ہاکی کھیل پر ایک مضمون

ہاکی ایک ہردلعزیز یورپ کا کھیل ہے۔فٹبال اور کرکٹ کی طرح یہ کھیل بھی ہندوستان اور پاکستان میں یورپ سے آیا ہے لیکن اس نے ہندوستان اور پاکستان میں ایسی مقبولیت حاصل کر لی ہے کہ کوئی اسکول، کالج، کوئی گاؤں نہیں جہاں یہ کھیل کھیلا نہ جاتا ہو۔

اس کھیل کے لیے ایک ہموار میدان ہوتا ہے جس کی لمبائی سو گز اور چوڑائی پچاس گز تک ہوتی ھے۔دونوں سروں پر لکڑی کے ستونوں سے دو گول بنائے جاتے ہیں جن میں زمین سے کچھ اوپر 15 گز کے فاصلہ پر ایک نصف دائرہ بنایا جاتا ہے جسے ڈی (D) کہتے ہیں۔میدان کے عین درمیان میں سینٹر بناتے ہیں۔ہاکی کھیلنے کے لئے دونوں ٹیموں میں گیارہ گیارہ کھلاڑی ہوتے ہیں۔ہر ایک کھلاڑی کے پاس ایک لکڑی کی سٹیک ہوتی ہے جس سے وہ گیند کو ہٹ لگاتا ہے۔کھلاڑیوں کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے۔

گول کیپر:-اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے گول کی ھر ممکن طریقہ سے حفاظت کرے۔وہ گول کے اندر اور باہر دونوں ہاتھوں سے گیند کو روک سکتا ہے۔ پاؤں سے ہٹ لگا سکتا ہے۔دوسرے کھلاڑیوں کی طرح اپنی ہاکی اسٹیک کا بھی استعمال کرسکتا ہے۔

فل بیک:-دو کھلاڑی ہوتے ہیں۔ ان کی جگہ ڈی لائن پر ہوتی ہے۔ یہ حملہ کو روکنے اور خود بھی مقابل پر حملہ کرتے ہیں۔

فارورڈ:-ان کی تعداد پانچ ہوتی ہے۔ انکا کام مخالف ٹیم پر پے در پے حملے کرنا ہوتا ہے۔

کھیل میں ہار جیت کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک تربیت یافتہ ریفری ہوتا ہے۔دونوں ٹیمیں اس کا فیصلہ بلا چوں وچرا تسلیم کرتی ہیں۔نہ اس کے فیصلہ کے خلاف اپیل ہی ہوسکتی ہے۔ریفری دونوں فرقوں کو قاعدہ اور کھیل کے قانون کے مطابق کھیل شروع کرواتا ہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ٹیموں میں سے ایک ایک کھلاڑی مرکز میں رکھے ہوئے گیند کے آمنے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔پہلے اپنی اسٹیک کو زمین پر پھر دوسرے کی اسٹیک پر مارتے ہیں۔ یہ عمل تین بار دہرایا جاتا ہے۔چوتھی دفعہ دونوں اپنی اپنی ہاکی سے گیند کو چھیننے کی کوشش کرتے ہیں اس طرح کھیل شروع ہو جاتا ہے۔

کھیل کے دوران اگر ہاکی کندے سے اوپر اٹھ جائے تو مخالف ٹیم کو ایک ہٹ مل سکتی ہے۔گول کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈی کے اندر سے ہٹ لگائی جائے اور اگر ڈی کے باہر سے ہٹ لگائی جائے اور گیند گول میں سے بھی گزر جائے تو وہ گول شمار نہیں ہوتا بلکہ آؤٹ ہوتا ہے۔اگر کوئی کھلاڑی اپنے ہی گول میں گیند پھینک دے تو وہ کارنر کہا جاتا ہے۔کارنر دو طرح کے ہوتے ہیں۔

(١) لانگ کارنر:-اس میں کھلاڑی ہٹ کو روکنے کے لئے ایک قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔یہ حملہ روکتے اور خود بھی مقابلہ کے لئے حملہ کرتے ہیں۔

(٢) ‏شارٹ کارنر:-اسے صرف گول کیپر ہی روک سکتا ہے۔

ہاف بیک:-تین کھلاڑی ہوتے ہیں جو فل بیک سے کچھ فاصلہ پر ہوتے ہیں۔یہ حملہ روکتے اور خود بھی مقابل کے لئے حملہ کرتے ہیں۔

یہ کھیل اگرچہ یورپ میں شروع ہوا تھا اور یورپ میں ہی پروان چڑھا اور اس کے تمام قاعدے اور قانون بھی وہیں پر وضع ہوتے رہتے ہیں۔لیکن پھر بھی دنیا کے عالمی مقابلے میں جسے اولمپک مقابلہ کہا جاتا ہے 1928ء سے ہندوستان کی ٹیم ہی جیتی چلی آ رہی تھی۔اور ہر سال سونے کا تمغہ حاصل کرتی رہی۔1948ء میں پاکستانی ٹیم وجود میں آئی اور برابر اس کا پلہ بھاری ہوتا رہا۔ 1956ء کے سولہویں اولمپک مقابلوں میں پاکستان نے شہر ملبورن میں عالمی چیمپیئن کا اعزاز حاصل کیا۔جرمنی، آسٹریلیا، ہالینڈ، چین اور پاکستان اعلی درجے کی ٹیمیں شمار ہوتی ہیں۔دوسرے درجے پر بھارت، انگلینڈ، ملیشیا اور دیگر ٹیمیں شمار ہوتی ہیں۔

اس کھیل سے جسمانی ورزش کے علاوہ کھلاڑیوں میں خلوص، یکجہتی اور منظم پیدا ہوتا ہے، مشترکہ جدوجہد کا سبق ملتا ہے۔ہاکی میں چستی، چلاتی اور پھر تیلے پن کی بڑی ضرورت ہوتی ہے۔ہاکی ہندوستان اور پاکستان کا قومی کھیل کہلایا جاتا ہے۔

A Quiz On Pakistan

Close