نظم و ضبط پر ایک مضمون

نظم و ضبط سے مراد ایک سلسلہ، ترتیب، بندوبست اور نظام ہے۔نظام کائنات پر غورکرنے سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات کا حسن اور جمال نظم و ضبط پر مبنی ہے۔سورج صبح کرنوں کا  سنہری تاج پہنے نمودار ہوتا ہے، دوپہر کو نصف النہار پر ہوتا ہے اور شام کو غروب ہو جاتا ہے۔اسی طرح چاند افق پر حلال کی صورت میں ابھرتا ہے اور پھر چودہ دن تک بڑھتا ہے اور ماہ کامل کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔اسی طرح ستاروں اور سیاروں کی گردش بھی قانون قدرت کے مطابق جاری و ساری ہے۔

رات دن ایک دوسرے کے تعاقب میں سرگرداں ہیں۔روز و شب کے جلوے ایک ضابطے کے سلک گوہریں میں پروئے نظر آتے ہیں۔سر گرم ہوائیں چلتی ہیں، بادل ہواؤں کے دوش پر سوار ہوکر نیلے آسمان کو ڈھانپ لیتے ہیں۔پھر یہ بادل دھرتی پر برستے ہیں، جن سے فصلیں لہلہا اٹھتی ہیں اور اناج پیدا ہوتا ہے۔جب پہاڑوں کی چوٹیاں برف کی پگڑیاں باندھ لیتی ہیں تو پھر جب گرمیوں میں ان چوٹیوں پر تیز دھوپ پڑتی ہے تو ان پہاڑیوں کے بیچ وخم ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔مراد یہ کہ انہی بلند و بالا  پہاڑوں کی برف پگھل پگھل کر ندی نالوں اور دریائوں کو پانی مہیا کرتی ہے۔ہواؤں کا چلنا، موسموں کا بدلنا، برفوں کا پگھلنا اور ندی نالوں کا رواں دواں ہونا یہ سب قدرت کے قوانین اور ضابطوں کا مظہر ہیں۔

اگر ہم تھوڑی دیر کے لئے اپنے دین اور مذہب پر غور کریں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات کا رتبہ دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔اللہ تعالی نے انسان کو اپنی من مانی کرنے کے لیے دنیا میں نہیں بھیجا۔ اس نے اس کی رشد و ہدایت کے لیے پیغمبر بھیجے۔پیغمبر انسانوں کو ایک نظم و ضبط کے تحت زندگیاں گزارنے کا طریقہ بتاتے رہے۔

ارکانِ اسلام میں نماز کو دیکھیے، ہر نماز کا وقت مقررہ وقت پر ادا کرنے کا حکم ہے۔فجر کی نماز سورج طلوع ہونے سے قبل ہوتی ہے۔اسی طرح دیگر نمازوں کے لئے مختلف اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔جب اذان کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہے تو ہم اپنی تمام تر مصروفیات سے دست کش ہو کر اللہ کے گھر کی طرف چل پڑتے ہیں۔مسجد میں پہنچ کر وضو کرتے ہیں اور پھر امام صاحب کے پیچھے صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔

نظم و ضبط کا عالم یہ ہے کہ نماز کے لیے وضو کرنا لازمی ہے۔وضو کرنے کے بعد ہم امام کے پیچھے جماعت میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جب امام رکوع میں جائے تو ہم رکوع میں جاتےہیں۔جب امام اللہ تعالی کے حضور سجدہ کرے تو ہم بھی سجدہ کرتے ہیں اور جب امام سلام پھیرے تو ہم بھی سلام پھیر لیتے ہیں۔ جس طرح فوج کا کمانڈر جب سپاہیوں کو صبح میدان میں پریڈ کرنے کے لئے بلاتا ہے تو سب کے سب ہی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا حکم بجا لاتے ہیں اور میدان میں پہنچ کر پریڈ  کرتے ہیں۔کوئی سپاہی اپنی مرضی کےمطابق جواب نہیں دے سکتا کہ وہ اکیلا جب چاہے پریڈ کر لے گا۔نماز کی جماعت ہو رہی ہو تو ہم ادھر ادھر نہیں دیکھ سکتے۔

یہ سب کیا ہے؟یہ نماز کا نظم وضبط ہے۔جب تک ہم نماز کے نظم و ضبط پر عمل نہیں کریں گے، ہماری نماز نہیں ہوگی۔باجماعت نماز سے نظم و ضبط کا ہی اظہار ہوتا ہے۔نماز کی پابندی کرنے والے شخص کی زندگی نظم وضط کی پابند ہو جاتی ہے۔اس کی زندگی میں ایک ترتیب آجاتی ہے۔اس کے روزمرہ کے کام خودبخود نمازوں کے مطابق ڈھل جائیں گے۔اس سے روزانہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ اگر وہ نماز عشاء کے فوراً بعد سو گیا تو صبح جماعت کےساتھ نماز ادا کرے گا۔اگر یوں ہی گپ شپ کرتا رہا، ٹیلی ویژن کے پروگرام دیکھتا رہا تو وہ صبح کے وقت بیدار نہیں ہو سکے گا۔اسی طرح اس کے سارے دن کی روٹین خراب ہوجائے گی۔

حج اسلام کا ایک رکن ہے۔حج کے لئے تمام دنیا کے مسلمان خانہ کعبہ میں جمع ہوتے ہیں۔حج سب کے لئے ایک جیسا ہوتا ہے۔حج کے دوران میں جتنے بھی مناسکِ حج ادا کیے جاتے ہیں۔وہ نہایت منظم طریقے سے ادا کیے جاتے ہیں۔حاجی طواف کرتے ہوئے، سعی کرتے ہوئے،رمی کرتے ہوئے، قربانی دیتے ہوئے غرض ہر جگہ انہیں نظم و ضبط کا پابند رہنا ہوتا ہے۔

ہم تو انسان اشرف المخلوقات ہیں۔چھوٹی چھوٹی مخلوقات میں ہم سے زیادہ نظم وزضبط پایا جاتا ہے۔آپ چونٹیوں کو دیکھیے ایک قطار میں چل رہی ہوتی ہیں۔یہ منظم طریقے سے اور اپنی مخصوص رفتار سے چلتی ہیں۔ایک تیز رفتار چونٹی مخالفت سمت سے آنے والی چونٹی کو آسانی سے گزرنے کے لیے راستہ مہیا کرتی ہے۔اسی طرح شہد کی مکھیوں میں کمال درجے کا نظم وضبط پایا جاتا ہے۔

ہر مکھی اصول اور قاعدے کے مطابق اپنا کام کرتی ہے۔ زندگی میں اسی قوم نے ترقی کے زینے طے کئے ہیں، جس میں اتحاد اور نظم وضبط پایا جاتا ہے۔جو قومیں بے اصولی سے زندگی گزارتی ہیں ان میں نہ تو اتحاد پایا جاتا ھے اور نہ ہی نظم وضبط۔ ایسی قوموں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد شروع ہوجاتا ہے۔کوئی کسی کی بات نہیں سنتا۔ہر کوئی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔مراد یہ کہ ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی بجا تا ہے اور ہر کوئی اپنا اپنا راگ لگاتا ہے۔

زندگی میں نظم و ضبط کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔قوموں کی تعمیر و تشکیل میں افراد ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔اگر ہم سے کوئی یہ سمجھے کہ دوسرا اپنی اصلاح کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مجھے کسی اصول، ضابطے اور قاعدے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔زندگی میں خوبصورتی نظم و ضبط کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔

عام کہاوت ہے کہ جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہے۔لیکن اسلام ایک انصاف پسند مذہب ہے کہ اس نے جنگ کیلئے اخلاق کے ضوابط متعین کر رکھے ہیں۔اسلام جنگ کے دوران کفار کی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔اگر دشمن ہتھیار ڈال کر معافی طلب کرے تو اسلام اسے معاف کرنے اور اس کی حفاظت کرنے کا حکم دیتا ہے۔اگر کسی جنگ میں کوئی علاقہ فتح ہوجائے تو اسلام دشمنوں کے کھیتوں میں کسی طرح کے نقصان اور پکی ہوئی فصلوں کو اجاڑنے اور درختوں کو کاٹنے کی اجازت نہیں دیتا۔

‎آج وطن عزیز کے چپے چپے پر ناکے لگے ہوئے ہیں۔ہر طرف دھماکے ہی دھماکے ہو رہے ہیں۔مسلمانوں کا خون پانی سے بھی ارزاں ہو چکا ہے۔ہر محکمہ انتشار کا شکار ہے کسی ہسپتال میں کوئی مریض بیماری کی وجہ سے چل بسے تو اس کے لواحقین ڈاکٹروں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔جب بجلی نہیں آتی تو لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔واپڈا کے دفاتر نذرآتش کئے جاتے ہیں۔ہر جگہ افراتفری اور انتشار کی حکمرانی ہے۔

روزانہ لوگ اپنے اپنے مسائل کی گڑیا اٹھائے سڑکوں پر آتے ہیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے ٹائر جلاتے ہیں اور ٹریفک جام کر دیتے ہیں۔ہمارے ہاں روزانہ جلوس نکلتے ہیں ،روزانہ ہڑتالیں ہوتی ہیں، زندگی میں کہیں نظم و ضبط اور ڈسپلن دکھائی نہیں دیتا۔افسوس ہم میں اتحاد و اتفاق نہیں رہا۔ آج اگر ہم نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کرنے لگیں  تو ہماری زندگیوں میں ایک سلیقہ اور ایک جمال دکھائی دے سکتا ہے۔اسلیے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگیوں کے ہر شعبے میں نظم و ضبط پیدا کریں اور اپنی زندگی کو ایک خوشگوار راستے پر گامزن کریں۔۔۔۔

Close