کبڈی پر ایک مضمون

کبڈی ہندوستان کا ایک قومی کھیل ہے ۔یہ واقعی ایک دلچسپ کھیل ہے۔ اس کے کھلاڑی کو ہر وقت چوکنا رہنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لیے بھی خود ہی فکر مند رہ کر بچاؤ کا طریقہ سوچنا پڑتا ہے۔ یہ کھیل ہر موسم میں کھیلا جاتا ہے۔ گرمی اور برسات کے موسم میں شام کے وقت یہ کھیل بہت لطف دیتا ہے۔ جب دوڑتے ہوئے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بدن کو لگتی ہے تو طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔

کبڈی کے کھیل کے لیے کسی خاص سازوسامان یا اہتمام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دیہاتی بچے اور نوجوان پچھلے پہر کسی کھلے میدان میں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ کھیل میں حصہ لینے والے برابر کھلاڑیوں کی دو ٹولیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ درمیان میں ایک ایک لکیر کھینچی جاتی ہے اسے "پالا”کہا جاتا ہے۔ اس لکیر کے دونوں سروں پر اینٹیں یا کچھ نشان رکھ دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ کھیل شروع ہو جاتا ہے۔

دونوں ٹیموں کے کھلاڑی اس درمیانی لکیر کے دونوں طرف دائرہ بناتے ہوئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایک ٹیم کا ایک کھلاڑی لکیر سے اندر آ کر کبڈی کبڈی کہتا ہوا مخالف ٹیم کی طرف جاتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ کسی کھلاڑی کو چھو کر ایک سانس ہی میں واپس آجائے۔ راستہ میں کہیں دم نہ ٹوٹے۔ اس طرف کے کھلاڑی یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اسے پکڑ لے اور ایک ہی سانس میں اسے واپس جانے نہ دے۔

جب سانس ٹوٹ جاتا ہے تو کھلاڑی ہار جاتا ہے۔ کھیل کی زبان میں کہا جاتا ہے کہ یہ کھلاڑی مر گیا ہے۔ اگر وہ واپس آجائے تو پھر جس کھلاڑی کو اس نے چھوا تھا، مرا ہوا کھلاڑی کہتے ہیں۔ جس ٹیم کے سارے کھلاڑی پہلے مر جائیں وہ ٹیم ہار جاتی ہے۔ مرا ہوا کھلاڑی کھیل میں واپس حصہ نہیں لے سکتا جب تک مخالف ٹیم کا کوئی کھلاڑی مر نہ جائے۔

آج کل اس کھیل کے میں کافی اصلاح کردی گئی ہے۔ اب اس میں کھلاڑی مرتے نہیں بلکہ ہار جیت کا فیصلہ پوائنٹس کے ذریعے کرتے ہیں۔ جس ٹیم کے پوائنٹس زیادہ ہوتے ہیں وہ ٹیم جیت جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ لمبی کبڈی بھی کھیلتے ہیں۔ اس میں کھلاڑی مخالف ٹیم کے کھلاڑی کو چھو کر ایک ہی سانس میں واپس آجاتا ہے۔ مخالف ٹیم اسے پکڑنے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اس سے دور بھاگتی ہے تاکہ وہ انہیں چھو نہ لے۔

شہری نوجوان کافی مدت تک اس کھیل کا مذاق اڑاتے رہے۔ اسے گنواروں کا کھیل کہتے رہے لیکن جب تک محکمہ تعلیم نے اس کھیل کو اپنایا اور اسکول کے دوسرے کھیلوں کے ساتھ اس کے بھی باقاعدہ مقابلے شروع ہوئے تو شہری نوجوانوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کردیا۔ اب یہ کھیل دیہات اور شہر میں یکساں دلچسپی سے کھیلا جاتا ہے۔

کبڈی کا کھیل پرانے زمانے کی لڑائیوں کا سماں پیش کرتا ہے۔ اس دور میں جنگ لڑنے کا یہی انداز تھا۔ ایک جواں مرد میدان میں اترتا تھا اور اپنے حریف کو للکارتا تھا۔ دست بدست لڑائی شروع ہو جاتی۔ کبڈی کے کھیل میں جسمانی طاقت کو بہت دخل ہے۔ مضبوط ہاتھ پاؤں، چوڑا چکلا سینا، ورزشی جسم، تیز دوڑنا، سانس روکنے کی مشق اور ہارجیت کا فیصلہ، یہ سب کبڈی کے اچھے کھلاڑیوں کی خصوصیات ہیں۔

اس کھیل سے مقابلہ کرنے کی مشق ہوتی ہے۔ سینہ اور پھیپھڑوں کو تقویت ملتی ہے۔ پسینہ آنے سے بدن کھل جاتا ہے۔ پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔انہی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے کبڈی کا کھیل انسانی جسم کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہے۔

Close