Advertisement

ہمدردی دو لفظوں سے مرکب ہے "ہم” اور "درد”اس کے معنی ہیں دو یا زائد لوگوں کا دکھ درد میں شریک ہونا یعنی اگر کوئی شخص کسی مصیبت یا بلا میں مبتلا ہے تو دوسروں کا اس بلا میں ہاتھ بٹانا۔ اگر یہ بات صحیح ہے کہ سارے انسان ایک ہی ماں باپ کے بیٹے ہیں تو ایک بھائی کا دوسرے بھائی کی مدد کرنا لازمی ہے۔ ہمدردی انسان تو انسان سے ہی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔بچوں کی ایک مدت تک پرورش کرنا۔ ان کے لیے غزا بہم پہنچانا اپنی قوت سے پھر ان کو دشمنوں سے بچانا۔ کیا یہ صفت جانوروں میں نہیں پائی جاتی ہے؟ تو کیا یہ ہمدردی نہیں ہے؟

Advertisement

کسی اناج کے دانے کو ایک چیونٹی کا پا کر دوسری چیونٹیوں کو جمع کر لینا یہ سب باتیں بتا رہی ہیں کہ ہمدرد بنی نوح انسان کے علاوہ نوع حیوانی میں بھی کام کر رہی ہے۔ ہمدردی انسان کے لئے اس لئے بھی ضروری ہے کہ دنیا کا نظام درہم اور برہم نہ ہونے پائے۔ کیونکہ انسان اپنی ضروریات میں اپنے دوسرے بھائیوں کا محتاج ہے۔ سب سے اعلی کام حلال روزی اور خودداری کا ہے۔ اس کے بغیر دنیا کا کوئی کام نہیں چل سکتا۔ پس اگر انسان نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ بدنظمی کا شکار ہو کر تباہ و برباد ہو جائے گا۔

Advertisement

بچوں کے لئے ضروری ہے کہ تربیت کے دوران میں ہی ان کے دلوں میں اسی جذبے کی تعلیم دینی چاہیے تا کہ وہ جوان ہو کر اس جذبے کے تحت اپنے سماج میں کام کریں۔ اور یہ سب کچھ اسکولوں اور کالجوں میں کیا جاسکتا ہے۔ اساتذہ خود بھی اخلاقی اور ہمدردی کا مکمل نمونہ ہوں۔ کسی تعلیمی ادارے میں سینکڑوں بچوں کا ایک مدت تک باہمی میل جول سے رہنا رفتہ رفتہ ان کے دلوں میں ضرور ہمدردی پیدا کرسکتا ہے۔

Advertisement

مذہب میں بھی ہمیں تاکید کے ساتھ ہمدردی کا حکم دیا گیا ہے۔ مذہبی کتابوں میں ہمدردی کے بارے میں بہت کچھ بتایا گیا ہے۔ یوں تو ہمدردی ہر انسان کے دل میں موجود ہو مگر امیر اور دولت مند لوگوں کے دلوں میں اس جذبے کا ہونا بہت ضروری ہے۔ صحت عامہ، غریبوں کی امداد، بیواؤں کی پینشن، معذور لوگوں کا وظیفہ، تباہ حال لوگوں کی بحالی غرض ان لوگوں کی ہمدردیاں ملک اور قوم کی ترقی اور بہبودی میں بڑا زبردست دخل رکھتی ہیں۔

حکومت کی ہمدردی بھی اپنی رعایا کے ساتھ بے حد ضروری ہے۔ ہمدردیاں بہت سی صورتوں میں کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً روپے پیسے سے، زبان سے، جسمانی امداد سے، قلم سے، اور دیگر ذرائع سے۔ ایک بھوکے جانور کو ایک لقمہ روٹی یا پیاسے جانور کو دو گھونٹ پانی پلانا بھی ہمدردی کے دائرے میں آتا ہے۔اس لئے وہی انسان، انسان کہنے کے لائق ہے جس کے دل میں دوسرے انسان کے لئے ہمدردی ہو۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement