امن کی برکتیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ ایک لعنت ہے، خدا کا سب سے بڑا قہر ہے۔میدان جنگ کا منظر کتنا خوفناک ہوتا ہے۔کہیں سر کٹے پڑے رہتے ہیں، پورے جسم کٹے خون میں لت پت نظرآتے ہیں۔گدھ اور چیلیں منڈلاتی ہیں۔مردار خور جانور لاشوں کو نوچنے کے لیے چکر لگاتے ہیں۔خون سے لت پت دم توڑتے سپاہیوں کو دیکھ کر دل بیٹھنے لگتا ہے۔لاکھوں عورتیں بیوہ ہو جاتی ہیں،لاکھوں بچے یتیم ہو جاتے ہیں،کئی بوڑھے ماں باپ جگر کے ٹکڑوں کی یاد میں تڑپتے ہیں اور خون کے آنسو روتے ہیں۔گلی گلی میں جنگ کے بھوت کا ننگا ناچ ہوتا ہے۔بمباری سے کیا مدرسے اور کیا ہسپتال، سب کچھ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔وبائیں پھیلتی ہیں، شاندار بلند عمارتیں کھنڈرات میں بدل جاتی ہیں۔بازاروں میں ہوکا عام طاری ہو جاتا ہے۔ضروریات زندگی کی چیزیں ناپائد ہوجاتی ہیں۔الغرض جنگ کی ہولناکیاں اور تباہ کاریاں بیان سے باہر ہیں۔

اس کے برعکس امن یقینا ایک برکت ہے، خدا کی نعمت ہے، اسکے بغیر تو تعمیری کام ممکن نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ قوموں نے امن کے زمانے میں ہی ترقی کی۔علوم فنون کا مطالعہ سکون خاطر کے بغیر نہیں ہوسکتا اور جنگ کے دوران سکون خاطر کسے نصیب ہوتا ہے۔دل اور دماغ پر جنگ کا خوف طاری ہو تو انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔اس کی قوت متخیلہ مفلوج ہو جاتی ہے۔اطمینان دل جاتا رہتا ہے۔ ملک میں امن کا دور دورہ ہو تو ہر قسم کے کام انجام پاتے ہیں۔ذرائع آمدورفت میں توسیع ہوتی ہے، تعلیم و تربیت کی اشاعت آسان ہوتی ہے،نئی سڑکیں تعمیر ہوتی ہیں، نئی ریلیں بچائیں جاتی ہیں، تجارت و حرفت وصنعت کو فروغ ہوتا ہے۔جنگ کے دوران سوائے سامان حرب کے اور کسی چیز پر توجہ نہیں ہوتی۔سامان جنگ تیار کرنے کے لیے ہرممکن وسیلہ ڈھونڈا جاتا ہے۔کارخانوں میں بھی جنگ کے لیے ضروری اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔عام ضروریات زندگی میسر نہیں ہوتیں۔

انگلستان میں جو ترقی و تعمیر ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں ہوئی کبھی نہ ہوئی تھی۔اس زمانے میں پورا پورا امن تھا لوگ بہت خوشحال اور آسودہ تھے۔برطانوی سلطنت پر کبھی سورج غروب نہ ہوتا تھا۔یہ انگلستان کے کمال عروج کا دور تھا۔جون ہی ہٹلر کے ساتھ جنگ چھڑی برطانوی سلطنت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔دراصل برطانیہ بلکل کھوکھلا ہوگیا اور اپنی کمزوری اور مجبوری کے سبب وسیع سلطنت سے ہاتھ دھو بیٹھا۔یکے بعد دیگرے برطانوی مقبوضیات اور آبادیاں انگریز کے چنگل سے آزاد ہو گئیں اور برطانیہ کی عظمت خاک میں مل گئی۔یہ تھا جنگ کا نتیجہ۔

اسی طرح روس نے جو ترقی کی، وہ زیادہ تر سٹالن اور لینن کے زمانۂ امن میں ہوئی۔سٹالن نے اپنے بچھڑے ہوئے دیش کو بام عروج تک پہنچایا۔اب وہ دنیا کی دو سب سے بڑی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔اس وقت دنیا میں امریکہ اور روس کا ہی بول بالا ہے۔پہلی عالمگیر جنگ کے بعد روس کو جو بیس سال امن و سکون مل گئے ان میں اس نے حیرت انگیز ترقی کی اور اس قابل ہو گیا کہ جرمنی جیسے ترقی یافتہ اور طاقتور ملک کے چھکے چھڑا دیے دوسری عالمگیر جنگ میں اس نے ہٹلر کو شکست فاش دی اور تمام دنیا پر اس کی طاقت و ترقی کا رعب چھا گیا۔اب حالت یہ ہے کہ امریکہ جیسی عظیم حکومت کو بھی اس کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی جرأت نہیں۔

امریکہ کی تاریخ بھی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ ملک امن کے زمانے میں ہی ترقی کر سکتے ہیں۔امریکہ کی ترقی کی دوڑ بھی اس وقت شروع ہوئی جب وہ انیسویں صدی کی خانہ جنگی سے فارغ ہوا اور جنگ آزادی میں فتح پانے کے بعد امن و سکون کے دور میں داخل ہوا۔امریکی ترقی کا راز یہ ہے کہ بیسویں صدی میں اسے اپنے ملک میں کوئی جنگ نہیں لڑنا پڑی۔دنیا کی دو عظیم جنگیں امریکہ سے ہزاروں میل دور یورپ، افریقہ اور ایشیا میں لڑی گئیں۔اہل امریکہ جنگ کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں سے محفوظ رہے اور اطمنان خاطر کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن رہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں امریکہ سب سے زیادہ دولت مند اور طاقتور ملک ہے۔علوم و فنون میں بھی وہ سب ملکوں پر سبقت لے گیا ہے۔امریکہ کے ہوا باز چاند کی سیر کر آئے ہیں جو یہاں سے ڈھائی لاکھ میل کی دوری پر ہے۔امریکہ نے خلائی جہاز اور راکٹ تیار کرنے پر اربوں روپے صرف کر دیے ہیں۔

اس وقت دنیا جن مسائل سے دو چار ہے وہ صرف امن و سکون کی فضا ہی میں حل ہو سکتے ہیں۔مثلا بھوک کا مسئلہ، بیماری کا مسئلہ، جہالت عامہ کا مسئلہ، بیکاری کا مسئلہ،افلاس و ناداری کا مسئلہ وغیرہ۔یہ مشکلات دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کے باہمی اتفاق و اتحاد سے ہی سلجھ سکتی ہیں۔بچھڑے ہوئے ملکوں کی مدد ترقی یافتہ دیش صرف امن و امان کے زمانے میں کر سکتے ہیں۔اگر جنگ چھڑ جائے تو بڑے ممالک اپنی الجھنوں میں پھنس جائیں گے اور پسماندہ ملکوں کی حالت زار پر توجہ نہ دے سکیں گے۔اس لیے امن و سکون ہی دنیا کے کلیان کی کنجی ہے۔امن کی برکات سب پر آشکار ہیں۔کون نہیں جانتا کہ تاج محل (آگرہ)، لال قلعہ (دہلی)، اجنتا الورا کے غار (مہاراشٹر)امن کے زمانے کی ہی برکات ہیں۔سنگ تراشی اور فن تعمیر کے یہ بے مثال نمونے امن ہی کی یادگار ہیں۔درحقیقت دنیا کے تمام عجائبات دور امن کی محنت و کاوش کے نتائج ہیں۔اس لئے ہمیں چاہئے کہ امن و سکون کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں ساتھ ہی اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کریں جس سے ہر ایک ملک میں امن پھیلے گا اور لوگ خوش حالی کی زندگی بسر کریں گے۔



Close