سائنس کے فوائد

موجودہ زمانہ سائنس کا دور ہے اور زندگی میں ماشین کو بڑا دخل حاصل ہے۔سائنس کی ایجادات نے زندگی کو آرام دہ اور سہل بنا دیا ہے۔تہذیب نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی ہے۔بین الاقوامی رابطہ بہت بڑھ گیا ہے۔ اس میل جول سے ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی اور بنی نوح انسان ایک ہی حکومت کے تحت بھائی بھائی بن کر رہیں گے۔انجمن اقوام متحدہ کے ساتھ انسانیت کی امیدیں وابستہ ہیں۔

سائنس نے زندگی کے ہر شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔مثال کے طور پر آمدورفت اور بار بربادی کے وسائل کو لیجئے۔بھاپ کے انجن کی ایجاد سے ریلوے گاڑی وجود میں آئی اور دخانی جہاز سمندر کی سطح پر چلنے لگے۔اس سے زمینی اور سمندری سفر آسان، تیز اور بے خطر ہو گیا۔قدیم زمانے میں ایک ہزار میل کی مسافت طے کرنے میں مہینے صرف ہوجاتے تھے۔آج یہ گاڑی سے تین چار دن کا سفر ہے اور ہوائی جہاز سے صرف 3 گھنٹے کا۔

اس کے علاوہ پرانے زمانے میں سفر کرنا خطرے سے خالی نہ تھا۔ہوائی جہاز نے تو اور بھی غضب ڈھایا ہے یہ بڑی تیز رفتاری کے ساتھ پہاڑوں، دریاؤں اور سمندروں کے اوپر سے گزر جاتا ہے۔کوئی مشکل اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔اب آپ صبح کا کھانا ہندوستان یا پاکستان میں کھا کر ہوائی جہاز پر سوار ہوجائیں تو رات کا کھانا امریکہ میں کھا سکتے ہیں۔آپ دنیا میں کسی نعمت کا نام لیں تو وہ تازہ بتازہ آپ کو گھر بیٹھے مل جائے گی۔ہزاروں میلوں سے ایک ملک کی چیزیں دوسرے ملک میں پہنچ رہی ہیں۔اب ہر ملک میں ریل گاڑیوں، بسوں، گاڑیوں، کاروں کا تانتا بندھا رہتا ہے جابجا سڑکوں اور ریلوے کا جال بچھا ہوا ہے۔

سائیکل بھی ایک عجیب مگر سستی اور مفید ایجاد ہے۔گاؤں گاؤں میں سائیکل دوڑتے دکھائی دیتے ہیں اس سے گھوڑوں اور بیل گاڑیوں کا کام لیا جا رہا ہے۔اس پر دو دو تین تین سواریاں بیٹھ جاتی ہیں۔دو دو تین تین من بوجھ لاد دیا جاتا ہے۔پھر ترا یہ کہ یہ لوہے کا گھوڑا نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے۔اسے نہ پٹرول کی ضرورت ہے نہ بھاپ بجلی کی۔پاؤں ہلانے کی دیر ہے، یہ جا وہ جا نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔کیا شہر اور کیا گاؤں سب جگہ غریب لوگ اور متوسط طبقہ کے افراد اسی گھوڑے کی سواری کرتے ہیں۔اسے کسی اصطبل کی ضرورت نہیں۔نیچے رکھو، چھت پر چڑھا دو یا جہاں چاہو لے جاؤ۔

ایک اور حیرت انگیز ایجاد ٹیلیفون ہے۔اس پر آپ کسی دوست یا رشتہ دار سے باتیں کر سکتے ہیں جو ہزاروں میل دور رہتا ہے۔ریڈیو ایک اور قابل ذکر ایجاد ہے اس کے فیض سے آپ دنیا کے گوشے گوشے سے لوگوں کی تقریریں یا گانے وغیرہ سن سکتے ہیں۔ٹیلی ویژن اس کو بھی مات کر گئی ہے۔اس کے طفیل گھر بیٹھے اور دور دراز کی تقریریں اور گانے وغیرہ سن اور دیکھ سکتے ہیں۔درحقیقت آج کی دنیا میں فاصلہ مٹ گیا ہے یا یوں کہیے کہ دنیا سمٹ گئی ہے اور اس کا کوئی گوشہ انسانی رسائی سے باہر نہیں رہا۔

دوربین بھی کمال کا آلہ ہے اس سے لاکھوں میل دور کے ستاروں کو بھی ہم دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جہاز دانوں، فوجیوں اور منجموں کے لیے بڑی کام کی چیز ہے۔خردبین ایک اور فائدہ مند ایجاد ہے اس کی مدد سے ہم نہایت چھوٹی چھوٹی چیزیں دیکھ سکتے ہیں جو ہمیں آنکھوں سے نظر نہیں آتیں۔یہ ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کے لیے بڑی مفید اور کار آمد ہے۔ایکسرے بھی ایک عجیب چیز ہے۔اس سے طبی دنیا میں ایک انقلاب پیدا ہو گیا ہے۔اس کی مدد سے ہم جسم کے اندر کی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔اگر کسی کے جسم میں سوئی چبھ کر بہت اندر چلی جائے تو وہ بھی ایکسرے سے نظر آجائے گی اور آپریشن سے نکال دی جائے گی۔

سائنس نے بیماریوں کے قلع قمع کرنے اور لوگوں کے دکھ دور کرنے میں بڑا کام کیا ہے۔ہیضہ، پلیگ، موسمی بہار، چیچک وغیرہ جب وبا بن کر پھیرتے تھے تو ہزاروں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن جاتے تھے۔آج سائنس کی برکت سے یہ وبائیں کافور ہوگئیں ہیں اور اگر رونما بھی ہوتی ہیں تو فوراً ان پر قابو پا لیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اموات انسانی کی شرح کم ہوگئی ہے اور انسان کی اوسط عمر بڑھ گئی ہے۔

سائنس نے انسان کو تفریح طبع کے سامان بھی کثرت سے میسر کیے ہیں۔سینما ایک سستہ اور عام دل لگی کا وسیلہ ہے۔غریب لوگ بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور امیر بھی۔اس سے تعلیم بچگاں میں بھی مدد ملتی ہے۔ریفریجیٹر بھی کمال کی ایجاد ہے۔اس سے گوشت، انڈے، پھل، سبزی وغیرہ کئی دن تک باسی نہیں ہوتے نہ ہی سڑتے گلتے ہیں اور تازہ بتازہ رہتے ہیں۔گرمی کے موسم میں اس سے 24 گھنٹے ٹھنڈا پانی حاصل کر سکتے ہیں۔دوائیاں بھی ان میں رکھی جاتی ہیں جو مہینوں خراب نہیں ہوتیں۔

اب ایک اور عقل کو دنگ کرنے والی ایجاد ہوئی ہے۔وہ ہے خلائی جہاز اور راکیٹ۔خلائی جہاز میں بیٹھ کر امریکہ کے خلاباز چاند کی بھی سیر کر آے ہیں جو یہاں سے ڈھائی لاکھ میل دور ہے۔تاریخ عالم میں انسان نے پہلی بار چاند کی سرزمین پر قدم رکھا ہے۔ان ایجادو‌ں کی کوئی انتہاء نہیں ایک سے بڑھ چڑھ کر ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج سائنس نے دنیا بھر میں ایک انقلاب برپا کردیا ہے۔اور دن بدن اس میدان میں ترقی ہوتی جارہی ہے۔



Close