہے اور زمین سے معدنیات کے خزینے نکال رہا ہے تو تھوڑی دیر اس کی عقل ماؤف ہو جائے گی ہو جائے گی۔انسان چاند کو تسخیر کرچکا ہے، اب وہ مریخ اور دیگر سیاروں تک پہنچنے کا آرزو مند ہے۔

ریل گاڑی اور کار

قدیم زمانے میں انسان کا ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچنا مشکل تھا۔کو کاف کے سفر یعنی سمندروں اور پہاڑوں کو عبور کرنے کا ذکر شہزادوں کی کہانیوں ہی میں ملتا تھا۔گھوڑوں اور اونٹوں پر بھی سفر کیے جاتے تھے۔لیکن یہ سفر سردی، گرمی اور جنگلی درندوں سے بچنے کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتے تھے۔انسان نے اپنی عقل سے پہیہ اور ریل گاڑی انجن تیار کرلیا۔وہ سفر جو برسوں اور مہینوں میں ہوتا تھا اور جس طرح انسان امراض اور اموات کو دعوت دے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا تھا،وہی سفر گھنٹوں میں اور حفاظت سے ہونے لگا ہے۔ریل گاڑی نے انسان کا قیمتی وقت بچایا اور اسے سفر کرتے ہوۓ یوں محسوس ہوا، جیسے وہ اپنے گھر کے کسی کمرے میں بیٹھا ہو۔

سائنسی ایجادات میں کار بھی بڑی زبردست ایجاد ہے۔ریل گاڑی تو مخصوص مقامات تک پہنچ سکتی ہے اور ہر جگہ لائن بچھانا بھی ناممکن ہے۔اسی ضرورت کے پیش نظر کار ایجاد کر لی گئی۔جدید دور میں کار ہر گھر کی ضرورت بنتی جا رہی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں اگرچہ ہر انسان کار خرید سکتا ہے لیکن وہاں ریل گاڑیوں اور بسوں کی اتنی زبردست سہولت موجود ہے کہ لوگ ریل گاڑی کے سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہواؤں اور سمندروں پر حکومت

آج کے انسان نے ہواؤں اور سمندروں پر حکومت قائم کرلی ہے۔کسی زمانے میں قدرت حق سے حضرت سلیمان علیہ السلام کا تخت اڑا کرتا تھا۔شروع شروع میں انسان کو پرندوں کو دیکھ کر ہی ہوا میں اڑنے کا شوق پیدا ہوا ہوگا۔بہرحال اس نے اپنی عقل سے رہنمائی حاصل کی اور وہ ہوائی جہاز کی ایجاد کے ذریعے ہوا کے کندھوں پر سوار ہو گیا۔ہوائی جہاز کے ذریعے پوری دنیا کے فاصلے سمٹ کر رہ گئے۔اسی طرح بحری جہاز کی ایجاد بھی سائنس کا بہت بڑا کرشمہ ہے۔دور دراز کے ممالک سے جو خام مال مشینری اور دفاعی سازوسامان درآمد کیا جاتا ہے، وہ بحری جہازوں کے ذریعے ہی منگوایا جاتا ہے۔اگر بحری جہاز ایجاد نہ کیا جاتا تو انسان کاروبار کے لحاظ سے حیرت انگیز ترقی نہیں کرسکتا تھا۔ابوی دنیا ایک گلوبل ویلیج کا روپ دھار چکی ہے۔

پیغام رسانی کا ذرائع

کبھی وہ زمانہ تھا کہ گھڑ سوار ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام لے جایا کرتے تھے اور پیغام پہنچنے کا پھر بھی یقین نہیں ہوتا تھا۔اب انسان کو ٹیلیفون، ٹیلیگراف، ٹیلیکس اور فیکس جیسی سہولیات میسر ہیں۔آپ کا پیغام ایک آن میں ہزاروں میل دور پہنچ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوریوں کی تمیز مٹ گئی ہے اور انسان دور رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے بہت قریب ہو گیا ہے۔اسی طرح ریڈیو اور ٹیلی وژن نے پوری دنیا کے فاصلوں کو ختم کرکے آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ہل خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک فورا پہنچ جاتی ہے۔

طبی دنیا میں انقلاب

سائنسی ایجادات نے طبی دنیا میں ہلچل مچادی ہے۔ایکسرے، الٹراساؤنڈ اور کمپیوٹر وغیرہ کی مدد سے بیماری کی تشخیص آسان ہو گئی ہے۔ادویات اور انجکشن وغیرہ تو قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔اب تو سرجری کے ذریعے انسانی اعضاء کی پیوندکاری کا دور شروع ہو چکا ہے۔ایک شخص دوسرے کو اور ایک کا دل اور گردے دوسرے کو لگائے جا رہے ہیں۔ت سائنسی کرشمات نے بیماری کو مات دے دی ہے کیونکہ اندھوں کو بصارتیں مل رہیں ہیں۔بہروں کو سماعت نصیب ہورہی ہیں اور لنگڑوں کو چلنے پھرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔

بجلی انسان کی غلام ہے

کسی زمانے میں سورج ہی روشنی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تھا۔آج آپ دیکھیں کہ انسان نے دریاؤں اور سمندروں کے آگے بند باندھ دیے ہیں۔اور اس پانی کو بلندی سے گر اگر بجلی پیدا کرلی ہے۔بجلی ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔یہ گرمیوں میں ٹھنڈک اور سردیوں میں گرمی پہنچاتی ہے۔صرف ایک بٹن دبانے سے آپ کا گھر بقعہ نور بن جاتا ہے۔اسی طرح ایئر کنڈیشنز سے آپ کا گھر ٹھنڈا ہو جاتا ہے بل کہ بجلی نے آپ کے گھر کا ہر کام آسان کر دیا ہے۔

پہلے پہل انسان غاروں میں رہتا تھا۔آج کا انسان اپنے علم کی وجہ سے عروج و ارتقاء کی منزلیں طے کر رہا ہے۔وہ خوب سے خوب تر تلاش میں ہے۔خواب حقیقت میں بدل گئے ہیں۔کہانیاں ںسچی ہوگئی ہیں۔سائنس نے انسانی زندگی کے سفر کو آسان بنا دیا ہے اور ثابت کردیا ہے کہ انسان دوسری مخلوقات سے افضل ہے۔

سائنس کے منفی اثرات

سائنس نے جہاں انسان کو آسائش فراہم کی ہیں، جس کی وجہ سے انسان کے لئے کچھ قباحتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔مثال کے طور پر ہر ملک اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہو گیا ہے۔ایک ملک دوسرے پر روعب ڈالنے کی خاطر ایٹم بم کا دھماکہ کر رہا ہے۔اب تو ہائیڈروجن بم اور اس سے بھی خطرناک بم تیار کرلیے گئے ہیں۔آج کا انسان پہلی کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب ہے لیکن دفعہ کی آڑ میں انسان دوسرے انسان کے لیے موت کا سامان کر رہا ہے۔اگر انسان ایک دوسرے سے محبت کرے اور ایک دوسرے کا احترام کرے تو بغیر ہتھیاروں کے بھی زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

سائنس کی ایجاد نے انسان کو اتنا مصروف بنا دیا ہے کہ وہ بھی ایک مشین بن کر رہ گیا ہے۔سائنسی ایجادات نے جہاں انسان کو سہولت فراہم کی ہیں وہاں اسکا سوکھ چین برباد کر دیا ہے۔فیکٹریوں کے دھوئیں اور شور کی آلودگی انسانی صحت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔انسان تازہ ہوا اور خوراک سے دور ہوتا جا رہا ہے۔بھاگ دوڑ اور افراتفری کے نتیجے میں مادہ پرستی کی طرف بھی مائل ہو گیا ہے۔

A Quiz On Pakistan

Close