‘وقت کی پابندی’ پر مضمون

اگر آج ہمارے ہاتھ سے دولت نکل جائے توکل کو واپس بھی آ سکتی ہے۔اگر کل کو ہمارا کوئی دوست روٹھ جائے تو پرسوں اسے منایا بھی جاسکتا ہے۔اگر اس سال ایک مکان زمین پر گر پڑے تو اگلے برس اس کی تعمیر بھی ہو سکتی ہے۔اگر ان دنوں ہماری صحت جواب دینے لگے تو آنے والے ایام میں اس نقصان کو پورا بھی کیا جا سکتا ہے۔لیکن وقت کا خزانہ وہ بیش قیمت خزانہ ہے کہ اگر ایک بار ہاتھ سے نکل گیا دنیا بھر کی دولتیں اسے واپس نہیں لا سکتیں۔وقت کا ایک لمحہ ہزاروں لاکھوں اشرفیوں سے بڑھ چڑھ کر قیمت رکھتا ہے۔اس کے سامنے ہر قیمتی چیز خاک کے برابر بھی وقعت نہیں رکھتی۔جلیل القدر بادشاہ سکندر اعظم نے مرتے وقت یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر مجھے چند منٹ اور زندہ رہنے کی مہلت مل جاے تو اس کے بدلے میں تمام سلطنت قربان کرنے کو تیار ہوں۔مگر دنیا کی کوئی طاقت اس کی خواہش کو پورا نہ کرسکی ۔فلسفی حیران تھے وزیر دم بخود رہ گئے۔امیر بے بس تھے۔ مشیروں کو کوئی چارہ نہ سوجھا۔ وقت کے سامنے کسی کی پیش نہ گئی۔


‌اسی حقیقت کی روشنی میں داناؤں نے ہمیں وقت کی قدر کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے تلقین کی کہ ہم ہر کام میں وقت کے پابند رہیں۔ بے کار اور بے فائدہ کام کرنے میں ایک لمحہ بھی اکارت نہ جانے دیں۔قانون قدرت ہمیں قدم قدم پر پابندی وقت کا سبق سکھاتا ہے۔سورج کو دیکھو وقت پر طلوع ہوتا ہے اور وقت پر ڈو بتا ہے۔ زمین کو دیکھو کس باقاعدگی کے ساتھ اپنے محور اور سورج کے گرد گھومتی ہے۔اگر وہ اس گردش میں ذرا بھی لغزش کھا جائے تو دنیا میں قیامت بپا ہو جائے۔ فصلیںں موسموں کے مطابق وقت پر اگتی اور پکتی ہیں اگر ان کے اوقات میں خلل واقع ہو جائے تو دنیا بھوکی مر جائے۔ یہی حال انسانوں اور قوموں کا ہے۔ جو انسان وقت کی قدر نہیں کرتا وہ ذلیل و خوار ہو کر مرتا ہے اس سے کسی کو کامیابی نہیں ہو سکتی۔ جو قوم وقت اور موقعہ کو غنمیت نہیں جانتی وہ دنیا میں پچھڑ جاتی ہے۔
زندگی چند روزہ ہے۔اس لئے وقت کی قدر اور بھی زیادہ ہونی چاہیے اور اس مختصر زندگی میں ایک لحمہ بھی ضایع نہ کرنا چاہیے۔جو لوگ وقت کی قدر کرتے ہیں وہ ہر کام جلدی سے جلدی انجام دیتے ہیں اور کھبی بھی وقت کی کمی کی شکایت نہیں کرتے۔ ان کے تمام کام عین وقت پر یا اس سے پہلے ہی پورے ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو آدمی سست اور غافل ہوتا ہے اس کا وقت یوں ہی گذر جاتا ہے اور وہ کوئی کام وقت پر نہیں کر سکتا اس لیے اس کے کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور وہ نا کام و نامراد ہو کر کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے۔ وقت کی پابندی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم اپنے وقت کو سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق صرف کریں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں کا وقت بھی ضایع نہ کریں۔

وقت کا پابند رہنے کی عادت بچپن ہی میں ڈالنا ضروری ہے۔چھوٹی عمر میں جو بری عادتیں پڑ جاتی ہیں وہ جوانی اور بڑھاپے میں بھی قائم رہتی ہیں اور مرتے دم تک ساتھ نہیں چھوڑتیں ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اس لیے بچپن میں ہی اچھی عادتیں پختہ ہونی چاہیئے ہر کام وقت پر کرنے کی عادت بہت اچھی اور مفید عادت ہے اس لیے زندگی کے اوائل میں ہی اسے ڈالنا اور پختہ کر لینا چاہیے اس سے ساری زندگی عیش و سکون کے ساتھ گزرے گی۔ کامیابی قدم چومے گی وقت پر سونا، وقت پر جاگنا، وقت پر کھانا پینا، وقت پر بیٹھنا، وقت پر کھیلنا غرض ہر کام مناسب وقت پر سر انجام دینا وہ اکسیر ہے کہ کوڑیوں کے مول حاصل ہو سکتی ہے لیکن خزانوں کے عوض بھی ہاتھ سے نہیں جانے دینی چاہیے۔ گاڑی چلنے سے ایک گھنٹہ پہلے سٹیشن پر جا کر بیٹھا رہنا گویاقیمتی وقت کو مٹی میں ملانا ہے ۔امتحان کے کمرے میں چند منٹ دیر سے پہنچے تو ‏سال بھر کی محنت پر پانی پھر گیا۔ اگر صحت، ترقی، شہرت، عزت اور سب سے بڑھ کر کیریکٹرکی نعمتوں سے مالامال ہونے کی آرزو ہے تو ہر حال میں وقت کے پابند رہو۔نیلسن کے کلمات قابل ذکر ہیں "ہر کام وقت مقررہ پر کرنے کو تیار رہو” اگر آج کا کام کل پر ڈال دو اور کل کا فرض اٹھا کر پرسوں پر ٹال دیا تو پرسوں کا معاملہ ترسوں پر جا پڑے گا اور تم ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے اور پھر کل کس نے دیکھا ہے۔

دانا ہو یا نادان! وقت سب کے لیے برابر ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نادان نہیں جانتا کہ اسے کہاں لگائے۔لہذا وقت اس کے لیے وبال بن جاتاہے۔دانا وقت کے لمحے لمحے سے فائدہ اٹھاتا ہے اور مصروف رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دانا اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں کہ قیامت تک ان کا نام زندہ رہے گا۔افلاطون اور ارسطو، گوتم اور ویاس،سکندر اور نپولین، اور دیگر اہل کمال کے کارناموں پر ہمیں حیرت ہوتی ہے۔ان لوگوں کا سال بھی بارہ مہینے کا اور دن چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔ان کی ناموری اور عظمت کا راز کیا تھا ؟پابندئ
وقت….

Close