خواب پر ایک مضمون

عالم خواب کی کس نے سیر نہیں کی۔ یہ بھی ایک عجیب دنیا ہے، زمان و مکاں کی حدود سے دور،بہت دور۔وقت اور فاصلہ کا یہاں واسطہ نہیں، گھنٹے لمحوں میںں سال گھنٹوں میں سمٹ جاتے ہیں۔زمین و آسمان کے قلابے یہیں ملتے ہیں، ہوائی قلعے یہیں تعمیر ہوتے ہیں۔ جو خواہشں دن کو پوری نہ ہوتی ہو یہاں پوری ہوتی ہے۔ادھورا کام یہاں تمام ہوتا ہے۔کوڑی کوڑی کے محتاج کو یہاں قدم رکھتے ہی قارون کا خزانہ مل جاتا ہے۔بھوک سے بیتاب بکھاری یہاں شاہانہ ضیافتیں اڑاتا ہے۔دشمن سے انتقام لینے کا موقع یہیں میسر آتا ہے۔محبوب کی فرقت میں تڑپنے والے کو اس جگہ وصال نصیب ہوتا ہے۔حسرت مسرت میں اور تکلیف راحت میں بدل جاتی ہے۔ یہاں ہر مراد بر آتی ہے۔؀

قفل در مراد سب ایک بار کھل گئے۔

قصہء مختصر اہل اسلام کی بہشث اور ہندوؤں کے سؤرگ کی زیارت یہیں ممکن ہے اور لطف یہ کہ واقعات کی کڑیاں بلکل الگ تھلگ ہونے پر بھی مربوط اور مثلث نظر آتی ہیں۔ایک واقعہ کا دوسرے سے قطعاً تعلق نہیں ہوتا مگر عقل پر ایسا پردہ پڑ جاتا ہے کہ رتی بھر شک نہیں ہوتا۔مہمل حادثات اور لغو معاملات حقیقت کا جامہ اوڑ لیتے ہیں۔سچ اور جھوٹ کا امتیاز مٹ جاتا ہے، حق و باطل کی تعمیر نہیں رہتی مگر یہ سب کچھ حقیقتوں کا ایک عارضی مذاق ہوتا ہے۔؀

جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا۔

ایک رات میں میٹھی نیند میں محو تھا۔ یکایک کان میں کھٹ کھٹ کی آواز پڑی۔چونک پڑا، اٹھا، کھڑکی سے جھانکا، کیا دیکھتا ہوں، ایک دیوہیکل انسان سیاہ لباس اوڑھے دروازے پر کھڑا ہے۔اس کے بال لمبے لمبے اور کالے رنگ کے ہیں، آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی ہیں، دانت موتیوں کی مانند چمک رہے ہیں۔ایک ہاتھ میں گرز اور دوسرے میں تلوار ہے، سہم گیا، لوٹنے لگا، مگر اس سے آنکھیں چار ہو چکی تھیں۔ بولا! "ڈرتے کیوں ہو؟ میں دیولوک سے آیا ہوں، تمہاری دنیا میں ظلم و جور کا دور دورہ ہے۔بدی اور گناہ کا غلبہ ہے، حرام خوروں، بدمعاشوں، بلیک مارکیٹوں اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے آیا ہوں۔ تم میں اگر ذرہ بھر بھی نیکی ہے تو میری مدد کرو،اور بدکرداروں کی فہرست مرتب کرو جو تمہاری گلی میں رہتے ہیں،یا جنہیں تم جانتے ہو”
یہ سن کر میں دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ کئی دشمنوں سے بدلہ لینے کا خیال آیا، کاغذ پینسل لی اور لگا لکھنے”رام چندر مکان نمبر 57 وارڈ نمبر 3 امرتسر، غلام رسول گلی ہری سنگھ جموں، شیام سندر کوارڈ نمبر 5 ھیلٹ نگر کانپور۔دیو بولا "جلدی کرو باقی نام پھر سہی، نیچے آو ،پالکی تیار ہے” پالکی میں بیٹھنے کی دیر تھی۔ یہ جا۔ وہ جا۔ ایک ہی لمحے میں ہم امرتسر پہنچ گئے۔رام چندر کے مکان پر دستک دی، وہ سیڑھیوں سے نیچے اتر آیا، دیو نے اس کے سر پر جادو کی چھڑی رکھی اور وہ فوراً گدھے کی صورت میں منتقل ہوگیا۔گھر والے اس کے منتظر تھے نیچے آئے تو گدھا ہنہناتا ہوا ان پر چڑھ دوڑا۔وہ اپنے بیٹوں سے بغل گیر ہونا چاہتا تھا۔سب ڈر کر اوپر چلے گئے۔
وہاں سے لوٹ کر پالکی میں سوار ہوئے، دو منٹ میں جموں پہنچ گئے۔غلام رسول کا دروازہ کھٹکھٹایا وہ باہر نکلا۔جادو کی چھڑی اس کے سر پر رکھی گئی،وہ فوراً سامپ بن گیا۔رینگتا ہوا اندر چلا گیا نیند میں محو بیٹے سے لپٹ گیا اور انہیں چومنے لگا،زہر نے اثر کیا اور وہ موت کی نیند سو گئے۔
دیو بولا”اب میں دیولوگ کو جانا چاہتا ہوں۔مانگو کیا مانگتے ہو؟ میں نے عرض کیا۔ میری والدہ سیروسیاحت کی شوقین ہیں،اگر یہ پالکی مجھے مل جائے تو عین عنایت ہوگی۔دیو نے پالکی میرے حوالے کی اور خود غائب ہو گیا۔میں پالکی میں بیٹھ کر گھر واپس آ گیا، والدہ محترمہ کو جگایا اور سارا ماجرا سنایا۔وہ بہت خوش ہوئیں، بولیں” تمہارے بھائی اکرم کا کئی دنوں سے خط نہیں آیا۔لگے ہاتھوں انگلینڈ جا کر اس سے مل آیئں” پالکی کا بٹن دبایا اور آنکھ کی ایک ہی جھپک میں ہم لندن کی فضاؤں پر اڑنے لگے۔جس ہوٹل میں بھائی صاحب مقیم تھے اس کے صحن پر اتر پڑے۔ دربان نے پوچھا” کون؟ اتنی رات گئے کیوں آئے؟ میں نے کہا” اکرم بھائی سے ملنے کو آئے ہیں”اس کے کمرے کے باہر گھنٹی لگی تھی، بٹن دبایا، اکرم کی آنکھ کھل گئی، ہمیں دیکھ کر بہت حیران ہوا۔مگر حقیقت بیان کرنے پر خوشی سے پھولے نہ سمایا۔اب پڑھنے پڑھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اسی پالکی سے تجارت کریں گے۔چند ہی دنوں میں ہاتھ رنگ لیں گے۔ سب کی صلاح یہ ٹھہری کےاب سیدھے امریکہ چلیں۔بس واشنگٹن پر پرواز کرنے لگے، اترتے ہوئے ایک بجلی کے کھمبے سے پالکی کی ٹکر ہو گئی۔جھٹکا سا لگا اور میں نے چھلانگ لگا دی، زمین پر سر کے بل گرا، سخت چوٹ آئی،لگا رونے اور چلانے” ہائے ماں! ہائے ابا!” اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔یہ سب دیکھ کر بے اختیار ہنسی آئی کہ؀

وہی ہے چارپائی اور میں ہوں۔۔۔

Close